’’انور اقبال‘‘

210

’’پی ٹی وی‘‘ یعنی پاکستان ٹیلی ویژن وہ پہلا ٹی وی چینل تھا جو پاکستان میں متعارف ہوا، ابھی تو گھروں میں ٹی وی سیٹ آئے بھی نہیں تھے کہ گھر گھر ’’پی ٹی وی‘‘ کا چرچا ہو گیا تھا، یہ محلے کے جس گھر میں بھی آتا یعنی اس گھر میں ٹی وی سیٹ ہوتا وہاں محلے بھر کے پڑوسی جمع ہو کر ٹی وی نشریات سے لطف اندوز ہوتے، 1968 سے لے کر 1991ء تک پاکستان ٹیلی ویژن واحد ادارہ تھا۔
بولی وڈ سے فلموں کے مقابلے میں چاہے ہم پیچھے کیوں نہ ہوں لیکن ٹی وی انٹرٹینمنٹ میں بولی وڈ سے ہمیشہ بہت آگے رہے ہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ پی ٹی وی نے ڈرامے اور پروگراموں کا معیار شروع سے ہی اتنا اونچا رکھا کہ اس تک پہنچنا ہندوستان جیسے بڑے ملک کیلئے آج تک بھی ممکن نہ ہوا۔
معیار کی بات کریں تو اگر اس وقت ٹی وی پروڈیوسر بننا ہوتا تو آپ کا گریجوٹ ہونا لازمی شرط تھی، یہی ریڈیو پاکستان میں بھی ملازمت کیلئے اولین شرط تھی، اس کے علاوہ آپ کی جنرل نالج، ادب سے واقفیت، آداب سے آگاہی، الفاظ کی نشست و برخاست، تلفظ، ادائیگی سب کی جانچ انٹرویو کے دوران ایک بورڈ آف ڈائریکٹرز کرتا تھا، اگر آپ ان تمام مراحل کو پارکر گئے تو پھر پروڈیوسر بننے کا مرحلہ آتا تھا اور یہی حال ڈرامہ آرٹسٹ کے انتخاب کیلئے بھی تھا، پرسنالٹی کے ساتھ ذہن، زبان، تعلیم سب ضروری تھے۔ پی ٹی وی نے کئی ایسے بڑے اور بے حد نامور آرٹسٹ دئیے جنہوں نے کام تو زیادہ نہیں کیا مگر ان کا نام آج تک لوگوں کے ذہن میں محفوظ ہے، ایسا ہی ایک نام ’’انور اقبال‘‘ ہے، وہ ایسے لوگوں میں تھے جو دیکھنے میں ہیرو لگتے تھے، ان کی شخصیت ان کے بات کرنے کا انداز سب زبردست تھا، ’’ہیرو‘‘ بننے کے لئے انہیں کسی خاص محنت اور جدوجہد کی ضرورت نہیں تھی۔
انور اقبال کا جو کردار سب سے زیادہ مشہور ہوا وہ تھا ’’نانا کی جان قمرو‘‘ یہ ’’شمع‘‘ سیریل کا کریکٹر تھا جو آج بھی لوگوں کی یادداشتوں میں زندہ ہے۔
انور اقبال کا تعلق ایک سیاسی گھرانے سے تھا ان کے والد جناب حاجی محمد اقبال بلوچ جنگ آزادی کے سرگرم کارکن تھے یہ وہ پہلے شخص تھے جنہوں نے پاکستانی حکومت کو ’’گوادر‘‘ کے علاقے کی اہمیت کا احساس دلوایا۔
انور اقبال نے کراچی یونیورسٹی سے ماسٹرز کیا لیکن ان کی دلچسپی اور شوق ہمیشہ سے ریڈیو، فلم، ٹی وی تھا۔ اس میدان میں انہوں نے اپنا کیریئر 1976 میں فلم ’’ہمل و ماہ گنج‘‘ کی پروڈکشن سے کیا جس میں انہوں نے اداکاری کے جوہر بھی دکھائے، اس کے بعد سندھی ڈرامہ سیریل ’’دوستوں جو پیار‘‘ پروڈیوس کی 1979ء پھر وہ کئی ڈراموں میں نظر آئے، 1984ء میں انہوں نے ’’عشق پہچان‘‘ ڈرامہ ڈائریکٹ کیا۔
1980ء میں ہمارے والد قمر علی عباسی کا بچوں کا ڈرامہ سیریل ’’بہادر علی‘‘ ٹی وی سے نشرا ہوا اور بے حد مقبول ہوا، اس سیریل سے کئی بڑے نام جڑے تھے ان میں ایک نام انور اقبال کا بھی تھا۔ میں بہت چھوٹا تھا لیکن میرے ذہن میں جو صورت ایک ہیرو کی بنی تھی وہ انور اقبال کی تھی، میں انہیں جب جب ’’بہادر علی ‘‘میں دیکھتا مجھے لگتا ہیرو ایسا ہونا چاہیے، سیٹ پر ریکارڈنگ کے دوران جب بھی میں ابو کے ساتھ ہوتا اور میں انہیں دیکھتا تو مجھے لگتا بس یہی ہیرو ہوتا ہے۔ اچھی شکل، خوبصورت بات چیت اور انداز اور آواز، ان کی ہر چیز ایک فلم اور ڈرامہ ہیرو کے حساب سے پرفیکٹ تھی، انور اقبال’’بہادر علی‘‘ میں ڈاکٹر بنے تھے اور بہت جچے تھے، ان کا وہ رول سب کو یاد رہا۔
ہم امریکہ سیٹل ہو گئے اور کئی برس گزر گئے، کرونا سے پہلے کی بات ہے کہ انور اقبال کے ہمراہ ڈیلس آئے، امریکہ کی ریاست ٹیکساس کا یہ شہر گہما گہمی کا مرکز بنتا جارہا ہے۔ نت نئی ثقافتی اور ادبی سرگرمیوں کا محور، یہاں مختلف شہروں اور ملکوں سے ادیب، شاعر، آرٹسٹ آتے ہیں کچھ عرصے قیام کرتے ہیں، اہل ڈیلس ان کی پذیرائی کرتے ہیں، انور اقبال کو بھی خوش آمدید کہا گیا کئی فنکشن ان کے اعزاز میں منعقد ہوئے، ہم نے بھی اپنے گھر انہیں کھانے پر مدعو کیا۔ وہ آئے اور مجھے لگا کہ میرا بچپن لوٹ آیا، ابو کی باتیں، قصے، ریڈیو، پی ٹی وی، بہادر علی کے قصے، رات دیر تک محفل جمی رہی اور پھر وو اپنی باتوں کی خوشبو اور شخصیت کی جگمگاہٹ چھوڑ کر رخصت ہو گئے۔
انور اقبال کئی وعدے کر کے گئے تھے، طبعیت ٹھیک رہی تو ضرور ڈیلس واپس آئوں گا، ہم نے اس وقت غور ہی نہیں کیا کہ ’’طبیعت ٹھیک رہی‘‘ سے کیا مراد تھی، دراصل وہ کینسر جیسے موذی مرض میں مبتلا تھے، علاج کروارہے تھے، کمزور تو ہو گئے تھے لیکن ان کی زندہ دلی اب بشاشت سے کہیں یہ اندازہ نہیں ہو رہا تھا کہ وہ کسی تکلیف میں مبتلا ہیں۔
زندگی میں زیادہ تر ایسا ہوتا ہے کہ پتہ ہی نہیں چلتا کہ ہم کس سے آخری بار مل رہے ہیں، جب وہ چلا جاتا ہے تو احساس ہوتا ہے کہ کتنی باتیں تھیں جو رہ گئیں، کر نہ سکے، کچھ مہینے پہلے انور اقبال کی بیگم کا انتقال ہو گیا تھا اور اب یکم جولائی 2021ء کو انور اقبال چلے گئے، ہمیشہ کیلئے۔انور اقبال ان خوش نصیب اداکاروں میں سے ہیں جن کے ادا کئے کرداروں کو پہچان ملی، سب کی زندگی مقرر اورمحدود ہوتی ہے لیکن وہ لوگ خوش نصیب ہوتے ہیں کہ جو زندگی اپنی مرضی اور پسند کے کام میں گزارتے ہیں اور انور اقبال انہی خوش نصیبوں میں سے ایک تھے۔