پیوستہ رہ شجر سے امید بہار رکھ!

231

ایک صاحب نے ایک باورچی کو ملازم رکھا۔ ایک دن انہوں نے ملازم کو ایک مرغ دیا اور کہا اسے ذبح کر کے مرغ مسلم پکائو۔ ملازم نے جھٹ پٹ مرغ کو ذبح کیا اور مرغ مسلم پکا دیا۔ مرغ مسلم کی خوشبو بڑی اشتہا انگیز تھی۔ باورچی سے ضبط نہ ہوا اور اس نے مرغ کی ایک ٹانگ بڑی صفائی سے کاٹ کر نکالی اور ہڑپ کر گیا، کھانے کا وقت آیا تو اس نے سالن کی قاب لے جا کر مالک کے سامنے ٹیبل پر سجادی اور خود ایک طرف مودب کھڑا ہو گیا۔ مالک نے قاب کا ڈھکن ہٹا کر معائنہ کیا تو مرغ کی ایک ٹانگ غائب پائی۔ ملازم سے استفسار کیا کہ ایک ٹانگ کہاں ہے؟ تو ملازم نے بڑی ڈھٹائی سے جواب دیا ’’حضور !مرغے کی ایک ہی ٹانگ ہوتی ہے سو اسکی بھی ایک ہی ٹانگ ہے‘‘ مالک بڑا جھنجھلایا مگر باورچی بھی بڑا کائیاں تھا یہی اصرار کرتا رہا کہ مرغے کی ایک ہی ٹانگ ہوتی ہے۔ ایک دن مالک کہیں جارہا تھا باورچی بھی ساتھ تھا۔ ایک جگہ ایک مرغا ایک ٹانگ پر کھڑا نظر آیا۔ باورچی نے مالک کی توجہ اس طرف مبذول کرائی کہ دیکھئے مرغ کی ایک ہی ٹانگ ہوتی ہے۔ مالک نے زور سے ’’ہش‘‘ کیا تو مرغا دو ٹانگوں پر دوڑ گیا۔ مالک نے کہا ’’دیکھو مرغ کی دو ٹانگیں ہوتی ہیں‘‘ باورچی ایک مکار شاطر بھلا اپنی ہار کیسے مانتا کہنے لگا’’ حضور!آپ نے اس دن پکے ہوئے مرغ کو ’’ہش‘‘ نہیں کہا تھا؟‘‘مالک اس کج بحث، جھوٹے، مکار ملازم سے سخت نالاں تھا۔ آخر کار اس نے اُسے ملازمت سے فارغ کر کے سکون کا سانس لیا۔
اس ساری تمہید کا مقصد یہ سمجھانا تھا کہ ناہنجار اینڈ کمپنی سے یا شوبازسے کچھ اگلوانا ممکنات میں سے ہے۔ وہ بڑی دیدہ دلیری سے یہ کہتے رہیں گے کہ ’’انہوں نے ایک دھیلے کی کرپشن نہیں کی‘‘۔ اس لئے عوام کو یہ نہ بتایاجائے کہ عدالت میں ان سے کیا سوالات کئے گئے اور انہوں نے کیا جوابات دئیے۔ ’’یہ راز کی باتیں آپ لوگ انہیں اپنے دیکھے بنا خانوں میں دفن کر دیں‘‘ بڑے ذہین اور دانا لوگوں نے سوالات انہیں پیش کئے تھے اس میں سے کسی کے جواب نہ آئے۔ آئیں بائیں شائیں بکتے رہے چونکہ ان نوسربازوں کو معلوم ہے کہ عدلیہ، نیب یا قانون نافذ کرنے والے اداروں کے بس سے باہر ہے ان سے کچھ اگلوانا اور وصول کرنا۔
جنکی تجوریوں میں ہے سرمایہ قوم کا
ان شاطروں کا کیا ہے پتہ یہ نہ پوچھنا !
(اقبال عظیم)
اصحاب فن گھروں میں نظر بند ہو گئے
جولوگ بے ہُنر تھے ہُنر مند ہو گئے
محنت کشوں پہ ستم ٹوٹنے لگے
سردارہی قبیلوں کو اب لوٹنے لگے
محتاج ہوئے دشت فلاکت میں گامزن
پھرتی ہے سر پہ باندھے ہوئے زندگی کفن!
(نامعلوم)
پیارے ہم وطنوں! اگر تم یہ سوچ رہے ہو کہ نوازا واپس آئے گا اور تمہارا لوٹا ہوا خزانہ تمہیں مل جائے گا تو یہ غلط فہمی دیوانے کے خواب سے زیادہ حقیقت نہیں رکھتی یا کسی مجذوب کی بڑ ہو سکتی ہے؟ ہاں مرنے کے بعد دفن کے لئے ادھر آئیں گے۔ تو پیسہ دفن کرنے کے لئے لندن کو چنا اور جسد خاکی دفن کرنے کے لئے پاکستان کی سرزمین؟ یہ ناقابل قبول ہے۔ ایک انگریز نے طنزیہ کہا’’ اے حرام زادوں!اگر تمہیں واپس ادھر ہی آنا تھا تو ہمیں کیوں نکالا‘‘۔
ایف آئی اے نے برادرِ خرد کو عدالت میں طلب کر لیا۔ چائے کافی سے تواٗضع بھی کی۔ پھر بھی موصوف فرماتے ہیں ’’مجھے ہراساں کیا گیا‘‘ ایف آئی اے نے کچھ سوالات پوچھے تو اس چوہے نے ایک کتابچہ دکھا دیا جو انکی گزشتہ کارکردگی کا لطیفہ تھا۔ انہوں نے یہ تو نہیں بتایا ہو گا کہ انہوں نے کون کون سے پروجیکٹ پر کتنا بھاری کمیشن سمیٹا وہ تو بس دیوانوں کی طرح ایک ہی رٹ لگائے گا ’’میرے اوپر ایک دھیلے کی کرپشن بھی ثابت نہیں ہو سکتی‘‘ یہاں ہم نے پرانے سکوں کی یادگار کے طور پر سکہ یعنی دھیلا ضرورچھوڑ دیا۔ گھٹیا انسان چوہے یہاں تو ایف آئی اے والوں سے اگر بچ بھی گیا تو آگے کی پکڑ بڑی سخت ہو گی۔
سوال تھا’’آپ نے آمدنی سے زیادہ اثاثے کس طرح بنائے( یعنی ازدواج کی رہائش وغیرہ)
جواب یہ سوال آپ میری بیویوں سے پوچھیے۔
رمضان شوگر مل کے بارے میں کوئی جواب نہیں
سوال:25ارب آپ کے اکائونٹ میں کس طرح آئے
جواب: یہ سوال آپ میرے بیٹے (ناقابل اشاعت، ناخلف) سلمان شہباز سے پوچھیں وہی میرا اکائونٹ دیکھتا ہے اور یہ کپوت پہلے ہی لندن جا بیٹھا ہے۔ ایف آئی اے والے اگر لندن چلے بھی جائیں تو کیا وہ اس سنپولیے پر جواب دینے کے لئے زور ڈال سکتے ہیں؟
سوال: آپ کے پاس اتنی قیمتی گاڑیاں کیسے ہیں؟‘‘
جواب: یہ سوال آپ میرے بھتیجوں سے کیجئے۔ جو کہ پہلے ہی فراری ،اشتہاری ہیں۔ یہ ڈاکو یہ نوسرباز اس طرح قانون نافذ کرنے والے اداروں، عدالتوں کو اسی طرح بیوقوف بنانے کی کوشش کرتا رہے گا۔ سب ثبوت عدالت کے پاس ہیں تو سزا دینے میں انتظار کیا ہے؟ کیا اسے بھی بھگانے کا ارادہ ہے۔ اس سے اور سوالات بھی کئے گئے یہ اس طرح آئیں بائیں شاہیں کرتا رہا وہی مرغے کی ایک ٹانگ میں نے ایک دھیلے کی بھی کرپشن نہیں کی۔ کیا عوام یہ جوابات سن کر بھی خاموش تماشائی ہی بنی رہے گی؟ تمہیں انصاف چاہیے ناں؟ تو آواز اٹھائی پڑے گی۔ انکی اپیلوں، سزائوں تک ان کا پیچھا کرنا پڑے گا۔ ان کی لوٹی ہوئی سرکاری زمینوں کو واگزار کروانا پڑے گا۔ اگر اسی طرح لولے، لنگڑے، اپاہج بنے رہے تو فریاد نہ کرنا خاموشی سے مر جانا! ایسی قوم کا قدرت بھی ساتھ نہیں دیتی۔