خبر دار،بھارت کا تحفہ، ڈیلٹا، خطرناک ہے!

217

پاکستان میں حکومت اطمینان کا سانس لینے ہی لگی تھی کہ لشتم پشٹم کورونا پر قابو پا لیا کہ کورونا کی نئی قسم ڈیلٹا کے پھیلنے کی خبریں آنا شروع ہو گئیں۔ ڈیلٹا ، کورونا ہی ایک بدلی ہوئی شکل ہے جو زیادہ خطرناک ہے اور تیزی سے پھیلتا ہے۔ یہ سب سے پہلے بھارت میں شروع ہوا اور وہاں اس نے اچھی خاصی تباہی مچائی۔ پھر آہستہ آہستہ بھارت سے باہر جانے والے مسافروں نے اسے دنیا میں پھیلانا شروع کر دیا۔ اور پھر چل سو چل۔ ڈیلٹا اس وقت پاکستان بھی پہنچ چکا ہے، پتہ نہیں کیسے کیونکہ بھارت سے لوگ براہ راست پاکستان نہیں آتے؟ ہو سکتا ہے کہ وہ دوسرے ملکوں میں جاتے ہوں اور پھر وہاں سے لوگ باگ یہ تحفہ پاکستان لے آئے ہوں۔ بہر حال حقیقت تو یہ ہے کہ پاکستان کی حکومت کو کڑے انتظامات کرنے ہوں گے، جن میں لمبے لاک ڈائون بھی ہو ں گے۔ان کے بغیر اس وباء پر قابو نہیں پایا جا سکتا۔
کووڈ کی بیماری کی علامتیںضروری نہیں کہ ہر ایک میں ظاہر ہوں۔زیادہ لوگ ، بیماری سے ویسے ہی صحتیاب ہو جاتے ہیں۔امریکن متعدی بیماریوں کا ادارہ سی ڈی سی (CDC)ڈیلٹا کی علامات کی فہرست نہیں بتاتا۔اگرچہ سب سے عام نشانیوں میں بخار، خشک کھانسی، اور تھکاوٹ شامل ہیں۔کچھ لوگوں کو مختلف دردیں، گلہ خراب، دست آنا، آشوب چشم، سر درد، بُو کی پہچان میں کمی، اور جلد پر نشان ،ہو سکتے ہیں۔ لیکن زیادہ سنجیدہ علامات، سانس لینے میں دشواری یا سانس کا پھولنا، سینے میں درد یا دبائو کا احساس، بول نہ سکنا، ہیں جن کی صورت میں ڈاکٹر سے مشورہ کرنا ضروری ہے۔عموماً بیماری لگنے کے پانچ دن بعد علامات ظاہر ہوتی ہیں۔لیکن کسی کو ۱۴ دن بھی لگ سکتے ہیں۔ سب سے زیادہ خطرہ ان لوگوں کو ہے جنہوں نے حفاظتی ٹیکے نہیں لگوائے۔ایسے لوگوں میں نوجوانوں کو بھی شدید خطرہ لاحق ہو گا۔
کووڈ کی وباء ایسا لگتا تھا کہ ختم ہونے کے قریب ہے۔ دنیا کے اکثر صنعت یافتہ ممالک میں کافی تیزی سے کووڈ کے ٹیکے لگائے جا رہے تھے۔ نیو یارک میں حکومت حفاظتی اقدامات کو ختم کر رہی تھی۔انگلینڈ میں بھی آئندہ ہفتہ تمام بندشیں ختم کرنے کا اعلان کیا جا چکا تھا۔ لیکن اتنی ہی تیزی سے خبریں آنی شروع ہو گئیں کہ کووڈ کی ایک نئی قسم جسے ڈیلٹا کہتے ہیں، پھیل رہا ہے۔یہ قسم سب سے خطرناک ہے اور زیادہ تیزی سے پھیلتی ہے۔
ڈیلٹا وائرس کیا ہے اور ہمیں اس سے کیا خطرہ ہے؟۔ یہ جاننا ضروری ہے۔ واشنگٹن پوسٹ میں ۹ جولائی ۲۰۲۱ء کو شائع ہونے والے اس مضمون میں بتایا گیا ہے کہ نہایت سرعت رفتاری سے پھیلنے والا یہ موذی مرض، جسے ڈیلٹاکہتے ہیں، اب تک امریکہ کی پچاس کی پچاس ریاستوں میں آ چکا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق، نصف سے زیادہ نئے مریضوں میں جب وائرس کی تشخیص کی گئی تو ان میں یہی وائرس پایا گیا۔یہ اس تعداد سے پانچ گنا زیادہ تھا جو چار ہفتے پہلے موجود تھی۔ڈیلٹا کا اتنی تیزی سے پھیلنا نہایت تشویشناک امر ہے۔ یہ بات وہائٹ ہائوس کی پریس کانفرنس میں کہی گئی۔جس سے آپ اس خبر کی سنجیدگی کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔سی ڈی سی جو امریکہ کا ذمہ وار متعدی بیماریوں کا قومی ادارہ ہے، اس کے نمائندے والنسکی نے کہا کہ اچھی خبر یہ ہے کہ کووڈ۔۱۹ سے حفاظت کے جو ٹیکے لگائے گئے ہیں وہ تینوں قسموں کے ٹیکے اس بیماری کی شدت اور ہلاکت سے موثر بچائو کا ذریعہ ہیں۔امریکہ کی کئی ریاستوں سے آنے والی اطلاعات سے پتہ چلتا ہے کہ اب کورونا سے ہونے والی اموات ان لوگوں میں ہو رہی ہیں جنہوں نے یہ ٹیکے نہیں لگوائے تھے۔سی ڈی سی کی نمائندہ ماہر نے بتایا کہ ڈیلٹا وائرس کی سب سے پہلے شناخت انڈیا میں ہوئی تھی جہاں یہ وائرس تباہی پھیلا رہا تھا اور درجن بھر ممالک میں پھیل چکا تھا۔اس کے پھیلنے سے کو وڈ کے خاتمہ کے ا مکانات معدوم ہو گئے ہیں۔اب ڈیلٹا کی بھی آگے کئی قسمیں بن چکی ہیں۔ ان میں B.1.617.2 انگلینڈ میں تباہی مچا رہا ہے۔ ماہرین اس قسم کے وائرس کو سب سے فِٹ جانتے ہیں جو دوسری قسموں کے کورونا وائرس کو پیچھے چھوڑ جائے گا۔یہ دوسرے وائریسز کے مقابلے میں زیادہ مستعدی سے انسانی جسم میں چپک جاتا ہے۔ پھر دوسری قسموں کے وائرس کے مقابلے میں زیادہ موثر انداز میں حملہ کرتا ہے ، اس لیے کہ یہ اپنی تعداد بڑھانے میں زیادہ چست ہے۔
ڈیلٹا پہلے والے وائرس سے پچاس فصد زیادہ متعدی ہے۔ حالانکہ جو کورونا وائرس امریکہ اور برطانیہ میں پھیلا تھا وہ چین والے وائرس سے پہلے ہی پچاس فیصد زیادہ متعدی تھا۔اگرچہ ڈیلٹا زیادہ تیز رفتاری سے پھیلتا ہے، لیکن ابھی اس بات کے شواہد نہیں ہیں کہ اس سے ہلاک ہونے کا امکانات بھی زیادہ ہیں۔انگلینڈ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈیلٹا کے متاثرین کا ہسپتال جانے کے امکانات پہلے والے وائرس کے مقابلہ میں دوگنے سے زیادہ ہیں۔اور جن لوگوں نے ٹیکے نہیں لگوائے ان کو شدید خطرہ ہے۔جن لوگوں نے ٹیکے لگوائے ہیں ان کو بھی بیماری کے کچھ اثرات تو ہو سکتے ہیں۔لیکن پھر بھی ایسے مریضوں کو ہسپتال جانے اور زندگی کو خطرہ لا حق ہونے کے امکانات کم ہیں۔مثلاً جن لوگوں نے فائزر کا ایک ٹیکہ لگوایا، انہیں ۳۳ فیصد حفاظت ملی۔ جنہوں نے دونوں ڈوز لگوائے انہیں ۸۸ فیصد حفاظت رہی۔ایک اور تحقیق کے مطابق اس ٹیکے سے حفاظت کا تناسب اور بھی زیادہ تھا۔جن لوگوں نے جانسن کا ٹیکہ لگوایا تھا ، ایک تحقیق کے مطابق ، ان کے مدافعتی نظام نے بہت اچھی حفاظت دی، لیکن یہ تحقیق ابتدائی تھی۔ ایسٹرا زینکا کے بارے میں بھی اچھے نتایج پائے گئے ہیں خصوصاً ہسپتال نہ جانے کے لحاظ سے۔امریکی صدر بائیڈن نے لوگوں کو ، خصوصاً نوجوانوں کو حفاظتی ٹیکے لگانے پر زور دیا ہے اور کہا ہے وہ یہ نہ سمجھیں کہ وہ بغیر ٹیکے کے بھی محفوظ ہیں۔
آج ۱۵ جولائی ۲۰۲۱ تک دنیا بھر میں تقریباً انیس کڑوڑ لوگ کورونا سے متاثر ہو چکے ہیں۔ اور تقریباً اکتالیس لاکھ لوگ ہلاک ہو چکے ہیں۔ اچھی خبر یہ ہے کہ 17.3 کڑوڑ اس موذی مرض سے صحتیاب بھی ہو چکے ہیں۔Worldometers کے مطابق اس ہفتہ دنیا میں سب سے زیادہ نئے مریض انڈونیشیا میں رپورٹ ہوئے جن کی تعداد ۵۷ ہزار سے ذرا کم تھی۔اس کے بعد برازیل میں پائے گئے، جن کی تعداد ۵۲ ہزار سے اوپر تھی۔ اس کے بعد یو کے میں 48.5 ہزار اور بھارت میں ۳۹ ہزار ۔ اگر آبادی کے لحاظ سے دیکھا جائے تو بھارت میں کل کیسسز کا تناسب 2.2% تھا جب کہ پاکستان میں یہ تناسب0.4% فیصد رہا۔ہلاکتوں کا تناسب سب سے زیادہ جنوبی امریکہ کے ملک پیرو میں تھا جہاں دس لاکھ پر 5,523 ہلاکتیں ہوئیں۔
پاکستان، اللہ کا شکر ہے، کہ ابھی تک کسی بڑی تباہی سے بچا ہوا ہے۔ خدا گواہ ہے کہ اس میں پاکستانیوں کا کوئی قصور نہیں۔لیکن مستقبل کا حال کوئی نہیں جانتا۔عالمی ادارہ صحت کے ماہرین کہتے ہیں کہ اس بیماری سے بچنے کے لیے ، یہ یقینی بنایا جائے کے آپ کے ہاتھ صاف رہیں۔ماسک پہنیں اور صحیح طریقے سے۔ یعنی ناک اور منہ دونوں ڈھکے رہیں۔ایسی جگہ نہ جائیں جہاں ہجوم ہو۔ دوسروں سے فاصلہ پر رہیں۔(مقصدیہ ہے کہ اگر کوئی مریض چھینکے تو آپ کی ناک اور منہ تک اس کے جراثیم نہ پہنچیں)۔اگر آپ بند کمرے میں ہیں تو کمرہ ہوا دار ہونا چاہیے۔کمرے کی ایک یا دو کھڑکیاں کھول لیں تو کافی ہو گا۔یہ حفاظتی اقدام عموماً آپ کو محفوظ رکھیں گے۔ اور جب آپ کی حفاظتی ٹیکہ لگوانے کی باری آئے تو ضرور لگوائیں۔ضروری ٹیکے لگوانے کے بعد اگر بیماری لگ جائے تو اس کے اثرات اتنے سخت نہیں ہوتے۔
تازہ ترین اخباری اطلاع کے مطابق پاکستان میں بیماری پھیلنے کی شرح 6.1 فیصد ہو گئی ہے جو کچھ روز پہلے دو یا تین کے قریب پہنچ گئی تھی۔ اب تک 22,720 اموات ہو چکی ہیں۔ اور مصدقہ کیسز کی تعداد ایک ملین کے لگ بھگ ہو چکی ہے۔۱۶ جولائی ۲۰۲۱ء کے ڈان کی خبر کے مطابق، گلگت میں سب سے زیادہ کیسز ریکارڈ کیے گئے یعنی ۲۳ فیصد۔ وزیر اعظم کے مشیر خاص ڈاکٹر فیصل سلطان نے اس بات کی تصدیق کی کہ ڈیلٹا کی قسم پاکستان میں آ چکی ہے۔کیسز ایک ماہ میں تیس فیصد بڑھے ہیں۔ سب سے اہم بات کہ ڈاکٹر سلطان نے کہا کہ لوگوں کو ماسک پہنے رکھنا چاہیے اور سماجی فاصلے کا بھی دھیان رکھیں۔ایک اور ذریعہ کے مطابق کراچی میں بیماری کی 19.29 فیصد مثبت شرح پائی گئی ہے۔منصوبہ بندی کے وزیر اسد عمر نے لوگوں سے درخواست کی ہے کہ وہ حفاظتی تدابیر پر عمل کرتے رہیں۔ اور ٹیکے لگوائیں۔
نیو یارک میں اور دوسرے شہروں میں بھی دیکھا گیا ہے کہ لوگوں نے ماسک پہننے کی عادت اپنا لی ہے۔ جب کہ حکومت نے اجازت بھی دی ہے کہ سب جگہ ماسک پہننا لازمی نہیں ۔لیکن اکثر لوگ حفظ ماتقدم کے طور پر ماسک پہن کر سٹورز کے اندر جاتے ہیں۔ یہ اچھی عادت ہے کیونکہ اس طرح وہ اس نئی قسم کے وائرس سے بچ سکیں گے۔ بد قسمتی سے پاکستان کے عوام ابھی تک نہیں سمجھ سکے کہ یہ بیماری کیا ہے اور جراثیم کیا ہوتے ہیں۔بھلا ایک نہ نظر آنے والی چیز انہیں کیسے نقصان پہنچا سکتی ہے؟ یہ لوگ روز اپنے سامنے لوگوں کو مرتا دیکھتے ہیں اور اس حکم خداوندی سمجھ کر اس کی رضا میں شاکر رہتے ہیں۔ہمیں یہی سکھایا گیا ہے۔ کہ سب اللہ کی مرضی سے ہوتا ہے۔ اس لیے تفکر کرنے کی ضرورت نہیں۔