افغان سفیر کی بیٹی کا ڈرامہ، یہ بھارتی منصوبہ بندی کا نتیجہ ہے!

322

16جولائی افغانی سفیر کی بیٹی سلسلہ علی خیل اکیلے پیدل گھر سے نکلتی ہے اس کے گھر میں کئی سفارتی گاڑیاں ہیں۔ سرکاری سکیورٹی کا عملہ ہے اصولاً سفارت کار جب بھی پبلک جگہوں پر جاتے ہیں تو وہ وزارت خارجہ کا مطلع کر کے جاتے ہیں تاکہ دفاعی ادارے اور وزارت خارجہ ان کی سکیورٹی کا خیال رکھیں لیکن سلسلہ علی ان اصولوں کو نظر انداز کرتے ہوئے ٹیکسی لے کر کھڑا مارکیٹ آئی پھر دوسری ٹیکسی لے کر روالپنڈی پہنچ گئی پھر وہاں سے دامن کوہ ایک اور ٹیکسی لے کر پہنچ گئی وہ کس کے کہنے پر اس انداز سے نکلی اس کے منصوبے میں کون کون شامل تھا کیوں اس نے ایسا کیا شائد اس کو معلوم نہیں تھا کہ اسلام آباد اور پنڈی مستقل کیمروں سے مانیٹر کیا جاتا ہے۔ دفاعی اداروں اور پولیس کی ذمہ داری کو مدنظر رکھتے ہوئے کیمرے بہت ہی فعال ثابت ہوئے ہیں۔ پھر سوشل میڈیا پر بھارتی منصوبہ سازوں نے ایک طوفان اٹھا دیا، اس کی زخمی حالت اور خون سے بھری تصویریں گردش کرنے لگیں۔ آخر کار افغان سفیر کو اس کی وضاحت کرنی پڑی کہ یہ اس کی بیٹی کی تصویریں نہیں ہیں۔ بھارتی میڈیا کو سارا ڈرامہ پہلے معلوم تھا وہ ہر حال میں بھارت کا منصوبہ کامیاب کراناچاہا تاتھا۔ بھارتی میڈیا نے ہنگامہ مچا دیا لیکن شاباش ہے اسلام آباد پولیس کو اس نے سارے ڈرامہ کا ڈراپ سین دو دن میںپیش کر دیا۔ آئی جی اسلام آباد یقینا کارروائی کرتے ہوئے سچائی کو سامنے لے آئے۔ افغان صورت حال بہت تیزی سے خراب ہوتی چلی جارہی ہے۔ امریکہ کے نکلنے کے بعد طالبان بہت تیزی سے پیش قدمی کرتے چلے جارہے ہیں۔ وہ آہستہ آہستہ پورے افغانستان میں اپنی پوزیشن مستحکم کررہے ہیں بقول ان کے انہوں نے افغانستان کے 85فیصد علاقے پر اپنا کنٹرول حاصل کر چکے ہیں وہ اس پیش قدمی بڑھاتے ہی جارہے ہیں اوراشرف غنی کی حکومت اپنی رٹ کھوتی جارہی ہے۔ اس کے سپاہی اپنی حکومت سے بغاوت کر کے طالبان کے ساتھ شمال ہورہے ہیں۔ اشرف غنی کی حکومت اب محدود ہو کر کابل تک ہی رہ گئی ہے۔فضائیہ اس کی کمزور ترین فضائیہ ہے۔ اس کا پاکستان کی فضائیہ سے کوئی مقابلہ نہیں ہے۔ اسی لئے اشرف غنی کی حکومت نے پاکستان پر الزام لگایا کہ اس کی حکومت کو پاکستان کے دفاعی ادارے غیر مستحکم کررہے ہیں۔ اشرف غنی حکومت اب اپنی آخری سانسیں لے رہی ہے۔ اس نے اپنے آپ کو اس کے لئے تیار کر لیا اس نے فیملی کو پہلے ہی افغانستان سے باہر نکال دیا اس کو یقین ہے کہ شکست اس کا مقدر ہے اس کی حکومت ختم ہونے جارہی ہے۔ اس کے ساتھ بھارت کا بھی اینڈ گیم ہے۔ اس کی ساری انویسٹمنٹ ڈوبنے جارہی ہے۔ اس کا زور اور اثر اب افغانستان میں ختم ہونے جارہا ہے۔ اس کی بنائی ہوئی پارلیمنٹ اس کے خلاف ہی بولے گی اور اس کے خلاف قراردادیں پاس کرے گی۔ افغانستان کی ایک لاکھ زیادہ فوج امریکی ہتھیاروں سے لیس ہونے کے باوجود بھی پچاس ہزار طالبان کا سامنا اور مقابلہ نہیں کر سکیں گے۔ طالبان کے جذبۂ ایمانی کے آگے جب امریکی فوج نہیں ٹھہر سکی تو یہ کرائے کی فوج کیسے ٹھہرے گی۔
اشرف غنی نے ایک تقریب میں پاکستان پر الزام لگایا کہ پاکستان ان کے ملک میں مداخلت کررہا ہے اور ان کی حکومت کو غیرمستحکم کررہا ہے اس نے الزام لگایا کہ اگر پاکستان طالبان کو سپورٹ نہ کرے تو اس کی حکومت کو کوئی نہیں گرا سکتا۔ بعد میں عمران خان نے اشرف غنی کو بھر پور جواب دیا کہ آپ نے جو الزام لگایا وہ غلط ہے۔ پاکستان نے اب دوسری حکومتوں میں مداخلت کرنا بند کردیا ہے۔ پاکستان کو افغانستان سے کوئی دلچسپی نہیں ہے کہ وہ افغانستان کا امن خراب کرے۔ مستحکم افغانستان پاکستان کے مفاد میں ہے۔ پاکستان کے اپنے مسائل ہیں ہم دوسرے ملکوں کے اندرونی معاملات میں مداخلت کرنے کی سوچ نہیں رکھتے۔ اشرف غنی کو اپنے ملک کی خبر رکھنی چاہیے نہ کہ دوسروں پر الزام لگانا چاہیے۔اب افغانستان میں اشرف غنی کی حکومت کا خاتمہ قریب ہے۔ وقت تیزی سے گزررہا ہے۔ افغان طالبان نے ترکی کو بھی دھمکی دی ہے کہ وہ افغانستان سے دور رہے۔ آنے والا وقت مزید افغانستان میں خون خرابہ اور اندرونی جنگ لارہا ہے۔ اللہ افغانیوں کو سکون دے اور وہاں ایک مستحکم حکومت قائم ہو۔