بھارت بھاری اکثریت سے سلامتی کونسل کا غیرمستقل رکن منتخب

236

ہندوستان دوسال کے ليے اقوام متحدہ سلامتی کونسل کا غیرمستقل رکن بن گیا جبکہ سابق ترک سفیر ولکان بزکیر کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا صدر منتخب کرلیا گیا۔

سلامتی کونسل کی غیرمستقل نشست کے لیے رائے شماری جمعرات کو ہوئی جس میں 192 ممالک میں سے 184 ملکوں نے ووٹ دیے اور یہ سارے ووٹ بھارت کی حمایت میں گئے جس کے نتیجے میں بھارت یکم جنوری 2021 سے 31 دسمبر 2022تک سلامتی کونسل کا غیر مستقل رکن منتخب رہے گا۔ بھارت اس سے قبل بھی سات بارسلامتی کونسل کا غیرمستقل رکن رہ چکا ہے۔

پاکستان اور چین سمیت ایشیا پیسیفک گروپ ارکان بھارت کی پہلے ہی حمایت کرچکے تھے۔ بھارت کے علاوہ آئرلینڈ، میکسیکو اور ناروے غیر مستقل نشست پرسلامتی کونسل کے ارکان منتخب ہوئے ہیں۔

اس موقع پر بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ہندوستان دیگر ارکان ممالک کے ساتھ مل کرعالمی امن اور سلامتی کے لیے کوشاں رہے گا۔

دوسری جانب اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی صدارت کے لیے بھی ووٹنگ ہوئی جس میں پہلی بارترک شہری سابق سفیر ولکان بزکیر صد منتخب کرلیے گئے۔ وہ رواں سال ستمبر میں جنرل اسمبلی کے عام اجلاس کی صدارت کریں گے۔۔

دریں اثنا پاکستان کے دفتر خارجہ کی ترجمان عائشہ فاروقی نے ہفتہ وار بریفنگ میں کہا ہے کہ سلامتی کونسل میں بھارت کے انتخاب پر سوالیہ نشان ہیں۔ سلامتی کونسل کی ساکھ اور جواز کے لیے مسئلہ کشمیر ایک کسوٹی کی مانند ہے۔ سلامتی کونسل کو اقوام متحدہ کے اصولوں اور مقاصد کے مطابق کام کرنا ہوگا جبکہ بھارت اب تک سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی پر ڈٹا ہوا ہے جن میں کشمیریوں کے حق خود ارادیت کوتسلیم کیا گیا ہے۔