جنوبی افریقا میں سابق صدر کو جیل میں قید کرنے پر فسادات پھوٹ پڑے، 72 افراد ہلاک

43

جوہانسبرگ: جنوبی افریقا میں سابق صدر جیکب زوما کو 15 ماہ کے لیے جیل بھیجنے پر پھوٹنے والے بدترین فسادات اور لُوٹ مار کے دوران 72 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق جنوبی افریقا میں کرپشن کے مقدمات کی سماعت کے دوران توہین عدالت کے مرتکب ہونے پر سابق صدر جیکب زوما کو 15 ماہ قید کی سزا سنائی گئی تھی جس کے بعد سابق صدر کو جیل بھیج دیا گیا تھا۔

سابق صدر کو جیل بھیجنے پر جنوبی افریقا کے دو گنجان آباد صوبوں میں فسادات پھوٹ پڑے جس پر فوج تعینات کی گئی تاہم ہزاروں مظاہرین کے اچانک سڑکوں پر آجانے اور لُوٹ مار سے صورت حال بگڑ گئی۔ ایک ہزار سے زائد مظاہرین کو حراست میں لیا گیا ہے۔

بعد ازاں مظاہروں کا سلسلہ جوہانسبرگ تک پھیل گیا۔ مشتعل افراد نے شاپنگ سینٹرز، شراب کے بارز اور دکانوں میں لُوٹ مار کی۔ اس دوران پولیس سے جھڑپیں بھی ہوئیں۔ مختلف واقعات میں اب تک 72 افراد کے ہلاک اور 30 سے زائد کے زخمی ہونے کی تصدیق ہوئی ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ زیادہ تر ہلاکتیں دھکم پیل کی وجہ سے ہوئیں تاہم شہریوں نے الزام عائد کیا کہ ہلاک ہونے والوں میں سے اکثریت کو پولیس کی گولیاں لگی تھیں اور آنسو گیس کے بے دریغ استعمال کے باعث دم گھٹنے سے بھی ہلاکتیں ہوئیں۔

دوسری جانب جنوبی افریقا کے صدر سیرل راما فوسا نے اپنے بیان میں قوم سے پُرسکون رہنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ جلد ہی قوم سے خطاب کریں گے اور اس اہم مسئلے پر ہونے والی پیشرفت سے آگاہ کریں گے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.