افغان صدارتی محل کے قریب راکٹ حملے، سکیورٹی سخت کر دی گئی

125

افغان صدارتی محل کے قریب راکٹ حملے کئے گئے، حملوں کے بعد سکیورٹی سخت کر دی گئی۔ راکٹ شہر کے شمالی حصے سے داغے گئے۔

کابل راکٹ حملوں کی زد میں آگیا۔ راکٹ صدارتی محل کے قریب باغِ علی اور چمن حضوری کے علاقے میں گرے۔ راکٹ حملے عید نماز کے دوران ہوئے۔ صدر اشرف غنی، عبداللہ عبداللہ سمیت دیگر اعلی حکام عید کی نماز پڑھ رہے تھے۔ حملوں سے خوف و ہراس پھیل گیا، علاقے کو سکیورٹی اہلکاروں نے گھیرے میں لے لیا۔

نماز عید کے بعد صدر اشرف غنی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ طالبان نے ظاہر کر دیا کہ انہیں امن کی کوئی خواہش نہیں، وہ اسی بنیاد پر فیصلے کریں گے، اگلے تین سے چھ ماہ میں صورت حال بدل جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں ملیشیا بنانے اور آمریت کی کوئی جگہ نہیں، صورت حال پر قابو پانے کے لیے عملی منصوبہ بنالیا ہے۔