افغانستان کی بدلتی صورت حال ، بھارت کو اپنی سفارتی شکست صاف نظر آرہی ہے

68

افغانستان کے اندر صورت حال بہت تیزی سے تبدیل ہورہی ہے۔ امریکی صدر جوبائیڈن کے اعلانات کے بعد کہ امریکی اپنی فوجیں ہمیشہ کے لئے افغانستان سے نکال لے گا طالبان کی اہمیت بہت زیادہ بڑھ گئی ہے قطر میں ٹرمپ انتظامیہ نے جو سمجھوتہ کیا تھا اور ایک فریم ورک دیا تھا۔ جوبائیڈن نے الیکشن جیتنے کے بعد بھی اس ہی معاہدہ کو آگے بڑھایا۔ تقریباً بیس سالوں کے بعد امریکی دفاعی اداروں اور حکومت نے یہ سمجھ لیا کہ طالبان کو اشرف غنی یا عبداللہ عبداللہ کے ذریعہ شکست نہیںدی جا سکتی۔ اس لئے بہتر ہے کہ افغانستان کو افغانیوں کے حوالے کر دیا جائے اور ان کو آپس میں ہی لڑنے مرنے دیا جائے۔ اگر طالبان دوبارہ اپنی حکومت بناتے ہیں تو امریکہ دور سے بیٹھ کر ان پر نظر رکھے اسی لئے وہ پاکستان سے اپنے لئے اڈے مانگ رہا تھا جس کو عمران خان نےAbsolutely notکہہ کر مسترد کر دیا تھا اب امریکہ رشین ممالک یا گلف کے ملکوں میں اپنے لئے اڈے تلاش کرے گا۔ قطر میں اس کی (Basis)بیسس پہلے ہی سے موجود ہیں۔ بھارت بھی امریکہ کو اڈے دے کر مزید چین کو اپنا دشمن نہیں بنانا چاہتا۔ بھارت پہلے ہی چائنا کی ہٹ لسٹ پر موجود ہے۔ اس کے لئے تین محاذ کھلے ہوئے ہیں۔ پہلا کشمیر، دوسرا خالصتان، تیسرا اس کے ساتھ صوبے جہاں سب سے زیادہ شورش ہے اور وہ چین سے ملتے ہیں۔ امریکہ نے جب سے کشمیر کے معاملے پر اپنا دبائو بڑھایا ہے بھارت ایک بے کسی کی تصویر بنتا جارہا ہے۔ مجبوراً اس کو کشمیر کانفرنس بلانی پڑی اور آہستہ آہستہ وہ تنہا ہوتاجارہا ہے۔ مسئلہ کشمیر پر اس کو کشمیر کانفرنس بلانی پڑی جو بغیر محبوبہ مفتی کے بے نتیجہ رہی۔ فاروق عبداللہ پہلے ہی حکومت کے ساتھ رہے ہیں اور اس مرتبہ بھی اس میٹنگ میں شریک ہوئے۔ ان کا مقصد ہر حال میں اقتدار حاصل کرنا ہے۔
بھارت کاقندھار میں بہت ہی فعال قونصلیٹ ہے کہا جاتا ہے کہ پاکستان میں اور بارڈر پر ساری دہشت گردی کو قندھار کا قونصلیٹ آرگنائز کرتا ہے۔ امریکہ کی فوج کی واپسی کے بعد جس اندازسے طالبان نے آگے بڑھنا شروع کیا اور مختلف اضلاع پر قبضہ کرتے چلے جارہے ہیں اس سے دنیا کو خاص طور سے بھارت کی تشویش میں اضافہ ہوتا جارہا ہے جیسے ہی طالبان قندھار کے قریب پہنچے۔ بھارت نے دوطیارے اپنے سفارتی عملے کو لینے کے بہانے قندھار بھیجے۔ کہا جاتا ہے کہ ان دونوں طیاروں میں بھارت نے اسلحہ اور بارود کی کھیپ افغانستان فوج کو پہنچائی تاکہ وہ طالبان سے لڑ سکیں اور ان کو آسانی سے کابل پر قبضہ نہ کرنے دیں۔ یہ بات طالبان کے لوگوں سے بھی چھپی نہ رہ سکی۔ طالبان کے ترجمان نے بہت کھلے انداز میں بھارت کو دھمکی دی ہے کہ وہ مداخلت سے باز رہے ورنہ اس کے نتائج اس کو بھگتنے پڑیں گے۔ بھارتی عملہ کو بہت تیزی سے قندھار سے نکلنا پڑا۔ اسلحہ خالی کر کے دونوں طیارے اپنے آدمیوں کو لیکر کابل پہنچ گئے۔ اب آخری جنگ کابل میں لڑی جائے گی۔ طالبان بھی آہستہ آہستہ کابل کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ اشرف غنی بھی آخری جنگ کیلئے کابل میں تیاریاں کررہا ہے۔ ایک خبر یہ بھی آئی ہے کہ اس نے فیملی کو کابل سے امریکہ شفٹ کردیا ہے۔ خود اشرف غنی بھی امریکہ سے ہی آیا تھا اور شائد واپس اپنے بینک میں ہی چلا جائے۔
بھارت کا اگر ماضی کا رول افغانستان میں دیکھیں تو ان سے بہت زیادہ انویسٹمنٹ کی ہوئی ہیں افغانستان کی قومی اسمبلی بلڈنگ بھارت کی ہی مرہون منت ہیں اس کے علاوہ ڈیمز اور دوسرے پراجیکٹ میں بھارت نے بہت زیادہ انویسٹمنٹ کی ہوئی ہیں۔ بھارت کو کبھی یہ یقین ہی نہیں تھا کہ امریکہ افغانستان سے واپس جائیگا یا طالبان کی حکومت دوبارہ واپس آسکتی ہے۔ اسی وجہ سے بھارت پاکستان کے اندر دہشت گردی کروانے کیلئے افغانستان سرزمین کو استعمال کررہاتھا۔ بلوچستان میں جتنے دھماکے ہوئے یا پہلے کراچی اور ملک کے دوسرے حصو ں میں دہشت گردی ہوتی رہی وہ بھارت کی ایجنسی را کرواتی رہی کلبھوشن یادو بھارتی نیوی کا ایجنٹ تھا جو آج کل پاکستان کی قیدمیں ہے جو بھارتی مداخلت کا زندہ ثبوت ہے۔ بھارت کے لئے مشکل یہ ہے کہ اب اس کا کردار افغانستان سے ختم ہوتا جارہا ہے۔ اس کی ساری انویسٹمنٹ ڈوبتی جارہی ہے۔ پاکستان پر دبائو رکھنے کیلئے جو وہ افغانی سرزمین کو استعمال کررہا تھا اب اس کا خاتمہ قریب ہے۔ اس کی ساری دولت اور اثر و رسوخ کا خاتمہ قریب ہے۔ پاکستان پر وہ دونوں طرف سے دبائو نہیں بڑھا پائے گا۔ اب پاکستان کیلئے اس کے پاس صرف ایک ہی بارڈر رہ گیا ہے۔ دوسری طرف چائنہ اس کی پیٹھ پر بیٹھا ہوا ہے۔ کشمیر اب ایک ایسا سلگتا ہوا ناسور اس کے لئے بن گیا ہے مسلم ممالک نے بھی اب بھارت سے منہ موڑ لیا ہے۔ سعودی عرب، دبئی اب آہستہ آہستہ اس سے دور ہوتے جارہے ہیں۔ ٹرمپ کے ہٹنے کے بعد امریکہ نے بھی اپنی پالیسی بدل لی ہے۔ وقت آہستہ آہستہ بھارت کے خلاف ہوتا جارہا ہے۔ مودی کو شائد اب اپنی ناکام پالیسیاں نظر آرہی ہیں۔ وہ اس خطہ میں اکیلا ہوتاجارہا ہے اور شاید یہی اس کی شکست کا آغاز ہے۔ بھارت نے کبھی خواب میں بھی نہ سوچا ہو گا کہ حالات اس طرح بدل جائیں گے۔ افغانستان بھی ا سے کٹ جائے۔چائنا بھی اس کادشمن ہو جائے گا۔ ٹرمپ بھی ہار جائے گا۔ پاکستان بھی اس کو آنکھیں دکھائے گا۔ داخلی طور پر بھارت میں اپوزیشن بھی طاقتور ہوتی جارہی ہے۔ مودی اور بھارت ہر طرف سے تنہائی میں گھرتے جارہے ہیں۔ پاکستان کے اب اچھے دن آنے والے ہیں۔ عمران خان بہت خوش قسمت آدمی ہے پاکستان نے اپنا مشکل وقت گزار لیا ہے۔ معاشی طور پر پاکستان بہتر پوزیشن میں ہے۔ کرونا کو بھی بہتر پلاننگ سے قابوپایا گیا ہے۔ افغانستان میں آنے والی طالبان حکومت بھارت کیلئے مصیبت اور پاکستان کا ایک بارڈر محفوظ کر دے گی۔امید ہے کہ کشمیر یقینی طور پر اپنی آزادی کی جنگ جیت لے گا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.