اُٹھئے ،جاگئے اور جگائیے!!!

243

اوہو، اوہو ،اوہو وہ ڈیڑھ پسلی کی ستاوانسی آصفہ بھٹو بھی میدان میں کود پڑیں۔ فرماتی ہیں ’’ہم نے پاکستان کی جمہوریت کے لئے بڑی قربانیاں دی ہیں‘‘ واہ بھئی واہ بھئی واہ، بھٹو صاحب نے اپنے کرتوتوں کی سزا پائی یعنی تمہارے نانا صاحب ،تمہاری ماں کو تمہارے باپ نے مروادیا۔ اقتدار کی خاطرتمہارے دادا قائداعظم محمد علی جناحؒ کے لئے جو الفاظ استعمال کرتے رہے وہ ناقابل تحریر ہیں تو بی بی بتائو کون سے محاذ پر تمہارے خاندان والے جا کر لڑے اور شہید ہوئے؟ ویسے قومی خزانے کے خرچ پر تم نے ان کا شاندار مقبرہ تعمیر کر دیا۔ کیا تم بھول گئیں پاکستان کو اپنے مفاد کے لئے اپنے اقتدار کی خاطر کس نے دولخت کیا؟ تمہارے والد نے کس طرح قومی خزانے پر سنید لگائی سرکاری زمینوں پر قبضے کروائے اور عزیز بلوچ ابھی زندہ ہے اوروہ آپ کا بہادر بچہ انوار کہاں روپوش ہے؟ تمہارے باپ کا دوست ریاض ملک اب تک لوٹ مار میں مصروف ہے۔ ڈاکوئوں کی کتنی فوج ان کی دسترس میں ہے۔ بھوکے ننگے معصوم عوام بھول بھی جائیں تو تاریخ یاد رکھے گی۔ تمہاری سرپرستی میں کتنے بچے بھوک سے مر گئے، کتنوں کو کتے نے چبا لیا اور تمہیں کتوں کی موت پر بڑا صدمہ ہوتا ہے۔!!
سندھ کے ترقیاتی فنڈ کا پیسہ کہاں گیا؟ کیا سب بختاور کے جہیز میں دے دیا۔ ’’بلاول ہائوس‘‘ جو کہ ایک قلعہ ہے کیسے بنا؟ قرب و جوار کے فلیٹ، ریسٹورینٹس کس طرح ہتھیائے گئے، سندھ کے ہاری کمی کمین مچھر مکھی کی طرح مار دئیے گئے اور کتنے سسک رہے ہیں۔ گٹر کا پانی پی رہے ہیں۔ ان کے بچے گندے نالوں میں ڈوب کر مررہے ہیں۔ ان کا خون تمہاری دولت کی آبیاری کررہا ہے۔ تمہاری شوگر ملوں کے لئے ننگا، بھوکا، گنے اگارہا ہے۔ دریائے سندھ کے کنارے جو دنیا کی بہترین کپاس کاشت ہوتی ہے اس کی اراضی کہاں گئی؟ باسمتی چاول کی نایاب فصل نایاب ہو گئی جنہوں نے ہل چلا کر تمہیں اناج دیا وہی پیٹ پر پتھر باندھ کر راہی عدم ہوئے۔ ان کی اولادیں اب بھی تمہارے پاس یرغمال ہیں۔ تمہاری نجی جیلیں، خونخوار کتے۔ آہ کون لکھے گا یہ تاریخ۔؟؟
دوسری وہ کمہاروں سے لوہاروں کی وہ اولاد جس کا چچا( شوباز) کہتا ہے مجھے فخر ہے کہ میں ایک کسان کا بیٹا ہوں۔ قومی اسمبلی میں بیان دیا۔ بھتیجی جسے لوگ کیلبری فونٹ کوئین بھی کہتے ہیں اس کالم کی پھولن دیوی! دختر بداخترمریم نواز ڈاکو فرماتی ہیں میرے دادا کی بڑی جائیدادیں تھیں۔ بڑا کاروبار تھا جبکہ بھٹو کے صنعتی قومیانے کے بعد اس کے ’’بائوجی‘‘ نے ہاتھ جھاڑ دئیے تھے کہ کچھ نہیں رہا، تو یہ سب کہاں سے برسا؟ سزا یافتہ ہے، ضمانت، غیر معینہ پر رِہا ہے۔ عورت کا تقدس برقرار رکھنے کے لئے اسے جیل میں نہیں رکھاگیا تو کیا وہ جو عورتیں جیل کاٹ رہی ہیں وہ کون سی مخلوق ہیں؟ وہ عورتیں نہیں ہیں؟
کشمیرالیکشن میں جو یہ جھوٹی مکار عورت تقریر کررہی ہے بغض عمران میں چہرے پر جو سیاسی پھٹکار برس رہی ہے وہ اس بات کی گواہ ہے کہ اقتدار جانے کا اسے کتنا صدمہ ہے اور یہ کس طرح اس پر اپنے باپ کا قبضہ چاہتی ہے۔ باپ تو باپ ہے بیٹی شیطان پر بھی سبقت لے گئی۔ اتنے جھوٹ بول رہی ہے اور کتنی ڈھٹائی سے یہ جانتے بوجھتے کہ ان کے سارے کرتوت عوام میں تشت ازبام ہو چکے ہیں۔
عوام سے سوال ہے کیا تمہیں اپنے قائد سے محبت نہیں؟ کیا یہ تحفہ جو پاکستان کی صورت میں تمہیں دے گیا، اپنی نتھک محبت ،اپنی محبتوں کو بھی چھوڑ دیا۔ ذات کو بھول کر صرف تمہارے تحفظ کو مدنظر رکھا، بیماری کو چھپایا، جسم پگھلتا رہا لیکن وہ آہنی دیوار بنا کھڑا رہا اور جو کچھ چاہا حاصل کر کے تمہیں سونپ دیا۔ پاکستان محمد علی جناح کی ایک بیش قیمت امانت ہے جس کی حفاظت تمہاری ذمہ داری ہے۔ اُن شہیدوں کے خون کو مت بھولو جنہوں نے اس کے دفاع کے لئے جانوں کا نذرانہ دیا۔ مادر وطن کی مٹی کو اپنے خون سے سیراب کیا۔ آزادی بہت بڑی نعمت ہے۔ اٹھو! جاگو اور جگائو۔ پر امن احتجاج کرو، عدالتوں کے غلط فیصلوں پر ان کا گھیرائو کرو، یہ غیر قانونی ضمانتیں، یہ پروڈکشن آرڈر پر سوال کرو، یہ پھولن دیوی ضمانت پررِہا ہے تو یہ ہر جگہ جلسے جلوس کیوں کرتی پھررہی ہے، اس کی ضمانت معطل کرو، تمہیں کس کا خوف ہے ؟صرف اپنے خدا سے ڈرو، اس نے بھی تمہیں اپنے وطن سے محبت کا حکم دیا ہے۔
عوام خواب غفلت سے بیدار ہوں، بھیڑ چال چلنا چھوڑ دیں، بھیڑ کے ریوڑ کے لئے مشہور ہے کہ اگرانکے راستے میں ایک رستی تان دی جائے تو جو ایک بھیڑ اسکو پھلانگ کر جائے گی تو ساری بھیڑیں اس رسی کو پھلانگتی ہوئی گزریں گے اگر وہ رسی ہٹا بھی دی جائے تو بھیڑیں اس طرح پھلانگیں گی جیسے رسی جب تنی ہوئی تھی ویسے ہی۔ ان کے پاس اتنی عقل نہیں ہوتی کہ وہ یہ جان لیں کہ رسی ہٹ گئی ہے تو سیدے راستہ طے کریں۔ اسی طرح ہمارے عوام بھی الیکشن کے وقت شخصیتوں سے متاثر ہو کر ووٹ ڈالتے ہیں، کچھ کو اپنا مفاد نظر آتا ہے (جو کہ فریب نظر ہے) سیاستدانوں کی چکنی چوپڑی باتوں میں آ کر ووٹ ڈالتے ہیں کچھ لوگ جو وڈیروں کی رعیت ہیں ان کے دبائو میں آتے ہیں ورنہ ان کے پورے خاندان کو تباہ کرنے کی دھمکیاں مل جاتی ہیں۔ جہالت کی بیماری نے لٹیا ڈبو دی ہے۔ اٹھیئے جاگئے اور جگائیے، ورنہ کف افسوس ملنے کے سوا کچھ نہ بچے گا۔