بھارتی امیروں کی پھیلائی ہوئی آلودگی سے غریب بیمار ہورہے ہیں، تحقیق

94

کنیکٹیکٹ / کینبرا / نئی دہلی: آسٹریلوی، امریکی اور بھارتی ماہرینِ ماحولیات نے ایک تازہ مطالعے میں انکشاف کیا ہے کہ بھارت میں امیر طبقے کی پھیلائی ہوئی آلودگی سے وہاں رہنے والے کروڑوں غریب لوگ نہ صرف بیمار پڑ رہے ہیں بلکہ مر بھی رہے ہیں۔

اس تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ بھارت میں صنعتی پیمانے پر کئی اشیائے صرف تیار ہوتی ہیں مگر ان کے خریداروں کی بھاری اکثریت امیروں اور زیادہ آمدنی والے بالائی متوسط طبقے (اپر مڈل کلاس) سے تعلق رکھتی ہے۔ یہ طبقات آمدورفت کےلیے بھی نجی گاڑیوں کا استعمال کرتے ہوئے زیادہ فی کس آلودگی پیدا کرنے کا باعث بنتے ہیں۔

لبتہ پرائیویٹ ٹرانسپورٹ، خام مال کی فراہمی اور اس پورے صنعتی و ترسیلی عمل سے خارج ہونے والی آلودگی کا خمیازہ اُن غریبوں کو بھگتنا پڑتا ہے جو محدود تر مالی وسائل کے باعث خود کو اس آلودگی کے مضر اثرات سے محفوظ نہیں رکھ پاتے۔

اس تحقیق میں مرکزی توجہ فضا میں لمبے عرصے تک معلق رہنے والے، 2.5 مائیکرومیٹر (یا اس سے کم) جسامت والے ذرّات کی آلودگی پر دی گئی ہے کیونکہ صحت کی خرابی اور اموات میں بھی ان ہی ذرّات کا کردار سب سے نمایاں دیکھا گیا ہے۔

مذکورہ تحقیق سے جہاں یہ معلوم ہوا کہ بھارت کا امیر طبقہ وہاں کی فضائی آلودگی میں سب سے زیادہ ذمہ دار ہے، وہیں یہ بھی پتا چلا کہ آلودگی کی وجہ سے بھارتی غریبوں میں اموات کی شرح امیروں کے مقابلے میں 9 گنا زیادہ ہے۔

ریسرچ جرنل ’’نیچر سسٹین ایبلیٹی‘‘ کے تازہ شمارے میں شائع ہونے والی یہ تحقیق اس لیے بھی منفرد ہے کیونکہ اس میں پہلی بار ماحولیاتی آلودگی کے تناظر میں سماجی ناہمواری کے سنگین مسئلے کو اجاگر کیا گیا ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.