یوروکپ: برطانوی وزیراعظم کی کھلاڑیوں کو نسلی تعصب کا نشانہ بنانے کی مذمت

217

برطانوی وزیراعظم بورس جانسن نے یورو کپ کے فائنل میں شکست کے بعد پنالٹی شوٹ مس کرنے والے انگلینڈ کی ٹیم کے 3 سیاہ فام کھلاڑیوں کو نسلی تعصب کا نشانہ بنانے کی مذمت کی ہے۔

بورس جانسن نے ٹوئٹ کی کہ ‘انگلینڈ کی ٹیم کو ہیروز کی طرح سراہا جانا چاہیے نہ کہ سوشل میڈیا پر انہیں نسل پرستی کا نشانہ بنایا جانا چاہیے’۔

بورس جانسن نے کہا کہ ‘جو اس ہولناک عمل کے ذمہ دار ہیں انہیں شرم کرنی چاہیے’۔

دونوں ٹیموں کے مابین جارحانہ مقابلہ ہوا تھا اور پہلے 90 منٹ میں ایک، ایک گول سے برابر رہا جس کے بعد اضافی وقت میں بھی کوئی ٹیم گول نہ کر سکی اور معاملہ پنالٹی شوٹس تک جا پہنچا جس میں اٹلی نے انگلینڈ کو 2-3 سے شکست دے کر فٹبال کی یورپی چیمپئن شپ اپنے نام کرلی۔

انگلینڈ کی جانب سے مارکوس راشفورڈ، بوکایو ساکا اور جیدون سانچو نے پنالٹی شوٹس کھیلے تاہم 19 سالہ بوکایا ساکا کا شوٹ ناکام ہونے کے نتیجے میں 1966 ورلڈ کپ کے بعد برطانیہ پہلا بڑا بین الاقوامی ایونٹ جیتنے سے محروم ہوگیا۔

بعدازاں اٹلی کی جیت کے فوراً بعد سوشل میڈیا پر انگلینڈ کی ٹیم کے تینوں کھلاڑیوں کو نسلی تعصب کا نشانہ بنانے کا سلسلہ شروع ہوگیا۔