ہیوسٹن میں وائس آف کراچی کے چیئرمین ندیم نصرت پر قاتلانہ حملے کے ذریعے کیا لندن میں ڈاکٹر عمران فاروق کی تاریخ دہرائی جارہی ہے؟

39

اس ہفتے ہیوسٹن میں واشنگٹن میں قائم ’’وائس آف کراچی‘‘ کے سربراہ ندیم نصرت ہیوسٹن چیپٹر کی دعوت پر آئے ہوئے تھے جہاں انہوں نے ایک مقامی ریسٹورنٹ میں شہر کی چیدہ چیدہ شخصیات سے خطاب کرتے ہوئے آرگنائزیشن کے قیام کی وجوہات بیان کیں۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ وہ کیوں الطاف حسین کی معاندانہ شخصیت اور پس منظر کے باعث کنارہ کشی کر کے گزشتہ کئی سالوں سے سیاست سے باہر ہو گئے اور اب یہ ایک غیر سیاسی تنظیم وائس آف کراچی قائم کی۔ انہوںنے کہا کہ ان کا سیاست میں فی الحال حصہ لینے کا کوئی پروگرام نہیں ہے۔ وہ صرف کراچی اور سندھ کے دوسرے شہری علاقوں حیدرآباد، سکھر، نوابشاہ کے ساتھ ہونے والی سندھی حکومت اور سندھ قوم پرستوں کی جانب سے کی جانے والی کارروائیوں اور زیادتیوں کے خلاف آوازاٹھانے کے لئے ایک پلیٹ فارم شروع کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ قوم پرست جب بھی ان زیادتیوں کا سامنا کرتے ہیں تو وہ سندھ کارڈ استعمال کرتے ہوئے پاکستان نہ کھپے کا نعرہ لگانے لگتے ہیں۔ اس موقع پر حال ہی میں سندھو دیش کے خلاف نعرے بھی بلند کئے گئے۔ حقیقت تویہ ہے کہ سندھ میں قوم پرستی کی بنیاد اسی وقت بھٹو دور میں رکھ دی گئی تھی جب اردو کا جنازہ نکالا گیا تھا۔ اسی زمانے کی بات ہے جب ہم کالج کی جانب سے آل پاکستان ٹورپر گئے تھے۔ پورے پاکستان میں ریلوے سٹیشنوں پر بورڈز جو پلیٹ فارموں پر لگے ہوئے تھے شہروں کے نام کے وہ خیبرپختونخوا، بلوچستان اور پنجاب بھر میں اردو میں آویزاں تھے سوائے صوبہ سندھ کے جہاں پر ریلوے سٹیشنوں کے ناموں کی تختیاں پہلے سندھی زبان میں پھر اس کے نیچے اردو زبان میں لکھی ہوئی تھیں۔ یوں لگتا تھا کہ جیسے یہ پاکستان نہیں بلکہ افغانستان، ایران یا دیگر ممالک کا علاقہ ہے۔ وائس آف پاکستان کے اس جلسے یا میٹنگ کا آغاز پاکستان کے قومی ترانے سے ہوا۔ جب ہم کھڑے ہوئے قومی ترانہ سن رہے تھے تو ذہن میں یہ آرہا تھا کہ کہیں کل کو سندھ کے ریلوے سٹیشنوں کی طرح موجودہ سندھی حکومت پاکستان کا قومی ترانہ بھی تو کہیں سندھی میں شروع نہیں کر دے گی؟ کیونکہ قومی اداروں مثلاً پی آئی اے، پی این ایس سی، پاکستان ریلوے جیسے اداروں میں تو اس قسم کی صوبائیت اور قوم پرستی کے مظاہرے نہیں ہونا چاہئیں یعنی کراچی کے دونوں ریلوے سٹیشنوں پر پلیٹ فارموں پر سرفہرست سندھی زبان میں شہر کا نام لکھا ہوا ہے۔ ان مثالوں کا یہاں بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ یہ وہ ہی سندھی ذہنیت ہے جس کا مظاہرہ کراچی اور دیگر سندھی شہری علاقوں میں عوام کے ساتھ روا رکھا جاتا ہے۔ ہم نے انر میں فرسٹ کلاس حاصل کی مگر این ای ڈی یونیورسٹی میں داخلہ نہیں ملا لیکن اسی یونیورسٹی میں ہم نے دیکھا کہ سندھی کوٹے پر آئے ہوئے گمبٹ، رانی پور اور دیگر اندرون سندھ کے تھرڈ کلاس امیدواروں کو داخلہ مل گیا۔ چلیں ہم نے کہا کہ دوسرا آپشن استعمال کرتے ہیں اور کراچی پولی ٹیکنک میں داخلہ لے لیا مگر جب گریجوایشن کے بعد نوکریوں کی درخواستیں دیں تو ہمیں کوٹہ سسٹم کی وجہ سے ڈی کوالیفائی کر دیا گیا اور صاف صاف لکھا ہوتا تھا کہ کراچی، حیدرآباد اور نوابشاہ کے امیدوار درخواست دینے کی زحمت نہ کریں کیونکہ صرف اندرون سندھ کے سندھی امیدواروں کیلئے یہ آسامیاں ہیں ۔ چلیں ہم پھر امریکہ کے ٹیکساس اے۔ اینڈ۔ ایم میں داخلہ لے کر گریجوایشن کیا اور پھر یہاں ہی نوکری کرلی یہاں کے ہی ہو کر رہ گئے۔ سوال یہ ہے کہ ایسے کتنے مہاجر لڑکے ہماری طرح سے یہ مراعات لینے یا متحمل ہونے کے قابل ہیں؟ پھر جب کوئی ان زیادتیوں پر آواز اٹھانا ہے تو اس پر نہ صرف پاکستان میں بلکہ ہیوسٹن امریکہ میں بھی قتل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ہیوسٹن میں ندیم نصرت پر پانچ گولیاں فائر کی گئیں اور اللہ کے فضل سے وہ بچ گیا۔ بظاہر یہ ہی لگتا ہے کہ یہ حملہ سندھی قوم پرستوں یا ایم کیو ایم لندن والوں کی طرف سے کیا گیا مگر اب یہ رسول بخش تالپور کا زمانہ نہیں ہے۔ سوشل میڈیا کا دور ہے اب آوازوں کو گولیوں اور خنجر کے واروں سے نہیں دبایا جا سکے گا۔ ہمیں قوی امید ہے کہ ہیوسٹن پولیس اور ایف بی آئی مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچائے گی۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.