سانپ تو نکل گیا اب لکیر پیٹنے کا فائدہ؟

35

نیب نے کرپشن کے ملبے پر پھاوڑا چلایا تو آصف زرداری کے خلاف دو چار کیسز اور برآمد ہو گئے اور نیب کی انگلی جب ان کی طرف اٹھی تو انہوں نے فوراً بغیر کسی تاخیر کے ہسپتال کا رخ کیا اور اٹوائی کھٹوائی لیکر داخل شہر ہوئے۔ اب خبریں کچھ اس طرح کی آنے لگیں گی ’’حالت تشویشناک ہے‘‘۔ عوام کو تو اچھی طرح آگاہی ہے کہ جب زرداری کے خلاف کوئی کیس نکلتا ہے تو وہ فوراً بیمار پڑ جاتے ہیں۔ ان کے خیر خواہ ڈاکٹر عاصم کا ہسپتال خوش آمدید کہنے کو ہر وقت تیار رہتا ہے( ڈاکٹر عاصم کہاں ہیں؟) جیسے ڈاکٹر عدنان نمک خور نواز شریف دن رات پٹی سے لگا رہتا ہے کیونکہ بقول ان کی بیٹی کے ایک چار پانچ ہارٹ اٹیک اور پلیٹوں کا اتار چڑھائو رہتا ہے۔ ہارٹ اٹیکس کے یہ نادر دورے گینز بک آف ریکارڈ میں لکھے جانے چاہئیں کیونکہ اتنے دل کے دوروں کے باوجود وہ زندہ، بھلے چنگے ہیں۔ خیر اب تو مسئلہ آصف زرداری کی بیماری کا ہے۔ وجہ بھی واضح ہے نیویارک میں موصوف کی جائیدادیں دریافت ہوئی ہیں اور صاحب جائیداد کو بیماری کا دورہ پڑ گیا۔ اب دیکھئے ان کا پٹھو میڈیا کیا خبریں لاتا ہے۔ ’’اب گئے تو تب گئے والی بات ہو گی‘‘ ۔ ’’لینے کے دینے پڑے ہوں گے‘‘ بہرحال یہ ڈاکو امید کا دامن ہاتھ سے نہیں جانے دیتے بوریاں بھر کر نوٹ لٹائے جاتے ہیں۔ جو معاشرہ اتنا ہوس پرست، لالچی اور ہوکا رکھنے والا ہو وہ حلال کی کمائی سے تو اس کی حرس پوری نہیں ہو سکتی۔ تو 99اور 100 کے پھیر میں ہر ایک چکراتا پھررہا ہے۔ مجرمان کو پتہ ہے کہ دنیا دکھاوے کو لے دے ہو گی پکڑے جائیں گے، پھر دولت کی چمک دکھا کر چھوٹ جائیں گے۔
اس کو خود ہی میں نے اپنے شہر کی دولت بخشی
کس سے ذکر کروں اب جا کر اس نے کیا کیا لوٹا!
زرداری صاحب آپکا یہ ہونہار کپوت تو وزیراعظم کو کٹھ پتلی کہتے کہتے خود کاٹھ کا الو دکھائی دیتا ہے۔ اس کے لئے آپ نے بہت دولت چھوڑی ہے جس کا اس کو علم بھی نہیں، کچھ اکائونٹ ماں نے فون پر بتائے، بہرحال وہ اپنی عیاشیوں میں مگن ہے۔ آپ کے داغ مفارقت کے بعد پارٹی اسے قبول کرتی ہے یا نہیں یہ آنے والا وقت بتائے گا۔
پھولن دیوی آج کل کشمیر کے الیکشن میں اپنی قابلیت کے جھنڈے گاڑ رہی ہیں۔ اپنی محبت کے بے تحاشا کے ثبوت کشمیریوں کو پیش کررہی ہیں۔ یہ تو سب کو معلوم ہے کہ جھوٹ بولنے میں یدطولیٰ رکھتی ہیں۔ زور خطابت میں پتہ نہیں کیا کیاکہہ جاتی ہیں۔ ن لیگ والے عقل کے کورے کرپشن کے ماسٹر مائنڈ ان کو کچھ سمجھاتے بھی نہیں۔ اب ایک نیا شجرہ ترتیب دیا ہے کہ ان کے اور انکے والد کی رگ رگ میں کشمیر کا لہو بہہ رہا ہے یعنی ان کا تعلق بجائے جاتی امراء گائوں کے کشمیر سے ہے۔ اب سننے والے یا پڑھنے والے ان کے اس نئے شجرے پر سر پیٹتے رہیں ان کی صحت پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ پھولن دیوی شاید یہ بھول گئیں جو ان کے والد صاحب نے کارگل کی فتح پر فرمایا تھا ’’پاکستان کی فوج نے ان کی کمر میں چھرا گھونپا ہے‘‘ اور پھر بھارت کی ہمدردی میں امریکہ تک چھلانگ لگا دی تھی۔کلنٹن کے حکم پر پاکستان کی جیتی ہوئی جنگ پر ہار کا ٹھپہ لگ گیا۔ فوجوں کو واپس لانے میں جو جانی و مالی نقصان ہوا وہ الگ ہے۔
پھولن دیوی کی ضمانت کتنی مدت کے لئے ہوئی تھی؟ انہیں اتنی آزادی کیسے دی گئی کہ یہ جھوٹ کے پلندوں کی تشہیر کرتی پھریں۔ ان کی زبان ان کے قابو میں نہیں جو منہ میں آتا ہے بکتی رہتی ہیں۔ یہ جس کو چاہیں گالیاں دیں کوئی روک ٹوک نہیں۔
اب بھی کئی لوگوں کی ضمانتیں ہوئی ہیں۔ احسن اقبال کی بھی ضمانت ہو گئی کہا جاتا ہے نارروال کیس میں کوئی کرپشن ثابت نہیں ہوئی۔ عمران خان نے پھر اپنے اس نعرے کا اعادہ کیا ہے کہ وہ کسی کو NROنہیں دیں گے۔ سانپ تو نکل گیا اب لکیر پیٹنے کا فائدہ؟سنپولیے رہ گئے ہیں وہ بھی کسی نہ کسی طرح فرار ہو جائیں گے۔ انتظار ہے حکومت بدلنے کا۔
ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل نے پاکستانیوں کی کچھ امیدیں بڑھائیں تھیں لیکن کچھ بھی نہ ہوا۔ انگریز کی فطرت کا اندازہ ان بھولے بھالے لوگوں کو ابتک نہ ہوا۔ حالانکہ east india company کی مثال ان کے سامنے ہے جس میں انہوں نے انگلی پکڑ کے پہنچا پکڑا تھا اور پھر پورے ہندوستان پر قابض ہو گئے تھے۔ شاہی حکومت کا کس طرح خاتمہ کیا تھا۔ لوگوں کی وفاداریاں اور ایمانداریاں کس طرح خریدی تھیں پھر انہیں ان کی غداری پر انہیں دھتکار دیا تھا۔ ظاہر ہے ان کا کہنا بھی ٹھیک تھا کہ جب آپ اپنوں سے وفادار نہیں تو ہم سے کیا وفاداری نبھائیں گے۔پاکستانی اپنے لٹے ہوئے سرمائے پرفاتحہ پڑھ لیں اب وہ آنے والا نہیں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.