سول وار ناگزیر!!

61

امریکہ کے انخلاء کے اعلان پر پاکستان کے حکومتی حلقوں میں جشن کا سماں تھا، ایسا لگا جیسے من کی مراد بر آئی اور پاکستان دل سے چاہتا تھا کہ افغانستان پر طالبان کی حکومت ہو، پاکستان کے دینی حلقے بھی نہال خوشی سے تھے کہ اب پاکستان میں ہی نہیں، پاکستان سے باہر افغانستان سے بھی وہی آوازیں پاکستان میں گونجتی رہی ہیں گویا ان کو مضبوط سیاسی کمک مل جائے گی اور ان کو کھل کر کھیلنے کا موقع مل جائے گا، ہم کئی بار لکھ چکے ہیں کہ پاکستان میں ووٹ دینے کو جمہوریت کہا جاتا ہے، نماز پڑھنے کو اسلام گردانا جاتا ہے اور جلسے جلوس کرنے کو سیاسی عمل کہا جاتا ہے، آئین کی مختلف شقیں پھوڑ کر سیاسی جماعتوں نے اپنے کرتوں کوجیبوں میں بھر لی ہیں اور وقت ضرورت ان کو نکال کر ٹاک شوز اور جلسوں میں پڑھا جاتا ہے، جبکہ نہ ملک میں آئین نہ کوئی نظام، اور نہ ہی حکومت کی رٹ، مافیاز دندناتے پھرتے ہیں اور کسی کی مجال نہیں کہ ان کو لگام ڈال سکے، وزیراعظم کی میز پر کبھی ایک فائل بھی نہیں دیکھی اور خالی میز پر بیٹھ کرعلاقوں میں ہونے والے جرائم کا نوٹس لیتا رہتا ہے گویا جو کام ایک SHOکا ہے یا زیادہ سے زیادہ ایک SSPکا ہے وہ وزیراعظم انجام دیتا ہے، وہ امن و امان سے متعلق معاملات پر وزیر داخلہ طلب نہیں کیا جاتا بلکہ ایک پولیس آفیسر سے ملاقات کی جاتی ہے، اگر وزیراعظم کی عقل کا یہ معیار ہو تو امن و امان کی توقع کیسے کی جاسکتی ہے، ہمیشہ طریقہ یہ رہا کہ ناشتے پر ملک کے امن و امان سے متعلق رپورٹس وزیراعظم کو باقاعدگی سے پیش کی جاتی ہیں مگر عقل کا ماتم کیجئے کہ عمران کو ملک کی خبریں ٹی وی سے ملتی ہیں، گویا اس شخص کے پاس ٹی وی دیکھنے کی فرصت ہے یہی حال قومی اسمبلی اور سینیٹ کے زیادہ تر اراکین کا ہے، سیاسی جماعتیں علاقے کے متمول جاہل افراد کو قومی اسمبلی اور سینیٹ کے ٹکٹ دیتی ہیں جن کو ایکٹ آف پارلیمنٹ اور بل کا فرق بھی معلوم نہیں ہوتا، ہم یہ بھی لکھ چکے ہیں کہ پاکستان کی تاریخ میں کوئی سیاست دان ایسا نہیں گزرا جس کو معاشیات، سیاسیات اور سماجیات کی مناسب درک ہو، بھٹو شائد ایک استثنیٰ تھا، پاکستان کے کسی رہنماکو عالمی سیاست سے واقفیت کبھی تھی ہی نہیں اسی لئے ملک آہستہ آہستہ غیر ملکی مداخلت کا شکار ہو گیا، جب بھٹو کی حکومت کا تختہ الٹا گیا تو یہ کہا جاتا ہے کہ امریکی سفیر نے کہا تھا کہ PARTY IS OVER
اس پس منظر میں یہ کیسے مان لیا جائے کہ پاکستان کے سیاست دان اور دینی حلقے افغان مسئلے کو سمجھتے ہیں، بہت گہرائی میں نہ جائیں بس اس بات پر غور کر لیجئے کہ امریکہ نے افغانستان کو کھنڈر بنا دیا اور آدھے پاکستان کو تباہ کر دیا مگر ہمارے سیاست دان اور میڈیا یہی ڈھول بجاتے رہے ہیں کہ افغانستان میں امریکہ کو شکست ہو گئی، پاکستان خطے میں IRREVELENTہو چکا، ہماری کل خارجہ پالیسی ANTI AMERICA. ANTI INDIAاور نام نہاد اسلام پر کھڑی ہے اور یہ سب کچھ DOMESTIC CONSUMPTIONکے لئے ہے تاکہ عوام کو بیوقوف بنایا جاتا رہے، چونکہ حکومت تین سال سے کچھ کر نہیں پائی لہٰذا ہر آواز دبانے کے گالم گلوچ بریگیڈ بنائی گئی ہے جو اپوزیشن کی ہر آواز کو دبا دیتی ہے سنجیدگی سے مسائل پر گفتگو نہیں ہو پاتی، معیشت پر تو عشروں سے سرسری گفتگو بھی نہیں ہوئی، افغان مسئلے کو ہمیشہ پاکستانی سیاست دانوں نے طالبان کی موجودگی کے حوالے سے دیکھا ہے اور ہمیشہ کرزئی اور اشرف غنی حکومت کا مذاق اڑایا جاتا رہا یہ محض پاکستان کے طالبان کو خوش کرنے اور ان کو لبرل قوتوں پر حاوی رکھنے کے لئے کیا گیا، اسی طرح ہم مودی کا مذاق بھی صرف عوام کی توجہ اصل مسائل سے ہٹانے کے لئے اڑاتے رہے ہیں عوام کے سامنے کشمیر کے حوالے سے اپنی بے بسی کااظہار اس طرح کیاجاتا ہے کہ عالمی ضمیر نہیں جاگتا اور یہ شعبدہ باز جانتے ہیں کہ عالمی ضمیر نام کی کوئی شے موجود نہیں ہے، ممالک کے درمیان محض مفادات کی بنیاد پر تعلق ہوتا ہے اور دنیا یہ بھی دیکھتی ہے کہ آپ دنیا کو کیا دے رہے ہیں بھیک فطرہ اور امداد لینے والوں کی کون سنے گا۔
امریکہ افغانستان میں اپنے مقاصد حاصل کر چکا، اس نے چالیس سال تک ان دو ملکوں کے POTENTIALپر اپنے پائوں رکھے اور معاشی اعتبار سے ان کو کئی عشرے پیچھے دھکیل دیا، سی پیک پر ہولڈ لگا دیا اور چین کے بڑھتے ہوئے قدم وہیں رک گئے، تین سالوں میں کوئی پیشرفت نہ ہو سکی، حال یہ ہے کہ گوادار کے چائنا بزنس سنٹر میں CCTV CAMERASبھی نصب نہ ہو سکے، امریکہ کے انخلاء کی خبر سن کر گوادار جس کا سارا کنٹرول فوجیوں کے پاس ہے کام میں تیزی دکھائی، INDEPENTENTذرائع سے پتہ چلا کہ گوادر میں بندرگاہ کی چار BERTHSکھولنے کا کام تیزی سے کیا گیا ہے اور سی پیک کے اس سیکشن میں قابلِ دید کام ہوا ہے، بہتر ہوتا کہ امریکہ کو افغانستان سے پرامن انخلاء ہونے تک انتظار کیا جاتا مگر گوادر کی چاربر تھیں کھولنے کی CELEBRATIONSمیں جلد بازی کا مظاہرہ کیا گیا اور فاتر العقل وزیر اعظم نے وہاں یہ بیان بھی دے دیا کہ بھارت افغانستان میں LOOSERہے ہر چند کہ بارہا یہ کہا گیا کہ پاکستان افغانستان کے کسی سیاسی دھڑے کی حمایت نہیں کرتا مخبوط الحواس شاہ محمود قریشی نے طالبان کی اتنی تعریفیں کر ڈالیں کہ پہلا بیانیہ مشکوک ہو گیا، اور دنیا سمجھ گئی کہ پاکستان طالبان کی غیر مشروط حمایت کرنا چاہتا ہے تاکہ اسی بیانیہ کو پاکستان میں بھی پذیرائی ملے اور ایک مذہبی حکومت بنائی جا سکے، خواتین کے تحفظ کا بل جو قومی اسمبلی سے منظور ہو چکا تھا آئین کو پامال کرتے ہوئے وزیراعظم کے حکم پر اسلامی نظریاتی کونسل کے حوالے کر دیا گیا جس پر ساری دنیا کی انسانی حقوق کی انجمنوں نے احتجاج کیا اور معاملہ FATFتک بھی پہنچا دیا گیا، بگرام کے ہوائی مستقر کو جب افغان فورسز کے حوالے کیا گیا تو اندازہ تھا کہ باقی کام بھی سکون سے ہو سکے گا مگر دو DEVELOPEMENTSایسی ہوئیں جس نے اس کام کو تعطل کا شکار کر دیا ایک اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ کی جوبائیڈن سے ملاقات، ایک ہزار کے قریب امریکی افواج کی موجودگی، اور طالبان کی بہت تیزی سے پیش قدمی، لہٰذا وہ بھارت جو چین سے ٹکرائو سے ہمیشہ کتراتا رہا افغانستان میں اپنے مفادات کے تحفظ کی خاطر مغربی ایما پر 89 TONSگولہ بارود ہوائی جہازوں کے ذریعے پہنچانے میں ذرا نہ ہچکچایا، اب لگتا ہے کہ افغانستان میں سول وار ہو کر رہے گی اور اس خانہ جنگی کی صورت میں چین کے بڑھتے قدم رک جائینگے اور پاکستان کا وہ خواب بھی چکنا چور ہو جائیگا کہ وہ آذر بائیجان، تاجکستان، کرغستان، ترکمانستان، کاغزستان سے تجارت کر سکیں گے اور یورپ کے نخرے نہیں اٹھانا پڑیں گے، اگر پاکستان کی اپوزیشن کو بیرونی فنڈنگ ہو جاتی ہے اور سول وار طول کھینچتی ہے تو پاکستان کو اس کے دھچکے برداشت کرنا پڑیں گے، یہ نہیں ہو سکتا کہ طالبان ایک بار پھر داعش کے ساتھ مل کر دنیا کے لئے خطرہ بن جائے، اسلحے کی اس ترسیل سے طالبان کی طاقت کم کی جا سکتی ہے اور یہ اگر پاکستان کی طرف بھاگے تو پاکستان عدم استحکام سے دو چار ہو گا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.