افغان مسئلہ!!

75

اوباما نے اپنے آخری STATE ADDRESSمیں کہا تھا کہ پاکستان اور افغانستان کے حالات دو عشروں کے بعد بہتر ہو سکتے ہیں، امریکی صدر کے بیانات پاکستان کے وزیراعظم اور صدور کے بیانات نہیں ہوتے، جو چنددنوں کے بعد دھندلاجاتے ہیں، امریکی صدر کا بیان سٹیٹ پالیسی بیان ہوتا ہے جس کے گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں اور اس کے پیچھے اسٹیٹ پالیسی اور اس سے پیوست ٹھوس حکمت عملی ہوتی ہے، یہ تو اس وقت طے کر لیا گیا تھا کہ خطے کو اس وقت تک زیر اثررکھنا ہے جب تک مطلوبہ مقاصد حاصل نہیں ہو جاتے، جو عالمی سیاست کے بارے میں علم رکھتے ہیں ان کو یہ بھی پتہ ہے کہ بڑی طاقتوں کی اسٹیٹ پالیسی جلد تبدیل نہیں ہوتی اور جب تبدیل ہوتی ہے تو اس میں بھی انکی مرضی شامل ہوتی ہے، اسی لئے ایشیاء، چین، روس کے بارے میں عالمی طاقتوں کی پالیسی میں ہمیشہ کم تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے، چین دیگر عالمی طاقتوں کی پالیسی کو سمجھتا ہے لہٰذااس نے حکومتی زبان اور بیان میں ہمیشہ دھیما لہجہ اپنایا ہے اور عشروں سے LOW PROFILEکی پابندی کی ہے، جو ترقی چین نے گزشتہ تیس سالوں میں کی ہے وہ کسی مسلم ملک کو حاصل ہوتی تو وہ آپے سے باہر ہو جاتا اور دنیا پر خلافت نافذ کرنے کے خواب دیکھتا، ایوب خان اور ضیاء الحق کو ذراسی عالمی توجہ ملی اور وہ جامے سے باہر ہو گئے یہی حال بھٹو کا ہوا، عالمی سیاست کا مطالعہ پیچیدہ ہوتا ہے پاکستان کے بہترین ذہن بھی اس کو نہیں پا سکتے اور عالمی طاقتوں کی مربوط حکمت عملی کو سمجھ نہیں سکتے، سو یہ تو طے ہوچکا ہے کہ پاکستان کو کسی متحرک دور میں داخل ہونے کے لئے ابھی ایک عشرے سے زیادہ انتظار کرنا ہو گا اور یہ بات بھی قابل غور ہے کہ اوباما نے پاکستان اور افغانستان کے بارے ایک ساتھ اظہارخیال کیا تو یہ بھی ممکن ہے کہ عالمی طاقتوں کی پالیسی میں دونوں ممالک کو ایک ہی کیٹیگری میں رکھا گیا ہے اور اس کو کئی بار NOTIFYبھی کیا گیا ہے، یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ مغرب کی پالیسیاں اتنی بسیط اور مربوط ہوتی ہیں کہ ان کا توڑ ممکن نہیں ہوتا، اور اگر کبھی کہیں کوئی دراڑ ہوتی بھی ہے تو اس کو آسانی سے PEPAIRکر لیا جاتا ہے، خواہ اس میں طاقت کا استعمال کیوں نہ کرنا پڑے۔
بھٹو نے جب حکمت یار سے ملاقات کی تھی اسی وقت امریکی پالیسی سازوں کو پتہ چل گیا تھا کہ پاکستان کو روس کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے اور ان کو معلوم تھا کہ بھٹو اس کی پوری قیمت وصول کرے گا، لہٰذا اس کو راستے سے ہٹانا بہت ضروری تھا، ضیاء الحق کوئی ذہین انسان تو تھا نہیں، روس کے قبضے کے خلاف جب اس سے مدد مانگی گئی تو وہ تذبذب کا شکار تھا اس کو بتایا گیا کہ وہ اس کو جہاد کا نام دے سکتا ہے اور لیجئے جہاد افغان کا آغاز ہو گیا، 1979سے لے کر اب تک افغانستان کو اہمیت ملی اور پاکستان کو دہشت گردی، منشیات اور معاشی تباہی ملی، وجہ یہ تھی عالمی طاقتوں کے نکتہ نظر سے اہم تھی کہ پاکستان کو بفرزون بنا کے رکھنا تھا، سو رکھا ہوا ہے، جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ امریکہ کو افغانستان میں شکست ہو گئی وہ حقیقت سے بے خبر ہیں، یہ سچ ہے کہ امریکہ نے ٹریلین ڈالرز خرچ کئے مگر اس خطے میں مطلوبہ مقاصد حاصل کر لئے اور اس میں سب سے اہم 1980ء سے اب تک پاکستان کو بفرزون رکھنا اور معاشی تباہی سے دو چار کرنا ہے یہ بات قابل غور ہے کہ 1980ء سے اب تک سیاست پر فوج قابض ہے کیا یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ فوج عالمی طاقتوں کے اس ایجنڈے میں ممدومعاون ہے تو بلا جھجک یہی کہا جائے گا کہ عالمی طاقتوں کا ایجنڈا فوج کے ہاتھوں ہی انجام پارہا ہے، ہم لکھ چکے ہیں کہ اس وقت اشرافیہ، فوج اور دینی حلقے ہی آرام سے THREE MEALSکھا سکتے ہیں اس کام کو سرانجام دینے کے لئے فوج کو اشرافیہ اور دینی حلقوں کا تعاون حاصل ہے عوام اور کچھ سیاست دانوں کو لگام ڈالنے کے لئے مدرسوں کے ڈنڈا بردار طلباء استعمال ہوتے رہے ہیں۔
نواز شریف نے فوج کو آنکھیں دکھانا شروع کر دیںتھیں سو عمران کا انتخاب کیا گیا عمران کا سیاسی شعور کالج کے ایک طالب علم جتنا بھی نہیں اور عقل سے فارغ، ان کو نہیں معلوم کہ افغانستان سے امریکہ کے انخلاء کے بعد کیا ہو گا، عمران کو اس تمام باتوں سے دور رکھا گیا ہے، ایک مخولیہ نام نہاد وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے نام سے موسوم ہے دنیا کا پہلا وزیر خارجہ جو عوامی جلسوں میں خارجہ مسائل پر بات کرتا ہے اور وزارت خارجہ قمر باجوہ کے زیر اثر ہے، افغانستان کے تمام مسائل انہوں نے ہی بھگتائے ہیں، ہم کہتے رہے ہیں کہ عمران خالی میز پر بیٹھا ہے اس کی میز پر ایک فائل بھی نہیں ہوتی، اور تمام بیرونی ممالک کے DELEGATESسے جنرل باجوہ ہی ملتا ہے امریکہ ایک حکمت عملی کے تحت افغانستان سے جارہا ہے، افغانستان میں خانہ جنگی ہو کر رہے گی، اندازہ ہے کہ بیس لاکھ افغانی پاکستان آئیں گے اور سارے پاکستان میں پھیل جائیں گے جس سے ملک میں دہشت گردی پھیلے گی امن و امان کے مسائل پیدا ہوں گے اور یہ دہشت گرد بزور طاقت پاکستان کا رنگین کلچر تباہ کر دیں گے، افغانستان میں امن دیوانے کا خواب ہے اور بھی کہ وہاں کوئی سیاسی حکومت قائم ہو سکتی ہے، اگر اوباما کے اس سٹیٹ ایڈریس کو دوبارہ دیکھ لیں تو اندازہ ہو گا کہ امریکہ کا انخلاء اس خطے کے اگلے بیس سال لے جائے گا اور پاکستان کو بفرزون رکھنے میں فوج عالمی طاقتوں کی مددگار ہو گی، گویا پاکستان کی حکومت جو فوج کے زیر اثر ہے عالمی ایجنڈے پر کاربند ہے اور عمران کی حیثیت ایک TOUTسے زیادہ کچھ بھی نہیں دنیا نیوز کے سعد رسول جو فوج کے ہی ترجمان معلوم ہوتے ہیں انہوں نے کہا ہے کہ افغانی ہمارے بھائی ہیں اور ہمیں ان کی مدد کرنی ہے، عمران کا لالچ یہ ہے کہ افغانی پاکستان آئے تو عالمی مدد بھی آئے گی اور فوج اس انتظار میں ہے کہ وہ اس امداد پر گلچھرے اڑائے گی، حالانکہ گئے سال حکومت کا عندیہ یہ تھا کہ امریکی فوج افغانستان سے نہ جائے تاکہ راہداری کی جو خطیر رقم پاکستان کو ملتی ہے وہ ملتی رہے اور اس کا کچھ کام چلتا رہے۔
اس کے اثرات پاکستانی سیاست کلچر اور تہذیب پر بھی پڑیں گے اس تمام EXERCISEکا مقصد یہ بھی ہے کہ پاکستان کی سیاست کو تبدیل کر دیا جائے، افغان کلچر اور پختون کلچر ایک جیسے ہیں مگر گزشتہ ستر سال سے پختون پنجابی سیاست کے زیر اثر ہیں، جب افغانستان پر روسی اثرات تھے تو پختون بھی کیمونزم کے حامی تھے اور پنجاب اسلام کا علمبردار اور یہ پنجاب تھا جس نے غفار خاں کوغدار کہا تھااور عجب مذاق ہے کہ طالبان ابھرے تو سارا افغانستان کیمونزم سے تائب ہو اور بنیاد پرست بن گیا، اب پنجاب پر پختون سیاست راج کرے گی اور اس کے اثرات کراچی پر زیادہ ہوں گے بہت جلد کراچی پختونوں کے اثر میں آجائے گا اور پھر سندھ بھی دھیرے دھیرے یہ اثرات قبول کرے گا، سماجیات کے طالب علم اس بات کو آسانی سے سمجھ سکتے ہیں، پاکستان کو افغانستان بنانے کی کوشش کی جارہی ہے جس کی پیش گوئی کچھ تجزیہ نگاروں نے بہت پہلے کر دی تھی۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.