سونے کا انڈا دینے والے اوور سیز پاکستانی کیا چاہتے ہیں؟

217

ایک عرصہ سے پاکستانی حکومتیں بیرون ملک کام کرنے والے پاکستانیوں کی فلاح و بہبود کا کام کرنے کے دعوے کر رہی ہیں۔ راقم کی یاد اگر صحیح ہے تو غالباً مشرف کے دور میں پاکستانیوں کو نادرا کارڈ دینے کا فیصلہ کیا گیا تھا جس سے انہیں پاکستان جانے کے لیے سوا سو ڈالر کا ویزہ لگوانے کی ضرورت نہیںرہی تھی۔اس کے بعد یہ بھی اجازت مل گئی تھی کہ پاکستانی امریکی شہریت کے ساتھ پاکستانی شہریت بھی بر قرار رکھ سکتے تھے۔ان مراعات سے کم از کم پاکستان جانے اور وہاں کی سہولتوں سے فائدہ اٹھانے کے مواقع بن گئے۔ مثلاًپاکستانی وہاں جا کر جائداد کی خرید و فروخت کر سکتے تھے۔یہ سب اس لیے ہوا کہ حکومتوں کو احساس ہوا کہ یہ پاکستانی جب باہر کام کرتے تھے تو پاکستان میں اپنے عزیز و اقرباء کو اپنی آمدنی کا ایک بڑا حصہ بھیجتے تھے، جو پاکستان کی زر مبادلہ کی ضروریات پورا کرنے میں ممد و معاون ہوتا تھا۔تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق اس زر مبادلہ کی رقوم اب پاکستان کی کل بیرونی تجارت سے حاصل ہونے والی رقوم سے بھی زیادہ ہو چکی ہیں۔
لیکن یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ بیرون ملک پاکستانیوں کا، اپنے ملک سے رابطہ ،پاکستانی سفارت خانوں اور قونصلٹ کے ذریعے بھی ہوتا ہے۔ اکثر پاسپورٹ کی تجدید کے لیے یا نیا پاسپورٹ بنوانے کے لیے، قانونی نوعیت کے کاغذات پر مہر لگوانے کے لیے اور سفر سے متعلق دستاویزات وغیرہ کے لیے لا محالہ ان کی خدمات کی ضرورت پڑتی ہے۔ اس کے علاوہ مزدوری کرنے والے پاکستانیوں کو اگر مقامی حکام سے شکایت ہو تو اس پر بھی وہ اپنے سفارت خانہ سے رجوع کرتے ہیں۔لیکن اگر سفارت خانہ کا عملہ اپنی خدمات دینے میں ان سے وہی سلوک کرے جو پاکستانی سرکاری دفاتر میں ہوتا ہے، تو یہ بڑے افسوس کی بات ہے۔ اور ایسا زیادہ تر مشرق وسطیٰ اورخلیج کی ریاستوں میں عمومی طور پر کم پڑھے لکھے مزدوروں کے ساتھ ہوتا ہے۔اگرچہ پڑھے لکھے بھی اس رویہ کا شکار ہوتے ہیں۔ان کی شکائیتں پاکستان کے حکمرانوں تک پہنچتی ہیں۔ لیکن پوری افسر شاہی سے ٹکر لینا ایک نا ممکن سا چیلنج ہے۔
بیرون ملک کام کرنے والے پاکستانیوں کا ایک بڑا سنجیدہ مسئلہ، پاکستان رقم بھیجنا اور پاکستان میں اپنی جائدادوں کا ہوتا ہے۔ جس پر ان کا بہت سرمایہ لگا ہوتا ہے۔ کبھی اپنے اور کبھی غیر ان جائدادوں پر قبضہ کر لیتے ہیں۔اور ان کو چھڑوانے پر ان جفا کشوں کا مزید خرچ ہوتا ہے اور ضروری نہیں پھر بھی کام ہو جائے۔ہر قدم پر سرکاری ملازم منہ پھاڑے کھڑے ہوتے ہیں، جن کی مٹھی گرم کیے بغیر کوئی کام نہیں ہوتا۔پٹواری سے فرد لینا، اگر وکالت نامہ بنوایا تو ا سکو رجسٹر کروانا، اگر بیرون ملک بنوایا تو سفارت خانے سے تصدیق کروانا، اور دوسرے لا تعداد حیلوں بہانوں سے سائلوں کی کھال ادھڑنے کے سینکڑوں بہانے بنے ہوئے ہیں۔پاکستانی حکومتوں کو اپنی کرسی بچانے سے فرصت ملے تو وہ ان چیزوں پر توجہ دیں۔
سن2014میں پنجاب کی حکومت نے اوورسیز پاکستانیوں کی سہولت کے لیے کمیشن بنایا۔ لیکن در اصل امداد کے نام پر پیسے بنانے کا ایک نیا سلسلہ بن گیا۔اس کے بعد وفاق نے اوورسیز پاکستانیوں کے لیے ایک فاونڈیشن بنائی۔ جو ان کو مختلف شہروں میں اپارٹمنٹ بیچتی ہے۔ اور بھی کئی سہولتیںبتائی جاتی ہیں۔اگرچہ وقت کے ساتھ ساتھ آن لائن سہولتیںبڑھائی جا رہی ہیں، لیکن ان کو استعمال کرنا ایک عام صارف کے بس کی بات نہیں۔ راقم نے اپنے نادرا کارڈ کی تجدید کے لیے آن لائن سہولت استعمال کرنے میں اتنی تگ و دو کی کہ کچھ نہ پوچھیں۔لگتا ہے کہ نادرا نے ان سرکاری ملازموں کی ہمدردی میں جن کا یہ کام تھا اور آن لائن ہو گیا، اس کو بلا وجہ اتنا مشکل بنا دیا کہ لوگ دہائی دیں کے ہم آن لائن سہولت نہیں چاہتے۔
اوور سیز پاکستانیوں کے لیے سہولتیں بنانا ایک بات ہے اور ان پر عمل درآمد کروانا ایک اور۔ان بیرون ملک کام کرنے والے پاکستانیوں کی ملک جا کر اور بھی درگت بنتی ہے۔ ابھی آج کے اُردو ٹائمز کی خبر ہے کہ’’ اسلام آباد میں اوور سیز پاکستانیوں کے لیے ویکسی نیشن ایک بار پھر تاخیر کا شکار ہو گئی، جس پر ایف نائین پارک میں اوور سیز پاکستانیوں نے ویکسی نیشن سنٹر کے سامنے احتجاج کیا۔ کہ ان کے ویزے ختم ہونے والے ہیں ان کو واپس سعودیہ جانا ہے یہاں پر رش اتنا ہے کہ دو دن سے باری نہیں آرہی۔اس کے جواب میں پولیس کی بھاری نفری بلا لی گئی۔ ـ‘‘
سچ تو یہ ہے کہ پاکستانی سرکاری اہل کار اپنے بھائی بہنوں سے مٹھی گرم کرنے کا کوئی موقع نہیں جانے دیتے۔ذرا کسی کو ان سے کوئی کام تو پڑے۔ اوور سیز پاکستانیوں پر تو خاص نظر کرم پڑتی ہے کیونکہ ان حضرات کے پاس عام پاکستانی شہری کی نسبت زیادہ کیش ہوتا ہے اور اکثر زر مبادلہ کی صورت میں۔اہل کاروں کو معلوم ہوتا ہے کہ بیرون ملک رہنے والے زیادہ سے زیادہ ایک مہینے کے لیے پاکستان آتے ہیں، اور پھر انہیں ہر صورت واپس جانا ہوتا ہے۔ اس لیے یہ مہربان ان کی جائداد سے متعلق، مقدمات سے متعلق، اور کاغذی کاروائی پر کم از کم ڈیڑھ مہینے کی تاریخ دیتے ہیں۔ یا پھر کام کو جلدی کروانے کے لیے بڑی بڑی رقمیں ان مہربان اہل کاروں کو چڑھائی جائیں۔ ان بے چارے اوور سیزوں کو چارو ناچار لاکھوں روپے دیکر کام کروانا آسان لگتا ہے بہ نسبت چھٹی کو بڑھانے کے۔ ہم ذاتی طور پر ایک مہربان کو جانتے ہیں جو بڑے دیندار اور اصول کے تابع ہیں۔ کہتے ہیں کہ رشوت کبھی نہیں دوں گا۔ وہ چونکہ استاد رہ چکے ہیں اور اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں، چاہتے ہیں کہ اثر و رسوخ سے کام ہو جائے۔ پاکستان میں انکی موروثی جائداد پر قبضہ لینے اور فروخت کر کے حقداروں کو ان کا حصہ دینا ہے، جس کے لیے وہ تین سال چکر لگاتے رہے ہیں۔ ہر سال کئی مہینے دفاتر کے چکر مار مار کر ، دیواروں سے سر پھوڑ کر، وعدٔہ فردا پر واپس آ جاتے ہیں ۔ اس سال میں نے استفسار کیا کہ پھر جائیں گے؟ کہنے لگے کہ دو پولیس کے اعلیٰ افسران نے وعدہ کیا ہے کہ کہ وہ کام کروا دیں گے۔ اس لیے اس انتظار ہیں بیٹھا ہوں۔ یہ دوست ستر برس کے اوپر ہیں، لیکن صحت مند ہیں اور سفر کرنے کے قابل ہیں، لیکن اس نا چیز کو ان کی خوش فہمی پر ترس آتا ہے۔اگر ان بزرگوں نے چند لاکھ دے دیئے ہوتے تو اس قدر مصائب نہ جھیلتے، اور نہ پاکستان آنے جانے کا خرچ ہوتا۔ لیکن ایمانداری اور اصول بھی تو کوئی چیز ہے؟ حالانکہ پاکستانی مذہبی قائدین نے فتویٰ دے رکھا ہے کہ رشوت دے کر کام کروانے کا گناہ دینے والے پر نہیں، لینے والے پر ہے۔ لیکن وہ رشوت دینے اور لینے والوں، دونوں کو لعنتی جانتے ہیں۔اور جہنمی۔ سچ تو یہ ہے کہ اللہ کا فرمان بھی یہی ہے ۔
اوور سیز پاکستانیوں کا ایک مطالبہ تھا کہ انہیں پاکستان کے انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت دی جائے۔پاکستانی سپریم کورٹ اور قانون ساز اسمبلی نے ان پاکستانیوں کو ووٹ دینے کی اجازت دے دی ہے۔ مگر کہاں؟ اگر وہ ووٹنگ والے دن پاکستان میں موجود ہوں تو وہ ووٹ ڈال سکیں گے۔ لیکن اگر وہ بیرون ملک سے ووٹ ڈالنا چاہیں تو ؟ ایک سیاسی جماعت جس کو ڈر ہے کہ وہ بیرون ملک پاکستانیوں میں مقبول نہیں رہی، اس کا کہنا ہے کہ ان پاکستانیوں کو اپنے ملک اور اپنے حلقہ کے مسائل کا کیا پتہ؟ وہ کس بنیاد پر ووٹ دیں گے؟ اصل میں ان کو ڈر ہے کہ ایسے ووٹ موجودہ حکومت کو پڑیں گے۔آج ہی کے اخبار اردو ٹائمز میں چھپنے والی خبر ملاحظہ فرمایئے: ’’ اوورسیز پاکستانیوں سے متعلق اسی اشاعت میں ، صفحہ اول پر چھپنے والی خبر کے مطابق، امریکہ میں مقیم پاکستانیوں نے، ایک جائزے کے مطابق ، شہباز شریف کے اوور سیز پاکستانیوں کے لیے مخصوص نشستوں کے فارمولا کو مسترد کرتے ہوئے مطا لبہ کیا ہے کہ ووٹ کا حق دیا جائے نہ کہ مخصوص نشستوں کے ذریعے من پسند افراد کو نواز کر کرپشن کا ایک نیا ایونیو سامنے لایا جائے۔ ان پاکستانیوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ پاکستان کا موجودہ نظام سرمایہ داروں اور جاگیر داروں کو تحفظ فراہم کرتا ہے، اس کو تبدیل کر کے ایسا نظام لایا جائے جس میں مڈل کلاس سے لیکر نچلے طبقہ کے لیے بھی آگے بڑھنے کے مواقع موجود ہوں۔‘‘
اگر پاکستانی چاہیں کہ اوور سیز پاکستانی اپنا حق ووٹ استعمال کریں تو یہ ضروری نہیں کہ وہ صرف پاکستان جا کر ہی یہ کرسکیں۔اب اگر نادرا شناختی کارڈ آن لائن بنا سکتی ہے، نیا پاسپورٹ بنا سکتی ہے یا اس کی تجدید کر سکتی ہے، تو ووٹ دینے کی سہولت کیوں نہیں دے سکتی؟ شناختی کارڈ پر تصدیق شدہ کوائف درج ہوتے ہیں جن میں پورا نام، ولدیت یا شوہر کا نام، عمر، پاکستان کا پتہ ، سب کچھ درج ہوتا ہے۔ یعنی وہ سب جو کہ الیکشن کی ووٹر لسٹ میں ہوتا ہے۔ اگر نادرا کے پاس ووٹر لسٹ ریکارڈ میں موجود ہو تو پاکستانی دنیا میں کہیں بھی ہو ، وہاں سے اپنے کمپیوٹر یا فون سے اپنا حق رائے دہی استعمال کر سکتا ہیْ ۔ اس چیز کی افادیت کا تجربہ کرنا ہو تو حکومت ایک یا زیادہ رائے عامہ کے سوال ، نادرا کے ذریعہ بیرون ملک پاکستانیوں سے کرے اور ایک دن اور وقت مقررہ پر لوگوں کو ووٹ ڈالنے کا اہتمام کرے۔ اس سے پتہ چل جائے گا کہ یہ سسٹم کتنا کامیاب ہے، اور اس کے استعمال میں کیا مسائل پیش آ سکتے ہیں؟ اس ناچیز کا خیال ہے کہ جن اوور سیز پاکستانیوں کے پاس نادرا کارڈ ہیں، ان میں سے پچاس سے ستر فیصد تک اس قسم کی رائے شماری میں حصہ لیکر اپنا حق انتخاب استعمال کر یں گے۔اگر حکومت ملک میں ووٹنگ کی بجلی کی مشینیں استعمال کر سکتی ہے تو آن لائن ووٹنگ کا حق کیوں نہیں دے سکتی؟
راقم نے جب اپنے نادرا کارڈ کی تجدید کروائی تو اس میں ہر قسم کے سرٹیفیکیٹ، تازہ ترین تصویر اور انگلیوں کے نشان تک کمپیوٹر پر اپ لوڈ کئے یعنی ڈالے۔اس سے بڑھ کر اور کیا سہولت چاہیے۔ البتہ بڑے شہروں میں جہاں پاکستان کے زیادہ اوور سیز زشہری رہتے ہیں اور جہاں قونصلیٹ بھی ہیں، ان میں بھی ایسی سہولت دی جا سکتی ہے کہ لوگ وہاں جا کر بنفس نفیس اپنا حق رائے دہی استعمال کر سکیں۔ وہاں ایسے لوگوں کو بھی موقع مل جائے گا جو خود کمپیوٹر یا فون پر اپنے کوائف کا اندراج کر کے ووٹ نہیں ڈال سکتے؟ نادرا کارڈ کی مدد سے لوگ اپنے حلقہ کے امیدوار کا ووٹ ڈال سکیں گے۔ اس میں کیا شک ہے کہ ہر پاکستانی کا اپنے علاقہ میں مقیم رشتہ داروں اور دوستوں کے ساتھ رابطہ رہتا ہے جو انہیں علاقے کے حالات سے با خبر رکھتے ہیں۔وہاں کے حالات جاننے کے لیے وہاں جانا ضروری نہیں۔پاکستانی اخبار اور ٹی وی چینل علیحدہ با خبر رکھتے ہیں۔۔ ان کا وہاں ہونا ضروری نہیں۔اگر اس عمل میں دھوکہ بازی اور فراڈ کا امکان ہوتا تو نادرا کیسے اس پر شناختی کارڈ اور پاسپورٹ جیسی دستاویزات کا اجرا ء کرتی؟
پاکستان کے وہ سیاستدان جن کی ہار جیت کا تعین فراڈ، جھوٹ، اور ووٹوں کی ہیرا پھیری پر مبنی ہوتا ہے، وہ اس طریقۂ انتخاب کی ضرور مخالفت کریں گے۔اور اگر مان بھی گئے تو ووٹوں کے صحیح اندراج میں اثر انداز ہونے کی کوشش کریں گے۔ لیکن اس بات کا امکان کم ہے اور پاکستان سے توکہیں کم۔ دنیا میں جہاں کہیں پاکستانی رہتے ہیں، اکثر جگہوں پر سیاسی پارٹیوں کے نمائیندگان بھی ہوتے ہیں جو اپنی پارٹیوں کے قائدین کے لیے جلسوں کا انتظام کرتے ہیں اور ان کے حق میں باقاعدہ مہم سازی بھی۔ ابھی تین سال پہلے جب عمران خان امریکہ آئے تو ٹیکساس میں ۲۵ ہزار کا جم غفیر ان کی تقریر سننے اکٹھا ہو گیا تھا ۔ اس لیے یہ عین ممکن ہے کہ اگر بیرون ملک پاکستانیوں کو انتخاب کا موقع مل گیا تو سیاسی قائدین اسی بہانے غیر ملکوں کی سیر پر نکل پڑیں گے اور جا کر اپنی اور پارٹی کی اشتہار بازی بھی کرسکیں گے۔