اُڑیںجب جب زلفیں تیری!!

53

کچھ لوگ اچھے ایکڑ ہوتے ہیں، کچھ لوگ سٹار بہت بڑے ہوتے ہیں لیکن بہت مشکل سے کوئی ایسا ہوتا ہے جو جتنااچھا ایکڑ ہو اتنا ہی بڑا سٹار ہو اور اس طرح کے کچھ ہی لوگوں میں سب سے بڑا نام ہے ’’دلیپ کمار‘‘۔ یہ وہ نام وہ شخصیت وہ سٹار ہے جس کا مقابل کوئی بھی نہیں ، کوئی ثانی نہیں ۔ کچھ دن پہلے دلیپ کمار یہ فانی دنیا چھوڑ گئے، جتنا بھرپور ان کا کیریئر تھا اتنی ہی بھرپور ان کی زندگی تھی، اللہ تعالیٰ نے ان کو لمبی عمر عطاء کی، اگر ڈیڑھ برس اور جی جاتے تو پورے سو(100)برس کے ہو جاتے۔ پچھلے چند دن میں ان کے بارے میں بہت کچھ لکھا جا چکا ہے لیکن ’’دلیپ کمار‘‘ ایک ایسا نام ایک انسان گزار کہ جس کے بارے میں جتنا بولا، جتنا لکھا جائے وہ کم ہے۔
دلیپ کمار سات جولائی 2021ء کو صبح ساڑھے 7بجے اس دنیا کو الوداع کہہ گئے، اُنہیں ہسپتال کے آئی سی یومیں داخل کیا گیا تھا جہاں مسلسل ان کا بلڈپریشر ڈوب رہا تھا اور باہر ان کے چاہنے والوں کے دل ڈوب رہے تھے، وہ پریشان تھے، غمگین تھے اور دعائیں کررہے تھے۔
دلیپ کمار گیارہ دسمبر 1921ء کو پشاور میں پیدا ہوئے۔ وہ بارہ بہن بھائی تھے جن میں ان کا نمبر چوتھا تھا، ان کے والد کا نام لالہ غلام سرور خان تھا اور وہ ایک فروٹ مرچنٹ تھے، والدہ کا نام عائشہ بیگم تھا اور وہ گھریلو خاتون تھیں۔
جب بٹوارہ ہوا تو دلیپ کمار کا خاندان ممبئی آگیا جہاں ان کے پاس گھر تھا اور نہ پیسہ اس لئے تمام بچوں کو کم عمری سے ہی کام کرنے کی ذمہ داریاں اٹھانی پڑیں، دلیپ کمار آرمی کلب کے ایک سینڈوچ سٹال پر کا م کرتے تھے جہاں ان کو ایک روپیہ روز ملتا تھا۔
ہندی فلموں کی فرسٹ لیڈی دیویکا رانی جو کہ بمبئی ٹاکیز کی مالک تھیں انہوں نے دلیپ کمار کو اولین بریک دیا، دلیپ صاحب اس وقت ممبئی ٹاکیز میں ساڑھے بارہ سو روپے مہینہ پر کام کرتے تھے۔
دلیپ کمار کا اصلی نام محمد یوسف خان تھا لیکن دیویکا رانی نے کہا کہ فلمی نام کچھ اور ہونا چاہیے، جو رائٹرز ممبئی ٹاکیز میں کام کرتے تھے دیویکا رانی نے ان سے کہا کہ وہ کوئی نام تجویز کریں، اس وقت کے مشہور لکھاری بھگوت چرن ورما نے یوسف خان کو نیا فلمی نام ’’دلیپ کمار‘‘ دیا۔
’’جوار بھاٹا‘‘ دلیپ کمار کی پہلی فلم کہی جاتی ہے جو کہ 1944ء میں ریلیز ہوئی اور پھر 1945ء میں پریتما لیکن دونوں ہی فلمیں کامیاب ثابت نہ ہوئیں۔ 1946میں ڈائریکٹر نیتن بوس کی فلم ’’ملن‘‘ دلیپ کمار کیلئے کامیابی کا پیغام لائی۔
ملن کے بعد تو جیسے کامیابی نے دلیپ صاحب کے قدم چوم لئے، جگنو، شہید، انداز، جوگن، داغ،ن ، دیدار، آن، دیوداس، نیا دور، گنگا، رام شیام اور مغل اعظم، یہ دلیپ صاحب کی ہٹ فلموں میں سے کچھ کے نام ہیں۔ پچیس (25)برس کی عمر میں دلیپ کمار ہندوستان کے سب سے بڑے سٹار تھے، ان کا کیریئر لگ بھگ 60سال چلا جس میں انہوں نے 65فلموں میں کام کیا، ان کی آخری فلم ’’قلعہ‘‘ 1998میں ریلیز ہوئی تھی۔
1950ء میں ٹریجڈی کنگ کہلانے کی وجہ تھی دلیپ کمار صاحب کی کئی ٹریجک فلموں کی کامیابی ہے، وہ کریکٹر کو اپنے اوپر اس طرح طاری کرتے تھے اس طرح ڈھل جاتے تھے کہ وہ دلیپ کمار نہیں بلکہ وہی کردار بن جاتے تھے اور یہی وجہ تھی کہ وہ اس زمانے میں سچ مچ ڈپریشن میں مبتلا ہو گئے اور اسی لئے سائیکاٹرسٹ کے مشورے پر انہوں نے ہلکے پھلکے رولز کو فوقیت دینی شروع کی اور آن، آزاد اور کوہ نور جیسی فلمیں کیں۔ دلیپ کمار صاحب وہ پہلے ایکڑ تھے جنہوں نے کسی فلم سٹوڈیو کی نوکری نہیں کی بلکہ فری لانسر کے طور پر کام کرنے کو فوقیت دی اور کہا کہ ہر پروجیکٹ کیلئے الگ فیس ہو گی، اس سے پہلے سب ایکٹرز سٹاف آرٹسٹ کے طور پر کام کرتے تھے۔
دلیپ کمار اور مدھوبالا کی پریم کہانی سب کو پتہ تھی، ان کی منگنی بھی ہو گئی تھی لیکن مدھوبالا کے والد اور دلیپ کمار کے درمیان کوئی ایسا اختلاف ہو گیا کہ یہ منگنی ختم ہو گئی۔ دلیپ صاحب کئی زبانیں روانی سے بولتے تھے جیسے پشتو، فارسی، ہندکو، اردو، انگریزی، ہندی۔ وہ 1979-82تک بمبئی کے شیرف بھی رہے۔
شاہ رخ خان کو سب سے زیادہ فلم فیئر ایوارڈز ملے لیکن دلیپ صاحب کا اعزاز یہ ہے کہ انہیں لگاتار 1956,1955اور 1957کے فلم فیئر ملے، آج تک یہ کامیابی کسی ہندوستانی اداکار کے حصے میں نہیں آئی، ان کو آٹھ بار فلم فیئر ایوارڈ ملے اور 19بار نامزدگی ہوئی، 1994میں انہیں دادا صاحب پھالکے ایوارڈ ملا۔ 1991میں پدم بھوشن، 2015ء میںپدم بھوشن، یہ وہ واحد ہندوستانی سٹار تھے جنہیں حکومت پاکستان نے 1998ء میں نشان امتیاز دیا تھا۔
دلیپ کمار وہ پہلے ہندوستانی اداکار تھے جنہوں نے سکرین پر ڈانس کیا’’گانا تھا اڑیں جب جب زلفیں تیری‘‘ پروڈیوسر، ڈائریکٹر کا خیال تھا کہ اگر ہیرو ڈانس کرے گا تو دیکھنے والے اس کو سیریس نہیں لیں گے لیکن دلیپ کمار نے اس خیال کو بدل دیا۔
ڈانس، فائیٹ، رومانس، ٹریجڈی،اداکاری کے میدان میں کوئی ایسی چیز نہیں تھی جس کا ٹرینڈ دلیپ کمار نے نہ سیٹ کیا ہو شاید ہی کوئی انڈین ایکٹر ہو جس نے شعوری یا غیر شعور ی طور پر کبھی نہ کبھی دلیپ کمار سے متاثر ہو کر اداکاری نہ کی ہو۔
دلیپ کمار صاحب کی بیگم سائرہ بانو بھی اپنے وقت کی کمال کی ہیروئن تھیں لیکن بیگم یوسف خان (دلیپ کمار) بننے کے بعد انہوں نے اپنی زندگی کا ہر دن ان کے لئے وقف کر دیا، آخری سانس آخری لمحے تک وہ ان کے ساتھ تھیں۔دلیپ کمار صاحب کی عمر کی سنچری پوری نہیں ہو پائی لیکن وہ سنچریز تک لوگوں کے دلوں میں نسل در نسل زندہ رہیں گے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.