آج کی پیپلزپارٹی اور کل کی مسلم لیگ ن کا ماضی و حال!!

255

اگر بھٹو اور شریف خاندان کے ماضی اور حال کا موازنہ کیا جائے تو اس میں زیادہ فرق نہیں نظر آتا ہے ماسوائے کہ بھٹو خاندان کے چاروں افراد قتل کر دئیے گئے جبکہ شریف خاندان کے افراد کو بار باراقتدار سے محروم اور جلاوطن کیا گیا یا مجبور کیا گیا ہے۔ بھٹو خاندان کے پہلے فرد زیڈ اے بھٹو نے اپنی سیاست کا آغاز پاکستان کے آخری گورنر جنرل اور پہلے صدر سابقہ بیوروکریٹ میجر جنرل سکندر مرزا کے ساتھ کیا ۔بعدازاں جنرل ایوب خان نے سکندر مرزا کو ملک بدر کر کے پورے ملک پر قبضہ کر لیا جو اس وقت صدر سکندر مرزا کے وزیر دفاع ڈپٹی وزیراعظم اور فوجوں کے کمانڈر انچیف تھے۔ چنانچہ سکندر مرزا نے جلاوطنی پر اپنی وصیت پر زیڈ اے بھٹو کو جنرل ایوب خان کے حوالے کیا جنہوں نے جنر ل ایوب خان بانی مارشل لاء اور آئین منسوخ حکومت میں وزارت اور مشاورت اختیار کی تھی جو جنرل ایوب خان کی مسلم لیگ کنونشن کے سیکرٹری جنرل بنا دئیے گئے۔ جنرل ایوب خان کے قریبی پالیسی میکر اور وزیر خارجہ تھے۔ آخر کار زیڈ اے بھٹو کے معاہدہ تاشقند پر اختلاف بڑھ گئے جنہوں نے معاہدہ تاشقند کے رازوں پر اپنی سیاست کا آغاز کیا جس کی آڑ میں اپنی پارٹی پیپلزپارٹی بنائی جس کے تحت ایوب خان کے خلاف پاکستان بھر میں مختلف تحریکوں کے اتحادی بن گئے جس میں بنگال سے شیخ مجیب الرحمن، ولی خان، نواب زادہ نصراللہ خان، مزدور اور طالب علم رہنما بھی شامل تھے۔ جب 1970ء کے انتخابات ہوئے تو پاکستان میں مشرقی پاکستان میں شیخ مجیب، صوبہ پنجاب میں کلی اور صوبہ سندھ میں جزوی طور پر بھٹو صاحب کامیاب ہوئے جبکہ صوبہ پختونخوا(NWF)اور بلوچستان میں نیشنل عوامی پارٹی اور جمعیت علمائے اسلام جیتی تھی مگر جنرل یحییٰ خان نے اکثریتی پارٹی کو اقتدار دینے سے انکار کرتے ہوئے پاکستان توڑنے کا سہرا اپنے سر لے لیا جس میں بھٹو صاحب نے بھی عوامی لیگ کے ڈھاکہ اجلاس میں شرکت نہ کر کے اور جنرل یحییٰ خان کا ڈپٹی وزیراعظم کا عہدہ حاصل کرکے بنگال کو الگ کرنے کا الزام اپنے اوپر لیا تھا بعدازاں بھٹو مرحوم بچے کھچے پاکستان کے صدر اور پہلے وزیراعظم بنے جنہوں نے طویل عرصے تک ملک پر ایمرجنسی،ڈی پی آر اور دفعہ 144نافذ رکھی۔ نیشنل عوامی پارٹی پر پابندی عائد کی گئی۔ سیاسی کارکنوں، سیاستدانوں، مزدوروں اور رہنمائوں سے جیلیں آباد رکھی گئی مگر جب بھٹو مرحوم نے ملک میں نئے انتخابات کا اعلان کیا تو پاکستان فوجی اسٹیبلشمنٹ بھٹو مخالف کھل کر سامنے آگئی جنہوں نے بین الاقوامی سامراجی طاقتوں پر بھٹو مخالف تحریک قومی اتحاد میں حصہ لیا۔ بھٹو کے اقتدار پر پانچ جولائی 1977کو قبضہ کیا۔ آئین پاکستان کو پامال اور معطل کر کے اپنا فوجی قانون نافذ کیا گیا جس کے خلاف زیڈ اے بھٹو کھڑے ہو گئے جن کو جنرل ضیاء الحق نے ایک قتل کے جھوٹے مقدمے میں پھانسی دلوا ی ہے جس کے بعد بھٹو ملک کے دوسرے شہید وزیراعظم کہلائے جنہوں نے آئین پاکستان کے بچائو کے لئے اپنی جان کی قربانی دے دی جس کے خلاف ملک بھر میں تحریک نے جنم لیا جو ایم آر ڈی کی شکل میں جنرل ضیاء الحق کے خلاف گیارہ سال تک چلتی رہی جس میں سیاستدانوں اور سیاسی کارکنوں سے جیلیں بھری رہیں۔ آخرکار جب جنرل ضیاء الحق طیارہ حادثہ میں جاں بحق ہوئے تو پاکستان میں سویلین دور کا آغاز ہوا جس میں دس سال تک نواز اور بے نظیر کی حکومتیں بنتی اور ٹوٹتی رہیں جو ایک دوسرے کے خلاف اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھوں مختلف سازشوں میں استعمال ہوتے رہے جنہوں نے آخر کار میثاق جمہوریت پر دستخط کئے۔ ملک میں جنرل مشرف وکلاء تحریک کی بدولت کمزور پڑے جو بعدازاں ملک چھوڑ کر بھاگ گئے۔ اسی دوران بے نظیر بھٹو کو قتل کر دیا گیا جو پاکستان کا بہت بڑا قومی سانحہ تھا جس کی پاداش میں پی پی پی پانچویں مرتبہ اقتدار میں آئی، اب فرق یہ تھا کہ پہلے بھٹو اور بے نظیر بھٹو پی پی کی وزیراعظم بنی تھیں اب پی پی پی کے سربراہ زرداری صدر بنے۔ صدر زرداری نے جمہوری قوتوں کی بجائے غیر جمہوری طاقتوں کے اشارے پر بھٹو کو پھانسی دینے والے ضیاء الحق کے قلم کے امین اور جنرل مشرف کے اتحادی اورحامی چودھری برادران کے ساتھ ایک ایسا حکومتی معاہدہ کیا جو پی پی پی کے کارکنوں پر ناگوار گزار۔ مزید برآں پی پی پی نے جنرلوں کے پیدا کردہ وٹو جیسے لوگوں کو بھرتی کیا۔ پنجاب کا وزیراعلیٰ بنا دیا جس سے پی پی پی پنجاب سے صاف ہو گئی یہ حال پختونخوا اور بلوچستان میں ہوا جس میں عوامی نیشنل پارٹی بھی بری طرح متاثر ہوئی جو زرداری کی حکومت میں شامل تھی جس کی وجہ سے دونوں پارٹیوں کو تین صوبوں میں کوئی مقام نہیں مل رہا ہے حالانکہ پی پی پی گزشتہ پچاس برسوں سے سندھ میں اکثریت میں چلی آرہی ہے جس میں بسا اوقات ایم کیوایم کی اتحادی بھی رہی ہے۔ صدر زرداری نے کئی مرتبہ اسٹیبلشمنٹ کے اشارے پر بلوچستان میں عوامی حکومت کا خاتمہ کیا جو مسلم لیگ (ن) اور بلوچستان عوامی پارٹی کے قوم پرستوں پر مشتمل تھی۔ پھر اسٹیبلشمنٹ کے مہرے صادق سنجرانی کو سینیٹ کا چیئرمین منتخب کرایا۔ جب صادق سنجرانی کے خلاف عدم اعتماد کا ووٹ لایا گیا تو اپوزیشن کے چودہ ممبران نے صادق سنجرانی کو ووٹ دئیے۔ جب صادق سنجرانی دوبارہ سینیٹ کے چیئرمین کے امیدوار بنے تو پی پی پی کے سات ووٹوں نے مدمقابل امیدوار یوسف رضا گیلانی کے نام پر مہر لگا کر اپنے ووٹ خراب کر ڈالے جس کی وجہ سے صادق سنجرانی جیت گئے وغیرہ وغیرہ رہا ہے برعکس بلاشبہ شریف خاندان کے سربراہ نواز شریف نے بھی جنرل ضیاء الحق کا ساتھ دیا۔ ان کی حکومت کے صوبائی وزیر رہے۔ ضیائی مارشل لاء کے ہر اول دستہ ثابت ہوئے۔ بے نظیر کے خلاف سازشوں میں ملوث رہے۔ جن کا آخر کار پاکستان کے اصل طاقتور ادارے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ جھگڑا ہو گیا جس میں پہلے صدر غلام اسحاق پھر جنرل کاکڑ، جنرل جنجوعہ، جنرل کرامت، جنرل مشرف کے ساتھ ٹکرائو رہا جس کی وجہ سے انہیں تین بار اقتدار سے ہٹایا گیا، پٹھو عدالت نے پہلے سزائے موت، پھر عمر قید اور بعدازاں ملک بدر کیا گیا مگر جو آج بھی جلاوطنی کی زندگی بسر کررہے ہیں جنہوں نے آج آئین کا دامن تھام لیا ہے جو ملک میں حقیقی جمہوریت، قانون کی حکمرانی چاہتے ہیں جن کا بیانیہ ملک میں ووٹ کو عزت دو ہے جس کی وجہ سے نواز شریف کا پورا خاندان جیلوں کی زینت بنا ہوا ہے۔
علاوہ ازیں وہ آج تک تین مرتبہ وزیراعظم منتخب ہونے کے باوجود کبھی غلام اسحاق، کبھی جنرل مشرف، کبھی چیف جسٹس ثاقب نثار کے ہاتھوں اقتدار سے محروم کر دئیے گئے جو آج لندن میں جان بچانے کے لئے پناہ گزین ہیں۔ بہرحال کل کی پی پی پی اور آج کی مسلم لیگ (ن) کے ماضی اور حال پر نظر دوڑائیں تو دونوں کا مستقبل ایک جیسا نظر آتا ہے جو ظاہراً بائیں بازو اور دائیں بازو کا نعرہ لگاتی ہیں مگر کام اسٹیبلشمنٹ کے کرتی چلی آرہی ہیں دونوں خاندانوں کے سربراہوں نے اسٹیبلشمنٹ کے خلاف بغاوت کی ہے جس میں بھٹو اور نواز نے سنت موسیٰ پر عمل کیا ہے۔ مگر پاکستان میں ایک مضبوط ترین اسٹیبلشمنٹ کی وجہ سے دونوں ناکام ہورہی ہیں جو آخر کار دونوں طاقتور اداروں کی آشیر باد حاصل کرنے کی دوڑ میں پی پی پی کلی طور پر اسٹیبلشمنٹ کی بی ٹیم کا خواب دیکھ رہی ہے جبکہ مسلم لیگ(ن) جزوی طور پر کیونکہ مسلم لیگ(ن) میں نواز شریف، مریم نواز، پرویزرشید، خاقان عباسی، جاوید ہاشمی اور دوسرے حضرات اسٹیبلشمنٹ کے خلاف کھل کر آچکے ہیں جبکہ نواز شریف کے بھائی شہباز شریف حضرت یوسف ؑ کے بھائیوں کا کردار ادا کررہے ہیں جن کے ساتھ وہ لوگ شامل ہیں جن کے ملک میں بڑے بڑے کاروبار ہیں جو جمہوریت کی بجائے اپنی اپنی دولت بچانے میں مصروف ہیں اب دیکھنا ہو گا کون جیتے گا یہ اب وقت بتائے گا۔