عید قربان پر گدھا نہ بن جائیے گا!!

43

دو دوست ایک بینک کے ملازم تھے۔ قربانی کے لئے بکرا خریدنا تھا بینک سے پینٹ کوٹ پہنے ٹائی لگائے وہ مویشیوں کی منڈی پہنچ گئے۔ گاڑی پارک کی اور منڈی کا جائزہ لیا کہ کہاں سے شروع کیا جائے سڑک کے دونوں اطراف تقریباً ایک کلو میٹر سے زیادہ علاقے میں جانور ہی جانور تھے جہاں گاڑی لگائی تھی وہیں سے پوچھنا شروع کیا جو بکرا کچھ آنکھوں کو اچھا لگے اس کے دام پچاس ہزار کی حد کو عبور کررہے ہوتے تھے ۔ دن کی چائے پردونوں نے اپنی حد تیس ہزار مقرر کی تھی ۔ اس لئے پھر ان بکروں پر نظر ڈالنی شروع کی جو دیکھنے میں تھوڑے کم خوبصورت اورجسامت میں دبلے ہوں۔ انتہائی کوشش کے باوجود کوئی بکراپینتیس ہزار سے کم نہ ملا۔ ابھی منڈی کی بائیں طرف والی قطار آدھی ہوئی تھی۔ بینک سے آدھے وقت میں چھٹی بھی لے لی تھی جس کی وجہ سے اس کام کو آج نمٹانا بھی واجب ہو رہا تھا۔ بھوک اور تھکان مٹانے کے لئے ایک ریڑھی سے بھنے ہوئے مکئی کے سٹے لے کر کھانے شروع کردیئے ۔ ہر قدم کے بعد ایک نئے بکرے کا دام پوچھ رہے تھے۔ ایک بکر ے کا دام پوچھا تو مالک نے اٹھارہ ہزار بولا۔ وہ چونک کر رکے ،بکرے کامعائنہ کیا، بکرا بالکل ٹھیک تھا۔ دام بھی مناسب تھے۔ پھر بھی کہا کہ مزید کمی ہوسکتی ہے؟ بولا نہیں ،کچھ ادھر ادھر کی باتیں کرنے کے بعد وہ بکرا لینے پر راضی ہوگئے۔ اب بکرے کے مالک نے کہا کہ وہ بکرا نہیں بیچے گا…پوچھا کیوں؟ تو اس نے کہا کہ میں گائوں سے آیا ہوں ۔مجھے گدھا خریدنا ہے …بس اس گدھے کے لئے بکرا بیچ رہا ہوں۔
یہاں منڈی میں ایک شخص گدھا بیچ رہا ہے لیکن وہ بکرے کے بدلے میں مجھے گدھا نہیں دے رہا۔ اگر تم مجھے اس سے گدھا خرید دو تو یہ بکرا مجھ سے لے لو۔ انہوں نے کچھ سوچا اورپھر گدھے والے کا ٹھکانہ پوچھا، اس کے پاس گئے تو پتا چلا کہ وہ گدھا سولہ ہزار میں بیچ رہا ہے۔
بات کچھ سمجھ آ رہی تھی۔ سولہ ہزار کا گدھا اور دو ہزار ساتھ دیئے جائیں تو قربانی کے لئے ہٹا کٹا بکرا اٹھارہ ہزار میں مل سکتا ہے۔ انہوں نے سولہ ہزار گدھے والے کودیئے ،رسی تھامی اور بکرے والے کی طرف چل دیئے۔
تھوڑا آگے جا کر ان کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی کیونکہ وہاں اب وہ بکرے والا نہیں تھا،پیچھے مڑے تو گدھے والا بھی غائب تھا۔ دونوں بینک کے ملازم منڈی میں گدھا تھامے کھڑے تھے ، لوگ ان کو گھور رہے تھے ، وہ شرم سے پانی پانی ہو رہے تھے۔ اب کیا ہوسکتا تھا، گدھا گھر لے جایا جاسکتا تھا نہ کوئی خریدار تھا۔ وہاں ہی چھوڑنا پڑا اور سولہ ہزار کو چونا لگوا کر گھر آگئے۔ دھوکے کے بہت سے طریقے ہیں۔ مجھے امید ہے کہ آپ لوگوں کے ہاتھ میں اس عید پر گدھا نہیں ہوگا۔ پھربھی بتانا فرض ہے اگر منڈی میں قیمت پچاس ہزار چل رہی ہے تو اٹھارہ میں لیابکر ا،بکرا نہیں ہوگا۔ احتیاط کریں دن قریب ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.