لگتا رہا قتل کردی جاؤں گی یا پاگل ثابت کیا جائے گا، برٹنی اسپیئرز

89

امریکی گلوکارہ و اداکارہ 39 سالہ برٹنی اسپیئرز نے اپنی ’سرپرستی‘ ختم کروانے کے کیس میں عدالت میں دیے گئے بیان میں کہا ہے کہ انہیں کئی سال تک یہ خوف رہا کہ انہیں یا تو قتل کردیا جائے گا یا پھر یہ ثابت کیا جائے گا کہ وہ پاگل ہیں۔

والد کی سرپرستی ختم کرنے کے کیس کی 14 جولائی کو ہونے والی سماعت میں برٹنی اسپیئرز نے ایک ہی مہینے میں دوسری بار فون کے ذریعے عدالت میں اپنا بیان ریکارڈ کروایا۔

مذکورہ بیان سے قبل گزشتہ ماہ جون کے اختتام پر برٹنی اسپیئرز نے 13 سال میں پہلی بار مذکورہ معاملے پر عدالت میں فون کے ذریعے اپنا بیان ریکارڈ کروایا تھا۔

ایک ہی مہینے میں دوسری بار عدالت میں ریکارڈ کروائے گئے بیان میں برٹنی اسپیئرز نے ایک بار پھر والد پر سنگین الزامات لگائے اور عدالت سے مطالبہ کیا کہ والد کی ’سرپرستی‘ فوری طور پر ختم کی جائے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.