خود کردہ علاج نیست!!

229

ہم پہلے ہی کشمیر اور فلسطین کے مسائل اپنے گلے میں باندھے ستر سال سے گھوم رہے ہیں، ان مسائل نے ہماری قوم کا خون نچوڑ لیا ہے۔ نہ کشمیر کے حصول کے امکانات ہیں اور فلسطین کا مسئلہ اب صرف پاکستان میں ایک نعرے کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔۱۹۶۷ میں سب ہی عرب ممالک کو اسرائیل نے اوقات یاد دلا دی تھی اور اس نے عرب ممالک کی زمینوں پر قبضہ کر لیا تھا، اب وہاں یہودی بستیاں آباد ہیں اور اسرائیل ہر احتجاج مسترد کر چکا ہے، نہ اقوام متحدہ کے کان پر جوں رینگی اور نہ ہی ایک مہجول تنظیم OICکے نام سے بنی تھی وہ کچھ کر سکی، عرب ممالک کو بھی فلسطین سے کوئی غرض ہے ہی نہیں، جب غزہ پر اسرائیل بمباری کرتا ہے تو مسلم ممالک فلسطینی مہاجرین کے لئے اپنی سرحدیں بھی نہیں کھولتے، عوام کو سیاست دانوں نے بیوقوف بنا رکھا ہے اور ان کی جہالت سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ یہ شاطر سیاستدان جانتے ہیں کہ اقوام عالم میں ضمیر نام کی کوئی چیز نہیں ہے اور وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ عالمی طاقتوں کو ان مسائل سے کوئی دلچسپی نہیں ، مگر اس کے باوجود ہمارے سراج الحق تو کئی بار اپنے جلسوں،جلوسوں اور تقاریر سے کشمیر فتح کرچکے ہیں اور فلسطین کو کئی بار آزاد کراچکے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ ان کی تقاریر جلسوں اور جلوسوں سے بھارت اور اسرائیل تھر تھر کانپتے ہیں، ان کا حال شتر مرغ کی طرح ہے جو ریت میں سر چھپا کر سمجھتا ہے کہ طوفان گزر گیا، یہ لوگ جو کشمیر، فلسطین اور یہودیوں کے بارے میں مخصوص رویہ اپنائے ہوئے ہیں مکمل طور پر DENIALمیں ہیں عوام بھی اسی حال میں مراقبے کی کیفیت میں، ذرا سی دیر کو یہ سوچئے کہ اگر کشمیر اور فلسطین کے بارے میں حقیقت پسندانہ رویہ اپنایا جائے تو ملکی صورت حال کتنی مختلف نظر آئے گی، سب سے پہلے آپ یہ سوچیں گے کہ جب ہماری کسی سے جنگ نہیں تو پھر اتنی بڑی فوج رکھنے کا کیا جواز ہے اور پھر یہ سوچا جائے گاکہ ملک کے اصل مسائل کیا ہیں اور نتیجتاً ہم چاہیں گے کہ ملک کی معاشی ترقی پر توجہ مرکوز کی جائے، ایک اور پہلو بھی ہے جس کے بارے میں سوچا جانا چاہیے اور وہ یہ کہ آپ دنیا کو دیتے کیا ہیں، بہت زیادہ ہوا تو TEXTILE PRODUCTSاب یہ مصنوعات اگر آپ نہ دیں تو یہ کمی بھارت، بنگلہ دیش، میکسیکو اور دیگر ممالک سے پوری کی جا سکتی ہے۔
کشمیر اور فلسطین کے بعد ہم نے بیٹھے بٹھائے افغان مسئلہ بھی اپنے گلے میں ڈال لیا ہے۔۱۹۸۹ میں ضیاء الحق نے افغان جہاد میں اپنی ٹانگ اڑائی ۵۵ لاکھ مہاجرین کو پاکستان میں پناہ دی، برسوں عوام کے منہ سے نوالہ چھین کر ان کو کیمپوں میں رکھا کھلایا پلایا اپنے ہی لوگوں کو جہاد کا غچہ دے کر مجاہدین پیدا کئے جو بعد میں دہشت گرد بنا دئے گئے یہ دہشت گرد سارے ملک میں منشیات، اسلحہ، بدامنی اور معاشی تباہی لانے کے ذمہ دار ٹھہرے اور گزشتہ دس برسوں سے ہم ملک میں ان دہشت گردوں سے لڑرہے ہیں اور دنیا مطالبہ کررہی ہے کہ ان دہشت گردوں کو ختم کیا جائے، یہ دہشت گرد ہمارے ۳۰ ہزار جوان مار چکے ہیں مگر اس جوان خون کے بہنے پر کم از کم نہ تو سیاست دانوں کی آنکھ بھیگتی ہے اور نہ فوج کے جنرل کبھی آبدیدہ ہوتے ہیں، ان افغان مہاجرین میں سے ۲۲ لاکھ کیمپوں سے فرار ہو کے ناجائز ذرائع سے شناختی کارڈ اور پاسپورٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہوچکے ہیں اور عوام کے نوالے کے شریک ہیں گویا ان ۲۲ لاکھ افغانیوں کا بوجھ عوام پر ڈال دیا گیا ہے، اب یہ بھی سوچئے کہ اگر پاکستان افغان جہاد کاحصہ نہ بنتا تو ملک دہشت گردی، منشیات، اسلحہ، بدامنی سے پاک رہتا،نہ ہمیں ستر ہزار سول افراد کی قربانی دینی پڑتی، نہ ۳۰ ہزار جوان مرتے، نہ ہمیں ضرب عضب اور ردالفساد نام کے آپریشن کرنے پڑتے، نہ اتنی بڑی فوج کی ضرورت پڑتی، غور کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ کشمیر، فلسطین، افغانستان جیسے سارے مسائل کے پیچھے ایک ہی عنصر کارفرماہے اور وہ یہ ہے کہ فوج کو RELEVENTرکھا جائے اور ملکی سیاست میں ان کی ضرورت باقی رہے، اس کام کے لئے ملک کے سارے اداروں کو مہجول بنا دیا گیا ہے اور قوم پر احسان جتایا جاتا ہے کہ جب بھی عوام پر کوئی دقت پڑتا ہے تو فوج کو ہی بلایا جاتا ہے اور فوج کی وجہ سے ہی عوام چین کی نیند سوتی ہے مگر یہ نہیں سوچا جاتا کہ عوام اپنا پیٹ کاٹ کر فوج کی ضروریات پوری کرتے ہیں، صرف فوج آرام سے تین وقت کا کھانا کھاتی ہے اس کے علاوہ وہ طبقہ بھی جس کو فوج نے عوام کو مذہب کے گمان پھیلانے کے لئے پالا ہوا ہے اور جو UNPRODUCTIVE LABORہے اور آرام سے روٹی کھاتی ہے اور ہر حکومت کے خلاف ایک THREATبھی رہتی ہے یہ پاکستان کے ۴۰ لاکھ مولوی ہیں، اگر پاکستان میں پولیس کی جدید طرز پر تربیت کر دی جاتی تو پولیس وہ سارے کام کر سکتی تھی جس کے لئے قوم فوج کی محتاج ہے، سوشل میڈیا پر یہ لکھا گیا ہے کہ پاکستان میں پولیس کی جدید طرز پر تربیت کی سب سے بڑی مخالف فوج ہی ہے اس کو معلوم ہے کہ اگر ایسا ہوا تو فوج پر انحصار کم ہو جائیگا۔ افغانستان میں خانہ جنگی ہورہی ہے اور ممکنہ طور پر پندرہ سے بیس لاکھ افغانی پاکستان میں داخل ہو جائیں گے، حکومت خود بھی کہتی ہے کہ وہ ان افغان مہاجرین کی میزبانی کرے گی پاکستان کی معیشت پر ان کے اثرات مرتب ہوں گے اور یہی ہو گا کہ عوام کے ہاتھ کا نوالہ چھین کر ان مہاجرین کو کھلایاجائیگا، امریکہ کہہ چکا ہے کہ افغانستان سے انخلاء کے باوجود اس خطے میں اس کے مفادات ہیں اور وہ پاکستان، ازبکستان اور افغانستان کے ساتھ مل کر اس مسئلہ کا حل نکالنا چاہے گا، اگر اس کی بات مان لی گئی تو امریکہ کو ازبکستان میں بھی قدم جمانے کا موقع مل سکتا ہے، BROAD BASEDحکومت بننا ایک امر محال تو ہے اور عمران کی یہ خواہش بھی شائد پوری نہ ہو کہ افغانستان پر طالبان کا کنٹرول ہو جائے، افغان سفیر کی بیٹی کے اغواء کی خبر بھی اسی سیاست کا حصہ ہے اور جو پریس کانفرنس شاہ محمودقریشی نے معید یوسف اور آئی جی اسلام آباد کے ساتھ ہوئی اس میں تینوں افراد کی BODY LANGUAGEبہت کچھ کہہ رہی تھی اور یہ اندازہ ہورہا تھا کہ کچھ چھپایا جارہا ہے، افغانستان نے اپنے سفیر اور سفارت خانے کے تمام عملے کو پاکستان سے واپس بلا لیا ہے اور ظاہر سی بات ہے کہ اس کے REPURCUSSIONSضرور ہونگے، سنٹرل ایشیا کی ریاستوںسے تجارت دیوانے کاایک خواب ہے، جب افغانستان میں خانہ جنگی ہورہی ہے تو کاہے کی تجارت، بات یہ ہے کہ پاکستان تنہا رہا گیا ہے، امریکہ اور یورپ منہ لگانے کو تیار نہیں، لہٰذا یہ کوشش کی جارہی ہے کہ سنٹرل ایشیا کی ریاستوں کے ساتھ پینگیں بڑھائی جائیں جس کے لئے باجوہ سر توڑ کوشش کررہے ہیں، لگتا ہے کہ یہ آئیڈیا بھی فوج ہی کا ہے۔