نفرت کی سیاست اب سیاستدانوں کے پوتوں اور نواسوں تک پہنچ رہی ہے، جمائما کی شکایت میں وزن ہے ان کو صرف عمران خان کی سابقہ اہلیہ ہونے پر نشانہ بنایا جارہا ہے

239

پاکستان کی سیاست میں ذاتیات اور مذہبیات کی آڑ لے کر گندگی اچھالنا ہمیشہ اور ایک دوسرے پر حملے کرنا یہاں تک کہ خواتین کو بھی نہیں بخشنا ایک تلخ حقیقت رہا ہے اور اب یہ سلسلہ دوسری تیسری نسل تک پہنچ گیا ہے۔جمائما کی شکایت میں وزن ہے ان کو صرف عمران خان کی سابقہ اہلیہ ہونے پر نشانہ بنایا جارہا ہے۔ وزیراعظم خان کی سابقہ اہلیہ جمائما نے ٹویٹ کی ہے کہ ان کا اب پاکستان اور پاکستانی سیاست سے بھی کوئی تعلق نہیں ہے مگر اب بھی ان کی اور ان کے صاحبزادوں کو سیاست میں گھسیٹ کر گندے القابات سے نوازا جارہا ہے اور نفرت انگیزی کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ وہ مریم نواز کے کشمیر میں جلسے کے دوران عمران خان کے لندن میں اپنی والدہ جمائما کے بیٹوں کو یہودی کے نواسے کا خطاب دینے پر تبصرہ کررہی تھیں۔ یہاں پر یہ بات قابل ذکر ہے کہ آج کل کشمیر میں انتخابی مہم کے دوران بجائے کشمیر میں نواز حکومت کی ناکامی اور مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی مظالم کے خلاف آواز بلند کرنے کے، مریم نواز صرف اور صرف عمران خان اور ان کی ذاتیات پر حملے کر رہی ہیں ان کو کشمیر فروش کہہ رہی ہیں ان کو مختلف القابات سے پکاررہی ہیں جو کہ ناقابل فہم ہے۔ جہاں تک ذاتی حملوں اور رذیل اور رکیک حرکتیں کرنے کا آغاز ہمیشہ سے مسلم نواز لیگ والوں کا شیوہ رہا ہے۔ ہم نے پہلے بھی کئی مرتبہ ذکر کیا ہے کہ ان لوگوں نے مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح تک کو بھی نہیں چھوڑا۔ مسلم نواز لیگ کے سابق وزیر غلام دستگیر کے والد نے ایوب خان کے الیکشن میں ان سے وفاداری کرتے ہوئے ایک کتیا کے گلے میں ان کا انتخابی نشان لالٹین کو لٹکا کر اور کتیا پر فاطمہ جناح کانام لا کر گوجرانوالہ میں سڑکوں پر گھمایا تھا۔پھر ایک اور الیکشن کے دوران پنجاب میں جب پیپلز پارٹی سے الیکشن میں مقابلہ تھا تو نواز شریف اور شہباز شریف نے محترمہ بے نظیر بھٹو کے فوٹو شاپ کے ذریعے الف ننگی تصاویر چھپوا کر پنجاب کے شہروں اور دیہاتوں میں جاہل ان پڑھ لوگوں کو ورغلانے کیلئے ہیلی کاپٹر کے ذریعے گروائی تھیں۔ ایک اور الیکشن کی انتخابی مہم کے دوران ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف مہم چلائی گئی کہ ان کی ختنے نہیں ہوئی تھی اور وہ ہندو تھے چونکہ ان کی والدہ بھی ہندو تھیں۔ اس سلسلے میںان کو پھانسی دینے والے جلاد تارا مسیح کا حوالہ دیا گیا کہ اس نے بھٹوکو پھانسی کے بعد برہنہ حالت میں دیکھا تھا۔ اسی قسم کی سیاسی دشمنیوں میں پختون رہنما بیگم نسیم ولی خان کے انڈر ویئر پہننے پر پریس کانفرنس کی گئیں۔ نواز شریف کے نصرت بھٹو اور بے نظیر بھٹو کے خلاف گھٹیا، نفرت انگیز اور گندے الفاظ اور القابات آج بھی انٹرنیٹ پر موجود ہیں۔ ہم نے جو بھی باتیں لکھیں ہیں ان سب کی تصدیق آج بھی سوشل میڈیا پر جا کر کی جا سکتی ہے یہ کوئی الزامات نہیں ہیں بلکہ تلخ اور گندے حقائق ہیں جو ہماری سیاست کا حصہ بن چکے ہیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ عمران خان اور جمائما کی طلاق بھی ان ہی سیاسی رویوں کی وجہ سے ہوئی ہے۔ مولانا فضل الرحمن نے عمران خان کی جمائما سے شادی کے بعد کفر کے فتوے جاری کئے اور اپنے جلسوں میں عمران خان کو یہودیوں کا ایجنٹ قرار دے کر جمائما پر شرمناک الزامات لگائے۔ جمائما نے اردو بھی سیکھ لی، پنجابی بھی بولنا شروع کر دی ، پہناوا تبدیل کر لیا ،مخصوص پاکستانی انداز اپنا لیا مگر آخر میں اس پر نواز حکومت نے ان ٹائلوں کی چوری کا الزام لگا کر جیل بھیجنے کی کوشش کی جس کے بعد انہیں مجبوراً ملک چھوڑ کر جانا پڑا اور آخر کار معاملہ طلاق پر ختم ہوا مگر جمائما آج بھی عمران خان اور پاکستان کے ساتھ مخلص ہیں۔ قصہ مختصر جیسا باپ ویسی بیٹی، حیرت انگیز بات یہ ہے کہ بھاشن بھی وہ عورت دے رہی ہے جس نے ماں باپ کی عزت دائو پر لگا کر اپنے ڈرائیور کے ساتھ بھاگ کر شادی کی تھی۔ شرم تم کو مگر نہیں آتی۔