سفر میں سفر!!

216

کچھ دن پہلے ہم نے کئی مہینے بعد سفر کیا، کافی مہینے بعد اس لئے کہ چودہ مہینے سے کووڈ کی وجہ سے زیادہ تر جگہوں پر سفر کرنا مشکل ہو گیا تھا اب کیوں کہ چیزیں بہتر ہورہی ہیں اس لئے لوگوں نے بھی زیادہ سفر کرنا شروع کر دیا ہے۔
کئی مختلف بین الاقوامی ایئرپورٹس سے گزر کر ہم کو احساس ہوا کہ ان ایئرپورٹس نے بہت جلدی کووڈ کی پابندیوں کو اپنا لیا ہے۔ زیادہ تر ایئرپورٹس پر عملہ مسافروں کی سہولت کا پورا خیال رکھتا ہے اور کووڈ کے باوجود ہر طرح کی آسانی مہیا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
LAXٰٓٗایئرپورٹ جو کہ امریکہ کے علاقے لاس اینجلس کیلی فورنیا میں واقع ہے وہاں کے لائونج میں بیٹھ کر خیال آیا کہ ہمارے پاکستان کے ایئرپورٹس انتظامات میں کتنے مختلف ہیں، باہر کے ملکوں میں آپ کے سفر کو آسان بنایا جاتا ہے جبکہ پاکستان میں انسان ’’سفر‘‘ میں ’’سفر‘‘ کرتا ہے اور اس کا تعلق کووڈ سے بالکل نہیں ہے۔
جو لوگ پاکستان سے باہر سفر کر چکے ہیں وہ جانتے ہیں کہ ان ممالک میں ایئرپورٹ کی کارروائی کتنی سادی ہوتی ہے۔ ایئرپورٹ پر اتر کر جہاز تک جانے میں صرف تین مراحل ہوتے ہیں۔آپ سب سے پہلے سامان کے کائونٹر پر جاتے ہیں جہاں آپ کے ساتھ آپ کا کوئی دوست رشتہ دار بھی جا سکتا ہے چاہے وہ سفر پر آپ کے ساتھ نہ جارہا ہو پھر بھی، بورڈنگ پاس وہیں ملتا ہے اور پھر آپ سکیورٹی سے گزر کر اپنی فلائٹ والے گیٹ پر بیٹھ جاتے ہیں بورڈرنگ کیلئے اور بس۔
پاکستان میں تین نہیں تقریباً سات مرحلے ہوتے ہیں، ایئرپورٹ پر داخل ہونے سے لے کر جہاز میں سوار ہونے تک سب سے پہلے جب آپ گاڑی لے کر ایئرپورٹ پہنچتے ہیں تو ASFوالے سکیورٹی کو مدنظر رکھتے ایک Deviceسے آپ کی گاڑی چیک کرتے ہیں، کئی لوگ یہ بات نہیں جانتے کہ جس آدمی نے یہ آلہ ایجاد کیا تھا وہ کئی سالوں سے جیل میں ہے کیوں کہ اُس نے کئی ملکوں کی گورنمنٹ کو یہ ڈیوائس ’’Bomb Detector‘‘کہہ کر بیج دی تھی جبکہ یہ گالف بالر ڈھونڈنے کی مشین ہے ’’بم‘‘ سے اس کا کوئی تعلق ہی نہیں ہے۔ پاکستان میں آج تک یہ ڈیوائس بم ڈھونڈنے کیلئے ایئرپورٹ پر استعمال ہورہی ہیں جبکہ اور ممالک نے اس کو رد کر دیا ہے۔ کراچی ایئرپورٹ پر حملہ ہو گیا اس کے باوجود آج تک کراچی ایئرپورٹ پر یہ استعمال ہورہی ہے، یا تو اتھارٹیز کو خبر نہیں یا پھر ان کو پرواہ نہیں۔
جب ایئرپورٹ کی سڑک پر پہنچتے ہیں تو جو کوئی رشتہ دار، عزیز دوست آپ کو چھوڑنے جارہے ہوتے ہیں انہیں اکثر وہیں روک لیا جاتا ہے۔ صرف مسافر اور ڈرائیور جا سکتے ہیں لیکن جب آپ ایئرپورٹ کے احاطے میں پہنچتے ہیں تو بس بھر بھر کر لوگ جانے والوں کو چھوڑنے آئے ہوئے ہوتے ہیں پتہ نہیں انہیں کیوں روکا جاتا؟؟ بالآخر جب ایئرپورٹ کے گیٹ پر پہنچتا ہے تو ایک صاحب کھڑے ہوتے ہیں جو آپ کا پاسپورٹ چیک کرتے ہیں وہ شاید اس لئے کہ گیٹ کے اندر صرف وہی جائیں جن کو سفر کیلئے روانہ ہونا ہے باقی اضافی لوگ اندر نہ گھس جائیں۔
اندر جاتے ہی سب سے پہلے آپ کو Norcoticsوالے ملتے ہیں ان کا آپ سے سوالات کرنے کا انداز ایسا ہوتا ہے جیسے کہ آپ کوئی مجرم ہیں اور پھنس چکے ہیں، وہ آپ کے چہرے کو ایسے نظریں گاڑ کر دیکھتے ہیں جیسے کہ چہرہ دیکھ کر ہی پتہ چلا لیں گے کہ آپ کے پاس چرس یاہیروئن ہے کہ نہیں جبکہ تمام ایئرپورٹس پر ٹرینڈ کتے اس کام کیلئے ہوتے ہیں۔
وہاں سے آگے بڑھیں تو سفید کپڑوں میں ملبوس کسٹم والے صاحب ملیں گے وہ بھی عموماً آپ سے ایسے ہی لہجے میں بات کریں گے کہ جیسے آپ مجرم ہیں، کتنی کرنسی ہے آپ کے پاس؟ پوچھا جاتا ہے، اس کے بعد بورڈنگ باہر کے ملکوں میں درجنوں کائونٹر ہوتے ہیں، ہر ایئرلائن والوں کے الگ الگ لیکن ہمارے ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی تک میں دس بارہ ہی کائونٹرز ہیں جو تمام ایئرلائز کے مسافروں کو ایک ساتھ دیکھ رہے ہوتے ہیں، وہاں اتنا رش ہوتا ہے کہ کم از کم ایک گھنٹہ لگ جاتا ہے، وہاں سے آگے بڑھیں تو امیگریشن کی لائن، عموماً وہاں بیٹھے آفیسرز زیادہ تر ریٹائرمنٹ کے آس پاس ہوتے ہیں اور اس وجہ سے زیادہ پھرتی سے کام نہیں کر پاتے، لائنیں لمبی ہوتی ہیں اور اکثر ان میں ایسے افراد بھی ہوتے ہیں جو پڑھے لکھے نہیں ہوتے، اس لئے اور زیادہ وقت لگتا ہے، پاسپورٹ امیگریشن سے Stampہو کر جب آپ آگے بڑھتے ہیں تو پھر ایک لائن لگتی ہے یہ چیک کرنے کیلئے کہ کیا پہلے والے آفیسر نے سٹمپ لگایا ہے یا نہیں یعنی ایئرپورٹ والوں کو خود ایئرپورٹ کے عملے پر بھروسہ نہیں ہے جس کی وجہ سے مسافروں کو ایک اور مرحلے سے بلاضرورت گزرنا پڑتا ہے اور ہر ایک کا ایک ہی سوال کہ کہاں جارہے ہیں؟ یہ سوال جتنا ہمارے ایئرپورٹس پر پوچھا جاتا ہے اتنا کہیں بھی نہیں پوچھتے پوری دنیا میں۔
سب ہو جانے کے بعد گیٹ پر پہنچے سے پہلے بھی ایک اور چیکنگ آپ کی اور آپ کے ہاتھ میں لئے سامان کی، مسافر سفر سے نہیں تھکتا جتنا ایئرپورٹ کے اس سفر سے تھک جاتا ہے، ہمارے ایئرپورٹس پر نہ تو ’’نوسموکنگ ایریاز ‘‘ ہیں اور نہ ہی wifiکی سہولت ،غرض کہ ہر مشکل پیدا کی جاتی ہے مسافروں کیلئے اور پھر کہا جاتا ہے کہ پاکستان میں سیاحت کو فروغ کیوں نہیں؟ سیاحوں کی بات چھوڑیں اکثر اوقات بیرون ملک مقیم پاکستانی وطن آنے کا سوچتے ہیں اور پھر محض ایئرپورٹ کی دقتوں کو سوچ کر اپنا آنا کینسل کر دیتے ہیں۔