چینی نظام کے لئے ختم جاگیرداری نظام

72

دنیا کی تاریخ حضرت موسیٰؑ سے آج تک طویل جدوجہد سے بھری پڑی ہے جس میں انسانی آزادی اور حریت پسندی کی جنگوں کے بعد انقلاب برپا ہوئے چاہے وہ فرعونوں کے خلاف حضرت موسیٰ ؑ کی بغاوت ہو، حضور پاک ﷺ کاعہد جہالت، ظلم و ستم، دور غلامی کے خلاف انقلابِ اسلام یا پھر مشہور انقلاب فرانس، انقلاب روس اور انقلاب چین ہو جس میں بادشاہوں، ظالموں، جابروں، جاگیرداروں، سرمایہ داروں اور اجارہ داروں کے خلاف انقلاب برپا ہوا جس سے انسان آزاد اور خودمختار ہوا جس نے عہد جدید کی ریاست کی بنیاد رکھی جو آج دنیا کے مختلف علاقوں میں بعض ریاستوں میں پائی جاتی ہے یہاں انسانی آزادی ،مساوات، برابری کے حقوق بحال کئے جا چکے ہیں تاہم انقلابِ روس سے بادشاہوں اور سرمایہ داروں کا خاتمہ ہوا دنیا کے مشہور جرمن نژاد فلاسفر کارل مارکس کا نظریہ اشتراکیت کامیاب ہوا جن کے پیروکار لینن اور مائوزے تنگ نے عمل درآمد کراتے ہوئے انسانوں کو برابر کے حقوق فراہم کئے اپنے شہریوں کو کام کاج، قابلیت اورمعاوضہ ضرورتِ زندگی کے مطابق فراہم کیا جس کو کیمونزم یا اشتراکیت کہا جاتا ہے، یہ وہ نظام ہے جو دنیا بھر میں پھیل گیا،جو بعض ممالک میں کامیاب اور ناکام ہوا جس کے خلاف دنیا بھر کے بادشاہ، آمر، جابر، ظالم جاگیردار، گماشتہ، اجارہ دار، سرمایہ دار متحد ہو گئے جنہوں نے دنیا بھر میں سازشوں کے جال بچھا دئیے جس کے سرغنہ سرمایہ داری نظام کی مغربی طاقتیں ہیں جنہوں نے کل کے کیمونزم کے خلاف دنیا بھر کے بادشاہوں، آمروں، جابروں کو اپنا اتحادی بنا رکھا ہے جو مختلف انداز سے اشتراکیت کے خلاف محاذ آرائی میں مصروف رہی ہیں جب اشتراکیت اپنی منزل پر پہنچی جس کے بعد سرد جنگ کا خاتمہ ہوا تو چین نے اپنی اشتراکیت کا نیا رخ موڑتے ہوئے ریاستی سرمایہ داری کی بنیاد رکھی جس کی محتاج پوری دنیا ہو چکی ہے کہ آج دنیا بھر کے سرمایہ داروں نے اپنا اپنا سرمایہ چین میں لگارکھا ہے جو سستی لیبر پر منافع کمارہی ہے جبکہ چین بھی اپنی اس سرمایہ کاری سے اپنی عوام کی غربت ختم کر چکا ہے تاہم چین میں اشتراکیت کی بدولت چینی جاگیرداروں اور اجارہ داروں کا خاتمہ ہوا۔ دنیا کے حقیقی نظام کی بنیاد رکھی گئی جس میں ہر انسان کے بنیادی حقوق پورے کئے گئے ہر انسان کو قابلیت کی بنا پر کام اور ضرورت کے مطابق معاوضہ دیا گیا جس کی وجہ سے چین میں آج کوئی شخص بھوکا، ننگا سڑک پر سویا نہیں پایا جاتا ہے جو آئے دن اپنا قول و فعل بدلتا رہتا ہے انہوں نے کبھی مغربی جمہوریت کا گیت الاپا کبھی ریاست مدینہ کے نفاذ کی گردان گردانی ، آج کل ریاست چین یہ ترانہ گارہا ہے کہ پاکستان میں چینی نظام چاہیے یہ جانتے ہوئے کہ پاکستان میں جاگیرداری اور اجارہ داری نافذ ہے جو نظام چین کی اصولوں کے خلاف ہے۔
لہٰذا اگر پاکستان کو چین جیسا ملک بنانا ہے تو سب سے پہلے انگریز کے پیدا کردہ جاگیرداروں کا خاتمہ کرنا ہو گا۔ اللہ تعالیٰ کی زمین ہاریوں اور کسانوں میں بانٹنا ہو گا جو اس صدی کا بہت بڑا انقلاب کہلائے گا جس سے پاکستان دنیا کا طاقتور اور مضبوط ریاست بنا کر سامنے آئے گی جس کی زراعت انڈسٹری بن کر دنیا کی ضرورت بن جائے گا یہ چونکہ ممکن ہے کیونکہ حکمرانوں کے دانت کھانے کے اور دکھانے کے اور ہیں جو بذات خود جاگیرداروں کی پیداوار اورحامی ہیں جو آج کے اقتدار میں جاگیرداروں کی بدولت اقتدار پر براجمان ہیں لہٰذا عمران خان جیسے لن ترانوں کو ریاست مدینہ یا ریاست چینیہ کا نام لینے سے پہلے اپنا منہ دھولینا چاہیے کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں اور کیا کریں گے۔ بہر کیف چینی نظام کے لئے ختم جاگیرداری لازم ہے جس کے بغیر چین جیسا نظام ناممکن ہے جو کیمونزم سے لایا گیا جس کی پاکستان کے جنرلوں، جاگیرداروں، اجارہ داروں ،سرمایہ داروں، رسہ گیروں نے ہمیشہ مخالفت کی ہے جس کے حامیوں کو جیلوں میں ٹھونسا گیا جس کے پیروکاروں کو غدار اور کافر تک کہا گیا جس کے شکار پاکستان کے بڑے بڑے سیاستدان، دانشور، صحافی ، لکھاری،شاعر ہوئے ہیں جس میں لاتعداد مزدور رہنما اور طلبا رہنما شامل تھے جس میں حسن ناصر، مولانا بھاشانی، مولانا حسرت موہانی، مختار رانا، معراج محمد خان، منہاج برنا، طارق عزیز،عثمان بلوچ، کرامت علی، فتحیاب علی خان، عبداللہ ملک، حبیب جالب، فیض احمد فیض، افراسیاب خٹک، ولی خان، میر غوث بخش بزنجو، خیر بخش مری، نجم سیٹھی، شیخ مجیب الرحمن اور لاکھوں بائیں بازو کے متوالے تھے یہ جو آج بھی پاکستان میں استحصالی نظام کے خلاف جدوجہد کررہے ہیں تاکہ پاکستانی عوام کو چین اور روس کے عوام کی طرح جاگیرداروں اور اجارہ داروں سے نجات مل جائے۔ بہرحال چینی نظام بیانوں اور نعروں سے نافذ نہیں ہو سکتا ہے جب تک ملک میں جاگیرداری اور اجارہ داری کا خاتمہ نہ ہو۔ زرعی زمینوں کو انگریز کی طرح بٹوارہ بند نہ کیا جائے جس میں فوجی افسران، نوکر شاہی اور دوسرے مراعات یافتہ طبقات کو زرعی زمین، رہائشی آلاٹوں، پلاٹوں کا سلسلہ بند نہ کیا جائے۔ انسانوں کے درمیان طبقاتی فرقہ واریت نہ مٹ جائے جو ہل چلائے وہ زمین کا مالک اور کاشتکار کہلائے لہٰذا جب تک انسانی نامساویانہ نظام پاکستان میں قائم ہے۔ حکمرانوں کے بنی گالہ، جاتی امراء، بلاول ہائوسزاور چودھریوں کی جاگیریں قائم ہیں تب تک چینی نظام کے بارے میں سوچنا اور بولنا کفر ہے جس نے کروڑوں انسانوں کو عہد غلامی اور غیر انسانی طبقاتی نظام سے آزادی دلوائی ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.