واپسی عجلت میں ہوئی یا تاخیرسے!!

60

ہم امریکہ پر الزام عائد کرتے ہیں کہ وہ تاریخ سے سبق نہیں سیکھتاہم یہ بھی کہتے ہیں کہ وہ اگر دنیا کے معاملات کو صحیح طرح سے سمجھ سکتا تو ویتنام کی ہزیمت ناک شکست کے بعد افغانستان اور عراق پر حملے نہ کرتاان دونوں ممالک پر چڑھائی کیلئے امریکہ کے پاس تاویلوںاور دلائل کی کمی نہیں مگر دنیا اسکے پیش کردہ ہر جواز کو عذر گناہ بد تر از گناہ سجھتی ہے مگر لگتا ہے کہ امریکہ کو ہمیشہ کی طرح اب بھی جنگوں کے خلاف کسی اندرونی یا بیرونی تنقید کی کوئی پرواہ نہیں البتہ اتنا ضرور ہے کہ تین جولائی کو بگرام ائیر بیس کو خالی کرتے وقت اس نے اس بات کا واضح ثبوت دیا ہے کہ وہ تاریخ سے سبق سیکھنے کی صلاحیت سے بالکل بے بہرہ نہیں ہے اب جبکہ اس نے اپنی اس نئی خوبی کا ببانگ دہل مظاہرہ کر دیا ہے تو دنیا ہاتھ دھو کر اسکے پیچھے پڑ گئی ہے کہ اس نے افغانستان سے عجلت میں انخلاء کر کے پورے خطے کو عدم استحکام سے دوچار کر دیا ہے گذشتہ جمعرات کے دن وائٹ ہائوس کی ایک طویل اور مفصل پریس کانفرنس میں صدر بائیڈن نے انشراح صدر کیساتھ وہ عوامل بیان کئے جنہیں مد نظر رکھتے ہوے انہوں نے تیز رفتاری کیساتھ بگرام ائیر بیس کو رات کے اندھیرے میں افغان حکومت کو بتائے بغیر خالی کرنے کا فیصلہ کیا ظاہر ہے کہ صدر بائیڈن اگر چاہتے تو یہی کام دن کی روشنی میں بھی کر سکتے تھے بگرام ائیر بیس کہ جسے A city within a city کہا جاتا ہے میں نیٹو افواج کے کمانڈر آسٹن سکاٹ ملر ایک تقریب منعقد کرکے بھی اس وسیع و عریض اڈے کی کمان افغان کمانڈر کے حوالے کر سکتے تھے جس Base کی حفاظت امریکہ نے بیس برس تک کی ایک دن مزید بھی اسکی چوکیداری کی جا سکتی تھی طالبان نے انتیس فروری 2020کے دوحہ معاہدے کے مطابق گذشتہ ڈیڑھ برس میں نیٹو افواج پر کوئی حملہ نہیں کیا اس اعتبار سے انکی طرف سے بگرام ایئر بیس پر کسی حملے کی توقع نہ تھی امریکہ اور کابل حکومت کے تعلقات مثالی نہ سہی مگر اشرف غنی اب پہلے سے بھی زیادہ واشنگٹن کے دستنگر ہو چکے ہیں پھر آخرایسے کونسے عوامل تھے جنہوں نے صدر بائیڈن کو رات کی تاریکی میں چھپ چھپا کر بگرام ایئر بیس خالی کرنے پر مجبور کیا صدر امریکہ نے پریس کانفرنس میں اس سوال کا کوئی تیر بہدف جواب نہیں دیا البتہ ایک ایسا اشارہ دیا ہے جس سے عجلت میں انخلا کی وجہ تسمیہ کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا The rapid American withdrawal was a matter of safety اسکی وضاحت کرتے ہوے انہوں نے کہا کہ ملٹری کمانڈرز نے مجھے بریفنگ دی تھی کہ ’’ میں جب کبھی انخلا کا فیصلہ کروں تو مجھے تیزی سے اس عمل کو مکمل کرنا ہو گا ‘‘ اسکے بعد انہوں نے اپنے تئیں ایک برہان قاطع قسم کی دلیل یہ دی کہ Speed is safety یعنی تیز رفتاری حفاظت ہے ہم تو آج تک یہی سنتے آئے ہیں کہ ہر کام سوچ سمجھ کر اور دیکھ بھال کر کرنا چاہئے مگر صدر امریکہ کو یہ رعایت دی جا سکتی ہے کہ جنگی معاملات عام زندکی کے واقعات سے بڑے مختلف ہوتے ہیںانکے لئے آئوٹ آف باکس قسم کی تھنکنگ کی ضرورت ہوتی ہے اسلئے وہ عجلت میں واپسی کا فیصلہ کرنے پر مجبور ہوے بعض سیانے تیز رفتاری میں عافیت ہوتی ہے والے مقو لے کے بارے میںیہ بھی کہہ رہے ہیں کہ ملٹری کمانڈرز نے صدر بائیڈن کی توجہ ایک ایسے تاریخی واقعے کی طرف بھی مبذول کرائی ہوگی جو پسپا ہوتی ہوئی افواج کی سست رفتاری کی وجہ سے تباہ کن ثابت ہوا تھا۔
یہ حادثہ برطانوی افواج کو افغانستان میں جنوری 1842 کوپہلی اینگلو افغان جنگ کے اختتام پر پیش آیا تھا ان دنوںمیر دوست محمد کی حکومت کو کمزور سمجھتے ہوے برطانوی فوج نے 1839 میںکابل پرحملہ کر دیا تھاایک سال کی جنگ وجدل کے بعد دوست محمد نے ہتھیار ڈال دئے اینگلو انڈین آرمی نے کابل پر قبضہ تو کر لیا مگر اسے فوراً ہی ایک مسلح بغاوت کا سامنا کرنا پڑا یہ معرکہ آرائی دو برس تک جاری رہی جسکے نتیجے میںبرطانیہ کو شکست ہوئی اور اس نے چھ جنوری 1842 کو کابل سے اپنی فوج کا انخلا شروع کیا دوست محمد کے بیٹے نے پسپا ہوتی ہوئی برطانوی فوج پر حملہ کر کے سولہ ہزار کے لگ بھگ اینگلو انڈین فوجیوں کو گرفتار کرلیا اور اسکے بعد افغان فوج کیساتھ ملکر انکا قتل عام کیا یہ خونریزی اسوقت کی گئی جب برطانوی فوج کابل سے پسپا ہو کر جلال آباد میںاپنے ٹھکانے کی طرف واپس جا رہی تھی اس نے موسم کی خرابی کی وجہ سے سست رفتاری کا مظاہرہ کیاجس کی اسے بھاری قیمت ادا کرنا پڑی
جو بائیڈن کو بریفنگ دینے والے جرنیل افغانستان کی تاریخ کے اس گمبھیر باب سے بے خبر نہ ہوں گے اسی لئے انہوں نے تاریخ سے سبق سیکھتے ہوے رات کی تاریکی میں بگرام سے رفو چکر ہونے کا فیصلہ کیا گویا دو اور تین جولائی کی درمیانی شب بوقت رخصت انہوں نے کابل حکومت پر بھی بھروسہ نہ کیا تاریخ کے بارے میں جو ان گنت کہاوتیں مشہور ہیں ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ History depends on who tells it یعنی تاریخ کا انحصار اس بات پر ہوتا ہے کہ اسے بیان کون کرتا ہے افغان تاریخ کے بارے میں ہمارے اور امریکی جرنیلوں کے نقطہ نظر میں تویقینازمین آسمان کا فرق ہو گا
امریکی انخلا کے اس قضیے کو صدر بائیڈن نے یہ کہہ کر مزید پیچیدہ بنا دیا کہ امریکہ کو اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے فوراً بعد افغانستان سے واپس آجانا چاہیئے تھا جمعرات کی پریس کانفرنس میں انہوں نے یہ بھی کہا کہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد 2011 میں نیٹو اتحادی اس بات پر متفق تھے کہ2014 تک نیٹو افواج کا انخلا مکمل کر لیا جائیگا پھر 2014 میں کسی نے کہا کہ ہمیںمزید ایک سال تک افغانستان میں رہنا چاہیئے So we kept fighting and kept taking casualties صدر امریکہ نے کہا کہ اب یہ ثابت ہو گیا ہے کہ مزید ایک سال تک افغانستان میں جنگ جاری رکھنے کا فارمولہ کسی نتیجہ خیز حل تک پہنچنے میں مدد نہیں دے سکتا یہ سوچ وہاں ایک غیر معینہ مدت تک رہنے کا نسخہ ہے صدر بائیڈن نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ اسی سوچ کی وجہ سے ہم نے افغانستان سے نکلنے میں اتنی تاخیر کر دی ۔اب یہ فیصلہ کہ انخلا عجلت میں ہوا یا تاخیرسے یقیناکوئی نابغۂ روزگار مؤرخ ہی کر سکتا ہے خواہ وہ واشنگٹن میں رہتا ہو یا کابل میں

Leave A Reply

Your email address will not be published.