امریکہ‘ ترکی اور کابل ایئر پورٹ!!

236

گذشتہ کئی برسوں سے حامد کرزئی انٹر نیشنل ایئر پورٹ افغانستان کو مغربی ممالک سے ملانے کا واحد ذریعہ چلا آ رہا ہے اسکی اس اہمیت کی وجہ سے اسے افغانستان کا مین گیٹ وے ٹو دی ورلڈ کہا جاتا ہے افغانستان میں چار عشروں سے جاری رہنے والی جنگوں کے باوجود یہ ایئر پورٹ امن اور عظمت کے استعارے کے طور پر اپنی گرانقدر ذمہ داری نہایت مستعدی سے نبھا رہا ہے یورپ اور امریکہ کے سفارت کار‘ ایڈ گروپس کے کار کن اور ملٹری اور انٹیلی جنس افسر ان بلا توقف کابل کے اس گیٹ وے کو استعمال کرتے رہے ہیں دنیا بھر میں کابل ایئر پورٹ کے نام سے پکارا جانا والا یہ ہوائی اڈہ اگر غیر ملکیوں کو خوش آمدید نہ کہتا تو امریکہ کیلئے کابل میں اپنی قائم کردہ حکومت کو ایک دن کیلئے بھی برقرار رکھنا ممکن نہ ہوتا کابل ایئر پورٹ کی یہ اہمیت آج تک دنیا بھر کی نگاہوں سے اوجھل رہی مگر آجکل یہ مغربی میڈیا کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے یوںلگتا ہے کہ امریکہ اپنی فوجوں کے انخلاء کے بعد افغانستان میں اپنے تسلط کی جنگ اس ایئر پورٹ سے لڑے گا یہ ہوائی اڈہ اگر امریکہ کے کنٹرول میں رہتا ہے توکابل میں امریکی سفارت خانہ موجود رہیگا بصورت دیگر واشنگٹن کو یہ آخری قلعہ بھی چھوڑنا پڑ جائیگا ایک دنیا جانتی ہے کہ اسے امریکی تسلط میں رکھنے کیلئے ترکی کا کردار کلیدی اہمیت اختیار کر گیا ہے رسپ طیب اردوان اگر چاہے تو اس ایئر پورٹ کی چابی صدر بائیڈن کی جیب میں رہ سکتی ہے مگر ترک صدر اس پہرے داری کی جو قیمت مانگ رہا ہے امریکہ اسے دینے کو تیار نہیں ہے اسی لئے دونوں ممالک میں دو ماہ سے ہونیوالی طویل گفت و شنید کے باوجود کبھی یہ کہا جاتا ہے کہ ڈیل ہو چکی ہے اور کبھی یہ خبر آتی ہے کہ بات چیت جاری ہے امریکہ ترکی تعلقات کا معاملہ اتنا سادہ اور آسان نہیں ہے جتنا اسے سمجھا جا رہا ہے اسمیں جو پیچیدگیاںگذشتہ پانچ سال سے چلی آرہی ہیںوہ جب تک حل نہ ہوں گی کابل ایئر پورٹ کے مستقبل کا فیصلہ نہ ہو سکے گادونوں فریق جانتے ہیں کہ پانی یہیں مرے گا اگر دونوں نے نیٹو اتحادیوں کے طور پر اپنے تعلق کا سلسلہ برقرار رکھنا ہے تواس گھتی کو جلد از جلد سلجھا نا ہو گا وقت تیزی سے گذر رہا ہے طالبان نے جس محاوراتی گھڑی کا ذکر بیس سال پہلے کیا تھا وہ اب امریکہ ترکی کی کلائی پر باندھنا چاہتا ہے ترکی گو مگو میں مبتلا ہے وہ کبھی کلائی بڑھا دیتا ہے اور کبھی اسے کھینچ لیتا ہے وہ اتنا نرم نہیں بننا چاہتا کہ اسے نچوڑ دیا جائے اور نہ اتنا سخت بننا چاہتا ہے کہ اسے توڑ دیا جائے اور اسے یہ بھی معلوم ہے کہ ’’ لیسٰ للانسان الا ما سعیٰ‘‘ یعنی انسانوں کیلئے وہی کچھ ہے جس کی انہوں نے کوشش کی ایک دانشور نے یہ بھی کہا ہے کہ وقت کو ماتھے کے بالوں سے پکڑنا ہوتا ہے ترکی نے اگر اس وقت کے اس لمحے کو اپنی گرفت میں نہ لیا تو پھر گاڑی گذر جائیگی This is a make or break moment طیب اردوان ایک منجھا ہوا سیاستدان ہونے کے علاوہ ایک تجربہ کار سٹیٹس مین بھی ہے وہ اس لمحے کو ضائع نہیں ہونے دیگا وہ اس کی پوری پوری قیمت وصول کریگا وہ جانتا ہے کہ
یہ بزم مہ ہے یاں کوتاہ دستی میںہے محرومی
جو بڑھ کر خود اٹھا لے ہاتھ میںمینا اسی کا ہے!
ولیم شیکسپیئر نے ’’ جولیس سیزر‘‘ میں لکھا ہےThere is a tide in the affairs of man پوری سطر کا مطلب یہ ہے کہ کبھی کبھار انسان کے معاملات ایسی لہر کی مانند ہوجاتے ہیں جس پر قابو پا لیا جائے تو کامیابی کے دروازے کھل جاتے ہیںطیب اردوان ایسی ہی ایک لہر سے نبرد آزما ہے میں ہر گز یہ نہیں کہہ رہا کہ وزیر اعظم عمران خان کو بھی اسی چابکدستی کا مظاہرہ کرنا چاہیئے جسے طیب اردوان بروئے کار لا رہے ہیں پہلی بات تو یہ کہ ترکی کی سرحدیں افغانستان سے نہیں ملتیں اور دوسری یہ کہ پاکستان نے امریکہ سے دوستی کی جو قیمت ادا کی ہے وہ شائد ہی کسی دوسرے ملک نے کی ہو اسلئے اس نازک لمحے میں اس بت توبہ شکن سے کچھ فاصلے پر ہی رہنا بہتر ہے اور یہ بات بھی کہ کیا اعتبار ہستی نا پائیدار کا اسکے علاوہ یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ ’’ لم تقولون ما لا تفعلون‘‘ یعنی تم وہ بات کیوں کہتے ہو جو کرتے نہیں‘‘ اس معاملے میں گزارش صرف اتنی ہی کی جا سکتی ہے اس سے زیادہ نہیں ترکی کا معاملہ البتہ مختلف ہے طیب اردوان اس بساط پر اپنے مہروں کی ہر چال کے اسباب و عوامل سے پوری طرف واقف ہے افغانستان کے دگر گوں حالات‘ اردوان کی رشید دوستم سے پرانی دوستی‘ ہزارہ ‘ ازبک اور شیعہ قومیتوں سے ترکی کے تاریخی تعلقات ایسے عوامل ہیں جنہوں نے صدر اردوان کو ایک فیصلہ کن مقام پر لا کھڑا کیا ہے وہ بقول شاعر یہ کہہ رہا ہے کہ
جم کے چلتا ہوں زمیں پر جو میں آسانی سے
یہ ہنر مجھ کو میرا بار ِگراں دیتا ہے!!
امریکہ اور اسکے اتحادی اگر ترکی سے کوئی ڈیل بنا لیتے ہیں تو پھر یہ ممالک کابل میں اپنے سفارتخانوںکوامریکی انخلا کے بعد بھی کھلا رکھ سکتے ہیںبصورت دیگر ایک امریکی دفاعی صلاح کار کی رائے میںThe consequences could be substantial یعنی کہ نتائج بھیانک ہوسکتے ہیں امریکہ کی ترکی سے ڈیل نہیں بنتی تو پھر طالبان کی پہلی حکومت کا دور لوٹ آئیگا اور اسکے آنے سے پہلے ایک مہیب خانہ جنگی کا آسیب بھی پورے خطے پر منڈلاتاہوا نظر آرہا ہے پینٹا گون کے ترجمان جان کربی نے کہا ہے کہ ایک محفوظ ایئر پورٹ کے بغیرکابل میں کسی بھی ملک کے سفارت خانے کیلئے روز مرہ کے معاملات نبھانا ممکن نہ ہو گا جان کربی نے صحافیوںسے کہا کہ اگر ایمبیسی کے سٹاف کو ایمر جنسی میں افغانستان سے نکالنے کیلئے ایک محفوظ ایئر پورٹ میسر نہ ہوا تو پھر ایمبیسی کو کھلا نہیں رکھا جا سکتا مغربی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ترکی اگر چہ کہ پس و پیش سے کام لے رہا ہے مگر وہ در حقیقت افغانستان میں اپنی موجودگی برقرار رکھنا چاہتا ہے اس ملک کے عوام سے ترکی کے نہ صرف دیرینہ تعلقات ہیں بلکہ اس خطے کیساتھ تاریخی طور پر اسکے اقتصادی روابط بھی رہے ہیں گذشتہ بیس برسوں سے افغانستان میں ترکی کے کم از کم چھ سو فوجی موجود ہیںتیس جون تک کی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکہ اور ترکی کے درمیان بات چیت میں پیشرفت ہوئی ہے مگر ڈیل اسلئے طے نہیں ہو سکی کہ ترکی ‘ روس کیساتھ اپنے تعلقات میںامریکی مداخلت برداشت کرنے پر آمادہ نہیں ہو رہا اسکی مزید تٖفصیل اگلے کالم میں بیان ہو گی!