جی 20 وزرا ماحولیاتی اہداف پر اتفاق رائے میں ناکام

257

اٹلی کے وزیر ماحولیاتی تبدیلی روبرٹو سِنگولانی نے کہا کہ جی 20 گروپ کے امیر ممالک کے توانائی اور ماحولیات کے وزرا حتمی مذاکرات میں ماحولیاتی تبدیلی سے متعلق تحریری وعدے پر اتفاق رائے کے قیام میں ناکام ہوگئے۔

جی 20 اجلاس کو نومبر میں 100 دن کے بعد گلاسگو میں ہونے والی اقوام متحدہ کی ماحولیاتی گفتگو (کوپ 26) سے قبل فیصلہ کن اقدام کے طور پر دیکھا جارہا تھا۔

کسی ایک نکتے پر اتفاق رائے میں ناکامی سے اسکاٹ لینڈ میں معنی خیز معاہدے کی امیدوں کو شدید دھچکا پہنچا ہے۔

روبرٹر سنگولینی نے صحافیوں کو بتایا کہ جنوبی اٹلی میں ہونے والے اجلاس میں وزرا دو متنازع امور پر اتفاق نہیں کر سکے اور اب ان معاملات پر روم میں اکتوبر میں ہونے والے جی 20 سربراہی اجلاس میں بات ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ چین، روس اور بھارت سے مذاکرات خصوصی طور پر مشکل ثابت ہوئے۔

روبرٹو سنگولینی کا کہنا تھا کہ ان میں سے ایک اہم نقطہ کوئلے کے ذریعے بجلی کی تیاری کو ختم کرنا ہے، کم و بیش تمام ممالک سال 2025 تک ایسا کامیابی کے ساتھ کرنا چاہتے ہیں لیکن کچھ ممالک نے کہا ہے کہ یہ ان کے لیے ناممکن ہے۔

دوسرا مسئلہ جس پر بات چیت کی گئی وہ عالمی درجہ حرارت 1.5 سے 2 ڈگری سینٹی گریڈ بڑھنے کی حد ہے جو پیرس معاہدے میں مقرر کی گئی تھی۔

اوسطاََ عالمی درجہ حرارت اس سے قبل ہی سائنسدانوں کے مقرر کردہ پری انڈسٹریل حد کے مقابلے ایک ڈگری سے زائد بڑھ چکا ہے اور 1.5 سے 2 ڈگری کی حد تجاوز کر رہا ہے۔

اٹلی کے وزیر نے کہا کہ حتمی گفتکو جمعہ تک شائع ہونے کی توقع تھی لیکن ممکن ہے کہ اب شاید ہفتے سے قبل جاری نہ کی جائے۔

کوپ 26 سے قبل ماہرین ماحولیات نے توقع ظاہر کی تھی کہ جی 20 کا اجلاس ماحولیاتی تبدیلی کے ہدف کو مضبوط، ماحولیاتی تبدیلی کے متعلق فنانسنگ کے لیے نئے عزائم ظاہر کرے گا اور 2050 تک صفر اخراج کرنے والے ممالک میں اضافہ ہوگا۔