بیدار ضمیر، شفاف فیصلہ

59

طاغوت کا وار جب خالی جاتا ہے تو کیا ہوتا ہے؟
اس سوال کا جواب ہمیں اس افراتفری سے مل رہا ہے جس میں بیس برس تک افغانستان کو برباد کرنے والے مغربی سامراج کے کلیدی نمائندے اب لشتم پشتم وہاں سے راہ، فرار اختیار کررہے ہیں۔ بیس برس کے طاغوتی قبضہ کے بعد بھی امریکی اور اس کے حلیف مغربی سامراجیوں کو افغانستان میں منہ کی کھانی پڑی اور سوا اس کے کہ کابل اور اس کے گرد و نواح میں اپنے کٹھ پتلی افغان گماشتوں کی ایک برائے نام حکومت کو اپنے فوجیوں اور ہزاروں کرائے کے فوجیوں کی مدد سے چلاتے رہنے میں بالاخر ناکام ہونے کے بعد اب سامراجی وہاں سے منہ چھپاکے ایسے بھاگ رہے ہیں جیسے کسی گھر میں نقب لگانے والے چور اس وقت بھاگتے ہیں جب گھر کے لوگ بیدار ہوجائیں اور چوروں کو فرار کا راستہ بھی تنگ ہوتا ہوا محسوس ہو۔
یہ ہم نہیں کہ رہے بلکہ مغربی نیوز میڈیا کے اپنے ترجمان واویلا کررہے ہیں کہ امریکی افواج افغانستان سے ایسے بدحواس ہوکے نکل رہی ہیں جیسے وہ طالبان جن کو ہمیشہ کیلئے ختم کردینے کا نعرہء مستانہ بلند کرکے سامراجی قوتیں افغانستان پر حملہ آور ہوئی تھیں کابل کے پھاٹک تک پہنچ گئے ہوں۔
برطانیہ کا ایک بہت معروف ٹیلی وژن چینل ہے اسکائی نیوز جس کی ایک صحافی خاتون نے ابھی جو رپورٹ افغانستان سے بھیجی ہے وہ چشم کشا ہے۔ اس کا یہ کہنا ہے کہ امریکی بیس برس تک کابل کے باہر باگرام کی ائیر بیس پر قابض رہنے اور وہاں جیسے ایک امریکی شہر بسانے کے بعد وہاں سے راتوں رات ایسے بدحواس ہوکے فرار ہوئے ہیں کہ بجلی بند کرکے اور افغانیوں کو اطلاع دئیے بغیر وہاں سے رات کی تاریکی میں نکل گئے۔ ان کے افغانی حلیفوں کو کئی گھنٹے بعد صبح کو یہ پتہ چلا کہ وہ جن پہ ان کا تکیہ تھا وہ تو ان پرندوں کی طرح پنجرہ چھوڑ کر چلے گئے جن کیلئے پنجرے کا دروازہ اچانک کھل گیا ہو۔
یہی نہیں بلکہ اسکائی نیوز کی نمائندہ صحافی نے ایک اور بیس کی جھلکیاں بھی دکھائیں جو کابل سے ذرا فاصلے پر شمال کی طرف تھی۔ اسے بھی امریکی افواج ایسی بدحواسی میں چھوڑ کے بھاگیں کہ طالبان کو وہاں پر اسلحہ اور ہتھیاروں کا ایک بہت بڑا ذخیرہ بھی ہاتھ لگ گیا۔ اس کے علاوہ بکتر بند گاڑیاں، ٹرک اور دنیا بھر کا سامان جو امریکیوں کے استعمال میں تھا وہ بھی مالِ غنیمت کی شکل میں طالبان کی تحویل میں آچکا ہے۔
یہ شکست خوردہ ذہنیت کیوں پیدا ہوئی اس کی ایک ہی توجیہ سمجھ میں آتی ہے اور وہ یہ کہ امریکی سامراج نے دوسری جنگِ عظیم کے بعد جہاں جہاں فوجی مداخلت کی اور اپنی عسکری برتری اور جدید اسلحہ کی بنیاد پر تباہی مچائی، معصوم شہریوں کو بیدریغ قتل کیا، کتح پتلی حکمرانوں کو اپنی انگلیوں پہ نچایا اور انہیں اپنے مفاد اور ان غاصبوں کے مجبور و محروم عوام کے حقوق اور مفادات کے خلاف استعمال کیا تو پھر اس مبدائے فیض نے، اس خدائے عادل نے سامراجیوں کے منہ پر کالک مل دینے کا سامان پتدا کیا۔ ہمارے عہد کی تاریخ یہی ہے کہ امریکی کوریا سے بھی خوار ہوکے نکلے، ویت نام سے بھی رسوائی اور جگ ہنسائی کی صورت نکلے، عراق میں بھی منہ کی کھائی اور اب اپنی تاریخ کی طویل ترین، بیس سالہ، جنگ لڑنے کے بعد بھی انجامِ کار افغانستان سے چوروں کی طرح فرار ہونا ہی ان کا مقدر ٹہرا۔
جس کسی کو بھی مرزا غالب کے اس معروف مصرعہ کا مفہوم سمجھ میں نہ آیا ہو وہ اب امریکہ کا افغانستان سے فرار دیکھ کر بخوبی جان سکتا ہے کہ بہت بے آبرہ ہوکے ترے کوچے سے ہم نکلے کیا ہوتا ہے۔
طالبان کی پیش رفت جاری ہے اور افغانستان کا بیشتر حصہ اب ان کے قبضہ میں ہے۔ مغربی ذرائع کے مطابق ستر فیصد کے قریب علاقہ اب طالبان کے زیر اثر ہے لیکن طلبان کا دعوی یہ ہے کہ پچاسی فیصدسے زیادہ افغانستان اب ان کا ہے اور ان کے ایک ترجمان نے تو یہ بھی کہ دیا ہے کہ وہ جب چاہیں کابل پر قبضہ کرسکتے ہیں۔ ترجمان نے یہ بات صدر بائیڈن کے اس دعوی کے جواب میں کہی تھی کہ طالبان کے کابل پہ قبضہ کرنے کے امکانات بہت کم ہیں کیونکہ بقول ان کے وہ افغانی سپاہ جس کی تربیت امریکی افواج نے کی ہے اور جس کام پر پیسہ پانی کی طرح بہایا گیا ہے وہ کابل اور دیگر علاقوں کا دفاع کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ لیکن بائیڈن صاحب کا یہ دعوی باطل ہوتا دکھائی دیتا ہے۔ ابھی چند دن پہلے یہ ہوا، اور یہ اطلاع بھی مغربی ذرائعِ ابلاغ کی ہے، کہ چند طالبان سپاہیوں کو آتا دیکھ کر ایک ہزار افغان حکومت کے سپاہی ایسے بدحواس ہوکے بھاگے کہ نہ صرف اپنا اسلحہ اور ہتھیار طالبان کیلئے چھوڑ گئے بلکہ خوف سے کانپتے ہوئے تاجکستان کی سرحد پار کرکے وہاں داخل ہوگئے۔
طالبان نے دنیا کی سب سے بڑی عسکری طاقت کے خلاف اپنی مزاحمت جس کامیابی سے جاری رکھی ہے اس کے متعلق تو صرف یہی کہا جاسکتا ہے کہ جنگ اسلحہ کی بھرمار اور ہتھیاروں کی افراط سے نہیں بلکہ عزم اور جذبہ کی فراوانی سے لڑی جاتی ہے۔ اور یہ کہنا کوئی غلط بھی نہیں ہے اسلئے کہ ہماری اسلامی تاریخ ایسی ان گنت مثالوں سے بھری پڑی ہے جہاں مٹھی بھر مجاہدوں نے اپنے خلاف کیل کانٹے سے لیس افواجِ قاہرہ کو جنگ کے میدان میں ذلت اور خواری کی دھول چٹادی۔
اب جو ہزیمت امریکی سامراج کو اٹھانی پڑی ہے تو ان کے حلیف نئے سامراجیوں کے حوصلے بھی پست ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔ ان نو سامراجیوں میں ہمارا ازلی دشمن اور فسطائی عزائم کا حامل پڑوسی بھارت بھی شامل ہے۔ نریندر مودی کو ڈینگیں مارنے کی بری عادت ہے اور اپنے امریکی حلیفوں کی افغانستان میں مداخلت کے بعد بھارت پالیسی ساز یہ سمجھنے لگے تھے کہ انہیں پاکستان کے خلاف اپنے ناپاک عزائم کو ہوا دینے اور انہیں عملی جامہ پہنانے کیلئے ایک مستقل ٹھکانہ میسر ہوگیا ہے۔ افغانستان میں امریکی سامراجیوں کی پشت پناہی سے فسطائی بھارت نے بہت فائدہ اٹھانے کی کوشش کی۔ ان ناپاک اور مذموم بھارتی عزائم میں سرِ فہرست یہ منصوبہ تھا کہ پاکستان کی سرحد سے متصل افغان شہروں میں بھارت کے قونصل خانے یکے بعد دیگرے قائم کئے گئے، کابل کی کٹھ پتلی حکومت کے ایماء اور بھرپور تعاون سے۔ اصل میں یہ بھارتی قونصل خانے پاکستان کے خلاف جاسوسی اور دہشت گردی کی کارروائیوں کے اڈے تھے جہاں سے کلبھوشن یادو جیسے تربیت یافتہ جاسوس اور دہشت گرد پاکستان میں مسلسل بھجوائے جاتے رہے اور وہ دہشت گردی کی کارروائیاں سر انجام دیتے رہے۔ اب امریکی پسپائی اور طالبان کی مسلسل کامیابیوں نے مودی سرکار کو بھی اسی طرح بدحواس کردیا ہے جیسے ان کے امریکی سرپرست وہاں سے بدحواسی میں فرار ہورہے ہیں ایسے ہی اب بھارت بھی افغانستان سے اپنا بوریا بستر باندھ رہا ہے۔ جلال آباد اور ہرات میں بھارتی جاسوسی کے اڈے، یعنی قونصل خانے پہلے ہی بند کردئیے گئے تھے اب قندھار سے بھی بھارتی اپنا قونصل خانہ بند کرکے امریکیوں کے ساتھ ہی فرار ہوگئے ہیں۔ خس کم جہاں پاک۔
اس پس منظر میں جہاں امریکہ اور اس کے حلیف طالبان کے پھر سے افغانستان میں غلبہ کے احساس سے ہراساں اور پریشان ہیں عمران خان کا یہ فیصلہ کتنا صائب اور درست ہے کہ پاکستان کسی بھی صورت اب اس قضیہ میں نہیں پڑے گا۔ بیس برس پر محیط افغانستان کے خلاف امریکی جارحیت کی جو قیمت پاکستان نے ادا کی ہے وہ پاکستانی ہی جانتے ہیں۔ پاکستان اب مزید حماقتوں اور ممکنہ لازمی نقصانات کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ پاکستان کے قومی مفادات کا بہترین تحفظ اسی میں مضمر ہے کہ افغانستان کے اپنے لوگ خود اس کا فیصلہ کریں کہ وہ کیسی قیادت چاہتے ہیں: طالبان کی حکومت یا ایک پرامن سیاسی سمجھوتے کے نتیجہ میں بننے والی ایک مخلوط حکومت۔ آخری اور حتمی فیصلہ افغان عوام کا ہونا چاہئے اور ان کے اس فیصلے میں مداخلت کی کسی ملک یا طاقت کو اجازت نہیں دی جاسکتی۔ پاکستان کو آزاد افغان عوام کا ہر فیصلہ قبول ہوگا۔ ہم اپنے برادر پڑوسی ملک کو امن کے ماحول میں پھلتے پھولتے دیکھنا چاہتے ہیں اور اپنے تئیں ہم جو کچھ بھی ان کی تعمیر و ترقی میں ان کی بہبود کیلئے کرسکیں وہ ہم کرنے کیلئے آمادہ ہیں۔ پڑوسی ہونے کے ناطے یہ ہم پر فرض بھی ہے اور ہمارا حق بھی، اور یہ حق نہ توسیع پسند بھارت کا ہے نہ ہزاروں میل دور انکل سام کا!

Leave A Reply

Your email address will not be published.