‘امریکیوں کی ایک اور نسل کو افغانستان جنگ کیلئے نہیں بھیجوں گا’

255

امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ ‘میں امریکیوں کی ایک اور نسل کو افغانستان میں جنگ کے لیے نہیں بھیجوں گا’ ساتھ ہی انہوں نے افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا کیلئے 31 اگست کی حتمی تاریخ کا بھی اعلان کیا۔

فرانسیسی خبررساں ادارے اےا یف پی کی رپورٹ کے مطابق انہوں نے کہا کہ امریکی فوج نے افغانستان میں اپنے اہداف حاصل کرلیے تھے جس میں اسامہ بن لادن کو مارنا، القاعدہ کو کمزور کرنا اور امریکا پر مزید حملے ہونے سے روکنا شامل ہے۔

انہوں نے افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ امریکیوں کی ایک اور نسل کو ناقابل فتح جنگ میں قربان کرنے کے بجائے افغان عوام کو اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرنا چاہیے۔

وائٹ ہاؤس میں گفتگو کرتے ہوئے جو بائیڈن نے کہا کہ افغان فوج کے پاس طالبان کو پیچھے دھکیلنے کی صلاحیت موجود ہے۔

امریکی صدر نے کابل میں موجود امریکی سفارتخانے کی حفاظت کے لیے 650 فوجیوں کے سوا تمام امریکی فوجیوں کے افغانستان سے انخلا کے لیے 31 اگست کی حتمی تاریخ مقرر کی ہے۔

جو بائیڈن نے کہا کہ 20 سال تک فوج کی موجودگی سے امریکا نے 2001 میں اس ملک پر حملہ کرنے کا اپنا اصل مقصد بہت پہلے ہی حاصل کرلیا تھا جس میں القاعدہ کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا، امریکا پر 11 ستمبر جیسا ایک اور حملہ ہونے سے روکنا شامل ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘ہم جس کے لیے گئے تھے وہ مقاصد حاصل کرلیے ہم افغانستان میں قومی کی تعمیر کرنے نہیں گئے تھے اور یہ افغان عوام کا حق اور ذمہ داری ہے کہ خود اپنے مستقبل اور اس بات کا فیصلہ کریں کہ ملک کس طرح چلانا ہے’۔