مارشل لائوں کے دور میں پروان چڑھے ہم!!

234

پاکستان میں چاروں مارشل لائوں کے دورِ آمریت، بربریت اور بغاوت پر نظر دوڑائیں تو اس کے دوران ایک نسل ضعیف العمری میں ہے یا مر چکی ہے۔ دوسری نسل بوڑھی ہو چکی ہے۔ تیسری نسل لاتعلق یا لاعلم ہے۔ چوتھی پیدا ہورہی ہے جن کے آبائو اجداد نے چاروں مارشلائوں کا دورِ ظلمت اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے جب سات اکتوبر 1958ء کو پہلا مارشل لاء لگا جس کے بعد وزیر دفاع کمانڈر انچیف اور ڈپٹی وزیراعظم جنر ل ایوب خان نے اپنے آقا اور مالک پاکستان کے آخری گورنر جنرل اور پاکستان کے پہلے صدر میجر جنرل سکندر مرزا کو ہٹا کر ملک کے سربراہ بن گئے جنہوں نے ملک کا پہلا آئین 1956ء کو صدر سکندر مرزا کے ہاتھوں منسوخ کرایا پھر خود صدر بن کر صدر سکندر مرزا کو ملک بدر کر دیا تھا اس وقت راقم الحروف چھوٹا سا بچہ تھا جس نے اپنی اماں کی زبان سے سنا تھا کہ ایک بادشاہ بدل کر دوسرا بادشاہ جنرل ایوب خان آچکا ہے جن کی ہر مقام پر تصویریں آویزاں تھیں۔ فریبی نعرے میں لال رنگ کی مرچیں پھینکی جارہی تھیں۔ دکانداروں سے فوجی اہلکار نرخ پوچھ رہے تھے۔ چوری شدہ بھینسیں واپس آرہی تھیں۔ گھروں سے اغواء شدہ خواتین دستیاب اور برآمد ہورہی تھیں جس کا ہر طرف شور و غل تھا جو شاید قدیم جرائم، ملاوٹ اور کم تولنے اور زیادہ منافع کمانے کے خلاف مارشل لاء کا نفاذ سمجھ رہے تھے جو نہیں جانتے تھے کہ جنرل ایوب خان نے ملک کا پہلا آئین پامال کیا تھا۔ منتخب حکومت پر قبضہ کیا تھا۔ ملکی اتحاد مشرقی اور مغربی پاکستان کو پاش پاش کیا تھا جس نے ملکی عوام کے اتحاد کو شدید نقصا ن پہنچایا تھا۔ ملک توڑنے کی بنیاد رکھی تھی چونکہ ہماری اماں نے صرف اور صرف بادشاہوں کا نام سن رکھا تھا کہ فلاں بادشاہ آگیا اور فلاں بادشاہ چلا گیا۔ غوری، غزنوی، لودھی، خلجی، تقلقی، چنگیزی، دورانی اور انگریز آیا اور چلا گیا تو وہ پاکستان بننے کے باجوود ایک ہولناک اور دردناک اجاڑوں اور وچھوڑوں کو بھول نہ پائیں تھیں کہ پاکستان میں بھی ایک اور بادشاہ نما جنرل حکمران بن گیا۔ لہٰذا اماں جان کو جنرل ایوب خان کو بادشاہ قرار دینا قدرتی امر تھا جنہوں نے بھی بادشاہوں، آمروں، غاصبوں کے دور میں آنکھ کھولی تھی جب ہم نے ہوش سنبھالا تو جنرل ایوب خان کا مارشل لاء دیکھا جس میں پرورش پائی، تیرہ سال کی عمر میں بس جلانے کے جرم میں گرفتا رہوئے۔ 1965کی جنرل ایوب خان کے خلاف تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ سکول کے زمانے میں معراج محمد خان طلباء رہنما کے پیروکار بنے۔ جب جنرل ایوب خان اقتدار سے ہٹے یا ہٹائے گئے تو جنرل یحییٰ خان کے مارشل لاء کی مخالفت کا موقع ملا۔ بنگال میں فوجی آپریشن کی مخالفت میں جیل یاترا ملی جب جیل سے باہر آئے تو پاکستان ٹوٹ چکا تھا۔ جب مکمل جوان ہوئے تو جنرل ضیاء الحق کے مارشل لاء کو قریب سے دیکھا جس کی مخالفت میں سندھ پملٹ کیس بنا جو غداری کا پروانہ تھا جس کے خوف سے ملک چھوڑنا پڑا مگر امریکہ میں جنرل ضیاء الحق کی مخالفت ایم آر ڈی کے پلیٹ فارم پر جاری رکھی پھر ایک وقت ایسا آیا کہ پاکستان میں بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کی شکل میں سول حکومتوں کا دور دورہ چل نکلا جس کے خلاف اسٹیبلشمنٹ کی گھنائونی سازشیں جاری رہیں کہ ایک دن پھر ایک منحوس خبر شائع ہوئی کہ جنرل مشرف نے نواز حکومت کا تختہ الٹ کر اقتدار پر قبضہ کر لیا جن کا بہانہ حسب فوجی روایات کہ ملک کو خطرہ لاحق تھا جس نے آرمی چیف کے جہاز کو اغواء کرنے کی کوشش کی گئی تھی جو دنیا کا واحد پہلا ہوائی جہاز تھا جس پر سوار پستول بردار جنرل مشرف کا جہاز میں بیٹھے تھے وزیراعظم نواز شریف نے اغواء کرایا تھا۔ پھر ایک وقت ایسا بھی آیا کہ جنرل مشرف نے اپنی ہی حکومت کو برطرف کر کے اپنی ہی حکومت پر قبضہ کرتے ہوئے عدلیہ کو برطرف کرتے ہوئے ملکی آئین معطل کر ڈالا جو اب پانچویں مرتبہ آئین پاکستان معطل اور منسوخ ہوا تھا جس کی مثال دنیا میں نہیں ملتی ہے مذکورہ بالا بحث کا مطلب اور مقصد صرف نئی نسل کو بتانا لازم ہے کہ وہ دیکھیں اور تحقیق کریں کہ پاکستان میں مارشلائوں کے دور میں پروان چڑھنے والی نسل کیوں آج تک روتی پیٹتی نظر آرہی ہے جو ابھی تک بیان کردہ مارشلائوں کے ظلم و ستم کے قصیدے اور مرثیے پڑھ رہی ہے کہ جن کی نظر میں آج بھی عمران خان کی شکل میں مارشل لاء نافذ ہے جس نے ہر وہ عمل اپنا رکھا ہے جو ماضی میں جنرلوں نے آئین اور قانون سے بغاوت کا عمل اپنا رکھا تھا۔ آج بھی مارشلائوں کی طرح ملک میں سیاسی انتقام کا سلسلہ جاری ہے۔ آئین غیر موثر ہو چکا ہے۔ قانون بے بس نظر آرہا ہے۔ ملک صدارتی آرڈیننسوں سے چلایا جارہا ہے۔ میڈیا پر پابندیاں ہیں۔ عدلیہ کو بلیک میل کیا جارہا ہے۔ ایماندار اور انصاف ججوں کی کردار کشی کی جارہی ہے۔ ملکی پارلیمنٹ بے آواز اور بے توقیر ہو چکی ہے۔ سیاسی کارکنوں اور سیاستدانوں کی گرفتاریاں کی جارہی ہیں۔ سیاسی کارکنوں سے جیلیں آباد ہو چکی ہیں۔ عوام کے سیاسی معاشی اور مالی مشکلات میں بے تحاشا اضافہ ہوچکا ہے۔ ہر طرف مہنگائی اور بیروزگاری کا طوفان برپا ہے۔ لوگوں کے شہری، انسانی اور بنیادی حقوق سلب ہو چکے ہیں ایسے میں یہی کہا جاسکتا ہے کہ مارشلائوں کے دور میں پروان چڑھے ہم کہ جنہوں نے اب تک آزادی نہیں دیکھی ہے۔ ساری زندگی فوجی مارشلائوں کے دور میں گزار دی۔ جن کی زندگی میں غلامی ایک مقدر بن چکا ہے جس کا اظہار ہر مقام پر ہورہا ہے۔ جس کی چوتھی نسل مارشلائوں کے دور میں پیدا ہورہی ہے مگر وہ بدقسمت پاکستانی عوام مارشلائوں یا مارشلائوں نما حکمرانوں سے چھٹکارا حاصل نہ کر پائے جبکہ پاکستان کو جنم دینے والا ملک بھارت اور پاکستان کی کوکھ سے پیدا ہونے والا بنگلہ دیش ترقی کی منزلیں طے کرتا نظر آرہا ہے جن کا دنیا بھر میں ترقی کا چرچا ہے یا پھر ترکی نے اپنے فوجی باغی جنرلوں پر قابو پا لیا ہے جس سے ترکی میں اب مارشلائوں کا خطرہ ٹل چکا ہے لیکن پاکستان میں مارشلائوں کا تسلسل جاری ہے جس کا خاتمہ ایک نہ ایک دن ہو گا۔