غزل و نظم کے نامور شاعر قتیل شفائی کو دنیائے فانی سے کوچ کیے 20 برس گزر گئے

276

ہری پور کے بے مثل نغمہ نگاراور غزل و نظم کے بہترین شاعر قتیل شفائی کو دنیائے فانی سے کوچ کیے 20 برس گزر گئے، الفاظ کے جادوگر نے جو بھی لکھا خوب لکھا۔

رقص کرنے کا ملا جو حکم دریاؤں میں
ہم نے خوش ہوکے بھنور باندھ لیے پاؤں میں

شاعری میں حقیقت پسندی کا رنگ بھرنا بھی اُن کا خاصا رہا،

نہ کوئی خواب ہمارے ہیں نہ تعبیریں ہیں،
ہم تو پانی پہ بنائی ہوئی تصویریں ہیں۔

لہجے کی سادگی و سچائی، عام فہم زبان کا استعمال اور انسانی جذبات کی ایسی خوبصورت ترجمانی کہ جس نے اُنہیں مقبول ترین شعرا کی صف میں لاکھڑا کیا۔ فلموں کے لیے گیت لکھے تو فلمی شاعری کی توقیر بڑھا دی،اِس میدان میں بھی وہ یکتا دکھائی دئیے۔

صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی 1994ء، آدم جی ادبی انعام، امیر خسرو ایورڈ اور نقوش ایورڈحاصل کرنے والے قتیل شفائی 11جولائی 2001کو دارفانی سے کوچ کرگئے۔