امریکہ کس منہ سے آئو گے بلاول؟ شرم تم کو مگر نہیں آتی!!

40

بلاول زرداری امریکہ یاتراکے لیے آرہے ہیں۔ وہ یہاں کیوں آ رہے ہیں؟ جب تک آپ کو یہ کالم ملے گا، بلاول اپنے ایک ہفتہ کے دورہ کا آغاز کر چکے ہونگے۔بلاول کے آنے کا مقصد صرف ایک ہے کہ کسی طرح اپنے باپ کو جیل جانے سے بچائے۔ آپ کو یاد ہو گا کہ چند برس پہلے، زرداری نے اپنے دور میں اپنے ایک وفادار حسین حقانی کو امریکہ میں پاکستان کا سفیر بنا کر بھیجا تھا۔ اور پھر اس کے ذریعے امریکی اعلیٰ حکام کو ایک مراسلہ بھجوایا تھا جسے بعد میں میمو گیٹ کا نام دیا گیا۔ اس مراسلہ میں زرداری نے امریکیوں سے درخواست کی تھی کہ وہ پاکستان کی فوج پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کریں کہ وہ مارشل لاء نہ لگائے۔ اس کے بدلے میں، زرداری کی حکومت ان کو پاکستان کے ایٹمی اثاثوں کی رسائی دے گی اور جو کچھ ان کی چھوٹی بڑی خواہشیں ہونگی انہیں پورا کرے گی۔یہ مراسلہ پاکستان کی حکومت تک بھی پہنچا جس کے نتیجہ میں حسین حقانی پر مقدمہ چلا اور سپریم کورٹ نے اسے غدار قرار دے دیا۔اب جب کہ زرداری صاحب پھر مشکل میں ہیں اور احتساب کے شکنجے میں، انہیں اس سے راہ فرار کی اور کوئی صورت نظر نہیں آ رہی سوائے اس کے کہ وہ میمو گیٹ کا پیغام، تھوڑی سی تبدیلی کے بعد، ایک دفعہ پھر امریکی اعلیٰ قیادت تک پہنچائیں۔ اس کے لیے انہیں بیٹے کی قربانی بھی دینی پڑی تو دیں گے۔بلاول اس دفعہ امریکہ سے پاکستان میں مارشل لاء لگوانے کی درخواست کرے گا۔ زرداری کا خیال ہے۔ بلکہ یقین ہے کہ عمران خان نے امریکہ کو پاکستان میں ہوائی اڈے نہ دینے کا جو فیصلہ کیا ہے، اس سے امریکہ شدید ناراض ہے ۔ وہ بلاول کے مشورے کو ہلکا نہیں لے گا۔اگرچہ کہ پاکستانی افواج کے سپہ سالارجنرل قمر باجوہ نے صاف لفظوں میں اعلان کر دیا ہے کہ وہ پاکستان میں کسی ملک کو اڈے بنانے کی اجازت نہیںدیں گے۔
امریکہ کو پاکستان میں اڈے کیوں چاہیئں؟ اس لیے کہ وہ افغانسان سے فوجی انخلا کے بعد، پاکستان کے ایٹمی اثاثوں سے قریب تر رہنا چاہتا ہے۔ ان کا افغانستان میں آنے کا مقصد بھی یہی تھا۔ اب اگر وہ افغانستان سے نکل رہے ہیں تو اس مقصد اعلیٰ کا کیا بنے گا؟راقم کا خیال ہے کہ جہاں تک افغانستان کا تعلق ہے وہاں سے پر امن طریقے سے نکلنے کے لیے طالبان سے کچھ لے دے کرنا پڑے گی۔اس میں انہیں ملک میں انتخابات کروانا، آئین کی پاسداری، اور بین الاقوامی انسانی حقوق کے چارٹر کی پابندی قبول کرنی پڑے گی۔انتخابات کے نتیجے میں جو بھی حکومت بنے گی اسے امریکہ نہ صرف تسلیم کرے گا، اس کو دس سال تک مالی اور فنی امداد بھی دے گا، جس سے سکول، کلینکس، اور زراعت کے ترقیاتی کام کیے جائیں گے۔اس امداد سے امریکہ افغان آبادی کی ہمدردی حاصل کر ے گا۔جہاں تک پاکستان کے ایٹمی اثاثوں کی نگرانی کا تعلق ہے، اس کے لیے کیا بھارت ہی کافی نہیں ہے؟ ویسے، پاکستانی بھی یہ کام کرنے پر تیار مل جائیں گے؟
جہاں تک بلاول کا تعلق ہے، امریکہ میں بیٹھے پاکستان کے دشمن سیاستدان بھی اس کی بات کو بے وزن ہی سمجھیں گے کیونکہ پاکستان میں پیپلز پارٹی کی سیاسی حیثیت نہ ہونے کے برابر ہے، اگر وہ سندھ کارڈ بھی استعمال کرنا چاہے، تو اس پر سوائے مٹھی بھر خریدے ہوئے جیالوں کے اور کوئی کان نہیں دھرے گا۔ دوسرے یہ کہ پیپلز پارٹی نے جو سندھ کی اقتصادی اور معاشرتی تباہی مچائی ہے، اس کی طرز حکومت پر لعن طعن ہی مل سکتی ہے۔ اگر امریکہ کرپشن کنگ کو بچانے کے لیے ، پاکستان کی ایک جائز اور جمہوری حکومت گرانے کا سوچے گا بھی تو یہ غیر اخلاقی ، اور غیر قانونی قدم دنیا نہیں مانے گی۔بلکہ لوگ بائیڈن پر تھو تھو کریں گے۔ باوجود اس کے کہ تاریخی لحاظ سے، ڈیموکریٹ پارٹی پاکستان کی دوست نہیں رہی ہے، پھر بھی ملک میں مارشل لاء لگوانا ایک بہت ہی نا مناسب فعل ہو گا۔ اس لیے بھی کے آنے والی فوجی حکومت ضروری نہیں کہ امریکہ کی ہر خواہش کو پورا کر ے۔اور مارشل لاء کے بعد زرداری پر جو احتساب کی تلوار لٹک رہی ہے، وہ تو شاید ٹل جائے لیکن پیپلزپارٹی امریکہ کو کیسے فائدہ پہنچائے گی؟ یہ ایک سوالیہ نشان ہے۔ اس لیے اس نا چیز کی رائے میں بلاول کا امریکہ یاترا سوائے سیر تفریح اور شاپنگ کے کوئی اور مقصد حاصل نہیں کر سکے گا۔ حسین حقانی نے جو اس دورے کو ممکن بنانے میں کردار ادا کیا ہے، اس کا بھی منہ کالا ہوگا۔ بلکہ اور کالا ہو گا۔
اس موقع پر اتنا تو بنتا ہے کہ پی پی پی کے ادوار حکومت میں جو کچھ سندھ کے ساتھ ہوا اس پر ایک طائرانہ نظر ڈال لی جائے۔ اس پسر زرداری کو ذرہ بھر بھی شرم ہو تو چلو بھر پانی میں ڈوب مرے، کہ اس کی پارٹی نے اپنے حلقوں میں کتنا ظلم کیا ہے۔ سن ۲۰۱۷ کی مردم شماری کے مطابق سندھ کی کل آبادی تقریباً ۴ کڑوڑ آٹھ لاکھ تھی، جو ۱۹۹۸ کے مقابل میں ایک کڑوڑ ۷۴ لاکھ زیادہ تھی اور اس حساب سے اس کی شرح افزائش 2.41 ہوئی۔ جب کہ پاکستان کی مجموعی شرح افزائش 2.4تھی۔ یہ دلچسپ بات ہے کہ سندھ کی شہری آبادی اور بھی تیز رفتاری سے بڑھی یعنی 2.48 فیصد۔ لیکن کراچی والوں کو یہ رفتار بھی ناکافی لگی۔ اس بات کو سیاسی مسئلہ بنا لیا گیا۔ کراچی کی آبادی جتنی بھی تھی باقی سندھ سے ہر لحاظ سے بہتر تھی۔ تعلیم، صحت، آمدنی اور دیگر سہولیات کے لحاظ سے۔اسی طرح سندھ کے دوسرے شہری علاقے۔ جہاں کے حالات سب سے زیادہ خراب تھے وہ تھے سندھ کے دیہی علاقے۔ جن کی آبادی تقریباً ڈھائی کڑوڑ تھی۔اس کی وجہ کیا ہو سکتی ہے؟ سوچنا پڑے گا۔
سندھ میں ایک عرصہ سے سندھی وڈیروں کا راج تھا۔ انہی وڈیروں میں سے ذوالفقار بھٹو بھی تھا جسے غالباً امریکی مہربانوں نے، اس امید پر کہ وہ پاکستان کو دو لخت کرے گا، سفارش کر کے صدر ایوب کا وزیر بنوا دیا تھا۔ اس نے جب وزارت چھوڑی، تو سیاسی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کی داغ بیل رکھی۔بھٹوکو سیاسی طاقت کا جنون تھا۔ اسی جنون میں اس نے پاکستان کے دو ٹکڑے کروا دیے۔نہ بھٹو نے اور نہ اس کے بعد پیپلز پارٹی نے کبھی سندھ کے عوام کی بھلائی کا سوچا۔ روٹی ، کپڑا اور مکان کا نعرہ محض عوام کو بہکانے کا ذریعہ تھا۔ بینظیر کی شادی آصف علی زرداری سے ہو گئی۔ اور پیپلزپارٹی کرپشن کی راہ پر چل نکلی۔ اس پارٹی نے سرکاری خزانہ کوترقی کے کاموں پر کم خرچ کیا اور زیادہ بندر بانٹ پر۔ سندھ میں نہ سکول بنے، نہ کالج، نہ ہی صحت کی سہولتیں۔ غریبوں کا منہ بند کرنے کے لیے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام شروع کیا جس کا زیادہ پیسہ سندھ کی عورتوں میں تقسیم کیا گیا۔ اس رقم کی وجہ سے سندھ میں ووٹ لیکر حکومت بنانے میں آسانیاں پیدا کی گئیں۔اندرون سندھ میں قانون کی بالا دستی برائے نام رہی ۔ بلکہ ڈاکووں کا راج قائم ہو گیا۔
سندھ کے حکمرانوں نے جو سندھ کا حال کیا ہے، اس پر سندھیوں کو ہی نہیں بلکہ وفاق اور ساری دنیا کو توجہ دینی چاہیے۔سیاستدانوں کے اثر و نفوذ کی وجہ سے صوبوں کے معاشی اور معاشرتی حالات پر زیادہ مصدقہ مواد نہیں ملتا۔ 2017-18 میں کئے جانے والے صحت اور عمرانی جائزے سے قومی سطح پر حاصل کردہ اعداد و شمار جو سندھ کی حالت بتاتے ہیں، وہ آپ بھی دیکھیں۔جب جائزے نے صوبوں میں ذاتی وسائل کا تقابلی جائزہ لیا تو معلوم ہوا کہ سندھ کی دیہی آبادی پاکستان کی غریب ترین آبادی تھی۔یعنی تقریباً ۶۹ فیصد۔یہ تناسب فاٹا سے بھی زیادہ تھا جہاں ۵۱ فیصد لوگ غریب تھے۔ جب کہ کے پی کے میں۲۰ فیصد اور بلوچستان میں ۳۶ فیصد دیہی آبادی غریب تھی۔ سندھ، بلوچستان اور فاٹا کی تقریباً ایک تہائی آبادی کے پاس ہاتھ دھونے کے لیے نہ پانی تھا، نہ صابن۔ جس کا مطلب ایسی آبادیوں میںمتعدی بیماریوں کے پھیلنے کے کھلے مواقع۔صنعت یافتہ ممالک میں سو فیصد پیدائش رجسٹر ہوتی ہیں لیکن سندھ کے دیہی علاقوں میںصرف سات فیصد بچوں کی پیدائش رجسٹر ہوتی ہیں۔ دیہی علاقوں کی۱۸ سال سے زیادہ عمر کی آبادی کے ۲۲ فیصد کے پاس نادرا کا کارڈ بھی نہیں ہے۔ یہ امر قابل غور ہے کہ پاکستان کے ۱۶ فیصد سے زیادہ بالغوں کے پاس نادرا کارڈ نہیں ہیں۔تعلیم کے شعبہ میں سندھ کے دیہی علاقوں کی 77.4 فیصد لڑکیاں،عورتیں تعلیم نہیں حاصل کر سکیں۔یہ تناسب بلوچستان میں بھی قدرے کم تھا، اور کے پی کے میں ۶۶ فیصد تھا۔ سندھ کے دیہی علاقوںکی صرف 1.5 فیصد لڑکیوں نے سیکنڈری سکول تک تعلیم حاصل کی ۔ لڑکوں کا اس سطح پر تناسب بھی کوئی زیادہ نہیں تھا یعنی صرف 6.5 فیصد۔بلوچستان کے دیہی علاقوں میں یہی تناسب 6.7 فیصد تھا۔ سندھ سے ذرا بہتر۔اور کے پی کے کے دیہی علاقوں میں 10.2تھا۔سندھ کے دیہی علاقوں کی صرف 28.5 فیصد خواتین ہفتہ میں ایک یا زیادہ دن ٹی وی دیکھتی تھیں۔ انہی علاقوں کی صرف 1.8 خواتین ہفتہ میں ایک دن اخبار پڑھتی تھیں۔سندھ کے دیہی علاقوں کی صرف 5 1.فیصدخواتین نے کبھی انٹرنیٹ استعمال کیا تھا۔ دیہی علاقوں کے مردوں کی شرح انٹرنیٹ کے استعمال کے لحاظ سے گیارہ فیصد سے ذرا ہی زیادہ تھی۔ایک معاملہ میں، سندھی دیہی علاقوں کی خواتین سب سے آگے تھیں اور وہ تھا بینظیر انکم سپورٹ پروگرام جس میں تقریباً ۲۴ فیصد عورتیں فائدہ اٹھا رہی تھیں۔ اس کے مقابلہ میں پنجاب میں تقریباً ۵ فیصد، کے پی کے میں ۱۵ فیصد اور بلوچستان میں ۸ فیصد تھا۔کیا پی پی پی نے اس پروگرام کو میرٹ پر نہیں بلکہ سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا؟یا سندھ میں جنوبی پنجاب اور بلوچستان سے بھی زیادہ غربت تھی؟
ایک نہایت قابل غور اور قابل فکر امر یہ ہے کہ کرپشن کا کاروبار چلانے کے لیے تابعدار اور تعاون کرنے والے سرکاری افسران کی ضرورت پڑتی ہے۔ پی پی پی نے جب ارد گرد دیکھا تو اسے پتہ چلا کہ تقریباً سب سرکاری کرسیوں پر غیر سندھی بیٹھے ہیں۔اس کی وجہ صاف ظاہر تھی۔ سندھیوں کو تعلیم سے دور رکھا گیا تھا، جیسا کہ اندراج بالا اعداد و شمار بتاتے ہیں۔جس صوبے میں تعلیم یافتہ نوجوانوں کا تناسب اسقدر کم ہو، وہاں کتنے نو جوان سول سروس کا امتحان پاس کرتے ہونگے؟ شاذ و نادر۔ جب پی پی پی نے اس مسئلہ پر غور کیا تو اس نتیجہ پر پہنچے کہ سندھی لڑکوں کو کسی بھی بہانے حیلے سے میٹرک اور انٹر کا سرٹیفیکیٹ دلوا دیا جائے تا کہ انہیں سرکاری نوکریاں مل سکیں۔ اس لیے حکومت کو ذرہ بھی پرواہ نہیں کہ بچے امتحان میں نقل مارتے ہیں یا کس طریقے سے پاس ہوتے ہیں۔یہ سلسلہ کئی سالوں سے ایسے ہی چل رہا ہے۔اب آپ سوچ سکتے ہیں کہ سندھ حکومت کے اہل کار کس قابلیت کے ہونگے۔اور حکومت کا کام کیسے چلتا ہو گا؟
سندھ میں جتنے ترقیاتی منصوبے بنتے تھے ان کی تکمیل میں صرف دس فیصد نہیں اس سے کہیں زیادہ بھتہ لیا جاتا تھا جو زرداری کے علاوہ دوسرے سیاسی اور سرکاری ملازمین کی نذر ہوتا تھا اور ہوتاہے۔ ایسا لگتا ہے کہ ترقیاتی کام سرے سے ہی نہیں ہوئے۔ مقامی حکومتوں کے اختیارات ختم کر دیے گئے تا کہ مالی فیصلے صرف صوبائی سطح پر کئے جائیں، جن میں بندر بانٹ زیادہ آسان ہو تی ہے۔ غالباً یہی وجہ ہے کہ سندھ کے چھوٹے شہروں کی ابتر حالت ہے۔ کئی ٹھیکیداروں نے جب پوچھا کہ حضور یہ کمیشن کی رقم کہاں اور کیسے دی جائے تو ارشاد ہوا کہ کسی ملازم یا غریب آدمی کا بینک اکاونٹ کھلوا کر اس میں ڈال دو۔یہ ترکیب آسان اور اتنی فول پروف تھی کہ دوسرے صوبوں کے سیاستدانوں کو بھی بہت پسند آئی۔ اب احتساب والوں کو سمجھ نہیں آ رہا کہ ایسے بینک اکائونٹس کے اصل مالکوں اور مجرموں کو کیسے پکڑیں؟

Leave A Reply

Your email address will not be published.