حلق کی ہڈی افغانستان!!

285

بیس برس تک اٖفغانستان میں تباہی اور بربادی مچانے کے بعد امریکی سامراج اور اس کے مغربی اتحادی جس طرح بزدلی کے شرمناک مظاہروں کے بعد افغانستان سے فرار ہورہے ہیں ان پر اصل سیر حاصل تبصرہ تو آنے والا مورخ ہی کرسکے گا لیکن اس موضوع پر مباحث کے بیشمار عنوانات ہیں جن میں سرِ فہرست یہ ہے جن طالبان کی سرکوبی کا نعرہ لگاکر سامراجی افغانستان پر گدوں کی طرح ٹوٹے پڑے تھے وہ آج، بیس برس کی سامراجی یورش کے بعد، اس سے کہیں زیادہ طاقتور اور با اثر ہیں جتنے اس وقت تھے جب نام نہاد تہذیب یافتہ مغربی سامراج نے انہیں اپنا ہدف بنایا تھا۔
جو سبق تاریخ کا مغربی سامراج نے نہیں پڑھا یا پڑھا بھی تو اپنے نشہء طاقت اور بیجا زعم میں اسے در خورِ اعتنا نہیں سمجھا وہ یہ ہے کہ دو ڈھائی ہزار سال کے دوران افغانستان اور اس کے غیور باسیوں نے آج تک کسی حملہ آور کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالے۔ اس سے تاریخ دانوں اور چشمِ بصیرت رکھنے والوں نے یہ سبق سیکھا کہ افغانستان ہر اس طاقتور جنگجو یا سامراجی کارندے کا قبرستان قرار دیا جاسکتا ہے جس نے اس ملک اور اس کے بہادر عوام کو اپنا باجگذار یا غلام بنانے کی کوشش کی۔ تاریخ کا یہی سبق اور یہی پیغام ہے سکندرِ اعظم سے لیکر امریکی طاغوت تک کہ جس نے بھی افغانستان کو تر نوالا جان کر ہڑپ کرجانا چاہا افغانستان اس کے حلق کی ہڈی یا کانٹا بن گیا جسے نہ نگلتے بنے نہ اگلتے۔
تو امریکی سامراج بھی اپنی طاغوتی کوشش میں بری طرح ناکام اور نامراد ہوکر افغانستان سے ذلیل و خوار ہوکے نکل رہا ہے بلکہ نکل چکا ہے لیکن امریکہ کی پسپائی کے نتیجہ میں جو صورتِ حال پیدا ہورہی ہے اس سے نمٹنے اور نبرد آزما ہونے کا بارِ گراں اب افغانستان کے عوام کے ساتھ ساتھ اس کے پڑوسی ممالک کے کاندھوں پر آ گرا ہے۔ ان پڑوسی ممالک میں سرِ فہرست پاکستان ہے۔ سو 1989 کی طرح، جب امریکہ پہلی بار لشتم پشتم افغانستان سے فرار ہوا تھا، ایک بار پھر پاکستان کو اسی صورتِ حال کا سامنا ہے کہ وہ سامراج کے چھوڑے ہوئے کاڑ کباڑ سے کیسے اپنی جان چھڑائے اور کس حکمتِ عملی کو اپنائے تاکہ ایک طرف اس کے اپنے قومی مفادات پر آنچ نہ آئے اور دوسری طرف افغانستان میں ایسی تبدیلی رونما نہ ہو جو پاکستان کی دشواریوں اور مسائل میں اضافہ کرے اور ایک مرتبہ پھر پاکستان کو لاکھوں افغانی مہاجرین کی میزبانی کا بار نہ اٹھانا پڑے۔
پاکستانیوں کیلئے تشفی اور تسلی کی ایک بات تو یہ ہے کہ انہیں عمران خان جیسے بیدار مغز اور بیباک و دیانت دار لیڈر کی رہنمائی حاصل ہے جو مغربی سامراج سے مرعوب نہیں ہوتا۔ یہی سبب ہے کہ عمران نے امریکہ کے اس مطالبہ کو مسترد کردیا کہ وہ پاکستانی فضائیہ کے ہوائی اڈوں کو افغانستان کے خلاف ممکنہ کارروائیوں کیلئے استعمال کرسکے۔ امریکہ کیلئے عمران خان کا دوٹوک اور برملا جواب یقینی طور پر بڑی حیرت اور اچنبھے کی بات رہی ہوگی کیونکہ انہیں تو عادت پڑی ہوئی تھی نواز شریف، زرداری اور جنرل مشرف جیسے ملت فروشوں کی کہ جو ایک ٹیلی فون کال پر اپنے امریکی آقاؤں کے سامنے سجدہ میں چلے جاتے تھے۔ تو اب امریکہ بہادر کھسیانی بلی کی طرح کھمبا نوچنے سے زیادہ اور کچھ کرنے سے قاصر ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ صدر بائیڈن عمران سے ناراض ہیں اور ان کی ناراضگی کا ثبوت یہ ہے کہ وہ عمران سے بات کرنے کیلئے اپنے آپ کو آمادہ نہیں کر پارہے۔
لیکن بچھو ڈنک مارنا نہیں چھوڑ سکتا اور چور چوری سے لاکھ جائے ہیرا پھیری سے نہیں جاتا۔ سو امریکہ کی شہ پر اس کے دو سازشی حلیف، بھارت کی نفرت کا پرچار کرنے والی مودی سرکار اور کابل میں کٹھ پتلی اشرف غنی کی حکومت، دونوں اپنے اپنے انداز میں اور اپنے تئیں ہر ممکن کوشش کررہے ہیں کہ پاکستان کیلئے اس صبر آزما مرحلہ پر پریشانی کے سامان پیدا کرتے رہیں۔ سو چند روز پہلے داسو ڈیم کے نزدیک جس بس کو دھماکہ خیز مواد سے اڑایا گیا، اور جس میں نو چینی کارکن ہلاک ہوئے، اس کا ہدف اس کے سوا اور کچھ نہیں تھا کہ پاکستان اور چین کے درمیان شکوک و شبہات کی فضا پیدا کی جائے۔ یاد رہے کہ داسو ڈیم کا منصوبہ بھی ان منصوبوں میں شامل ہے جو چین پاکستان اقتصادی تعاون کے معاہدہ کے تحت تیزی سے ترقی اور تعمیر کے مراحل طے کررہے ہیں۔ چین نے پاکستان کی حکومت سے یہ جائز مطالبہ تو ضرور کیا ہے، جو انہیں کرنا چاہئے تھا، کہ چینی کارکنوں کی حفاظت کے انتظامات کو بہتر بنایا جائے لیکن بھارتی میڈیا کی شر انگیز خبروں کے برعکس چین نے داسو ڈیم پر تعمیراتی کام کو جاری رکھنے کا عہد بھی کیا ہے جو پاکستان کیلئے ایک خوش خبری سے کم نہیں ہے۔
دوسرا اتنا ہی تشویش ناک واقعہ اسلام آباد میں رونما ہوا جس میں افغانستان کے سفیر کی بیٹی کو مبینہ طور پر اس وقت اغوا کیا گیا جب وہ اسلام آباد کے بلیو ایریا میں شاپنگ کے بعد ایک ٹیکسی میں سوار ہوکے اپنے گھر جانا چاہ رہی تھیں۔ افغان بیانیہ کے مطابق سفیر کی دختر کو کئی گھنٹے کے بعد اسلام آباد کے نزدیک ایک جنگل میں چھوڑ دیا گیا۔ الزام یہ بھی ہے کہ اغوا کاروں نے اس لڑکی کو تشددکا نشانہ بھی بنایا۔ لیکن سوشل میڈیا پر جو کہانی تیزی سے گردش کررہی ہے اس کے مطابق سفیر کی بیٹی، جو ایک دو روز پہلے ہی امریکہ سے اسلام آباد پہنچی تھی، شاپنگ کیلئے نہیں بلکہ اپنے ایک بوائے فرینڈ سے ایک ریستوراں میں ملاقات کرنے گئی تھی اور اس کے بعد لڑکا اور لڑکی دونوں ایک ساتھ کئی گھنٹے کیلئے غائب ہوگئے اور بعد میں اس بیانیہ کو ہوا دی گئی کہ لڑکی کو نامعلوم افراد نے اغوا کیا تھا۔
ان دونوں واقعات میں جو عنصر مشترک ہے وہ یہ کہ پاکستان کو شرمندہ اور بدنام کرنے کی مذموم کوشش کی گئی ہے اور ان دونوں کے پیچھے بھارت اور افغانستان کی خفیہ ایجنسیاں حرکت میں دکھائی دیتی ہیں۔بھارت کی خفیہ ایجنسی، را، تو ایک عرصہء دراز سے پاکستان کے مختلف علاقوں میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث رہی ہے، خاص طور سے بلوچستان اس کی دہشت گردی کا ہدف بنا رہا ہے۔ اب جب بھارت کو اپنے امریکی حلیف کے ساتھ ساتھ افغانستان سے اپنا بوریا بستر باندھ کر نکلنا پڑرہا ہے تو را کی کارروائیوں میں اور تندی اور تیزی آرہی ہے۔ اس کے ساتھ کابل کی کٹھ پتلی حکومت کو بھی اپنا انجام نظر آرہا ہے سو وہ بھی، ہر شکست خوردہ کی طرح، مرتے مرتے پاکستان کے خلاف دہشت گردی کی کارروائیاں جتنی کرسکے کرنا چاہ رہا ہے۔ افغانستان کی خفیہ ایجنسی، خاد نام کی، را کے دستِ راست کے طور پر پاکستان کے خلاف دہشت گردی میں پوری طرح شامل رہی ہے اور اسلام آباد میں افغان سفیر کی بیٹی کے مبینہ اغوا کے واقعہ میں بھی خاد کے قدموں کے نشانات خاصے واضح نظر آرہے ہیں۔