امریکی فوج رات کے اندھیرے میں افغانستان سے چپکے سے چھپ چھپاکر چلی گئی !!

243

بڑے بے آبرو ہو کر تیرے کوچے سے ہم نکلے!پوری دنیا ورطہ حیرت میں ڈوب گئی جب اس بات کا انکشاف ہوا کہ دنیا کی سب سے بڑی سپرپاور راتوں رات خفیہ طریقے سے تمام بتیاں بجھا کر بگرام کے ایئرپورٹ اور شہر کو چھوڑ کر امریکہ چلی گئی، وہ ایئربیس جو امریکیوں نے بیس سالوں میں تیارکی تھی اور وہ اڈہ کس قدر وسیع و عریض تھا اس کا اندازہ آپ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ وہاں پر قائم جیل میں پانچ ہزار قیدی رکھے جا سکتے ہیں۔ پورا قاغزستان وہاں سے کنٹرول کیا جاتا تھا۔ صدر بش، صدر اوباما اور صدر ٹرمپ گزشتہ بیس سالوں میں بارہا بگرام میں تھینکس گونگ ڈے کا ڈنر کرنے وہاں جاتے رہے ۔وہاں پر مقیم افغان فوج کے جنرل اسد اللہ کوہستانی بھی اس بات سے ناواقف رہا اور امریکیوں نے اس کو بھی اس فیصلے سے آگاہ نہیں کیا جب رات تین بجے وہ تمام لائٹیں بجھا کر اڈہ چھوڑ گئے ۔اب ہمیں نہیں علم کہ آیاانہوں نے ایسا پلان کے مطابق سکیورٹی کے حوالے سے کیا یا پھر دہشت اور شرمندگی سے بچنے کیلئے کیا تھا۔ لیکن صدر بائیڈن نے تو اعلان کیا تھا کہ امریکی فوجیں گیارہ ستمبر کو افغانستان چھوڑیں گی؟ افغان حکام کو اس خفیہ روانگی کا علم اس وقت ہوا جب مقامی ڈاکو اور لٹیرے بگرام بیس میں لوٹ مار کررہے تھے اور لوگوں نے افغان حکام کو اطلاع دی کہ وہاں کیا ہورہا ہے۔ دو دن بعد افغان حکام نے میڈیا کو اس فوجی اڈے کا دورہ کرایا گیا جبکہ امریکی حکام نے افواہوں کے بعد اعلان کیا تھا کہ جمعے کے روز امریکی افواج نے بگرام کو چھوڑ دیا ہے۔ بقول ایک افغان فوجی کے ایک رات میں انہوں نے بیس سال کا تعلق توڑ دیا۔ یاد رہے کہ بگرام کے ہوائی اڈے پر دو رن وے موجود ہیں اور سو طیاروں کی پارکنگ کی گنجائش ہے، وہاں ایک پچاس بستروں کا ہسپتال بھی موجود تھا۔ افغان جنرل کوہستانی نے میڈیا کو بتایا کہ یہاں امریکی 35 لاکھ اشیاء چھوڑ کر گئے ہیں جن میں بکتر بند گاڑیوں کے علاوہ سویلین گاڑیاں بھی شامل ہیں جبکہ اسلحہ بارود کے ذخائر کو وہ آگ لگاگئے۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ امریکی تاریخ کی یہ پہلی جنگ ہے جو طویل ترین دورانیے کی ثابت ہوئی ہے جس میں ویت نام کی جنگ سے بھی زیادہ امریکی فوجی مارے گئے ہیں اور معذور ہوئے ہیں۔2001ء میں شروع ہونے والی یہ ناکام جنگ 2021ء میں اپنے اختتام کو پہنچی۔ اس ناکام جنگ میں پاکستان کو بھی نہ صرف زبردست معاشی دھچکا لگا بلکہ ستتر ہزار سے زائد انسانی جانوں کی بھی قربانی دہشتگردانہ کارروائیوں کے باعث جھیلنا پڑی۔ یہ بات قابل غور ہے کہ آج سے بیس سال پہلے ہی موجودہ پاکستانی وزیراعظم عمران خان نے واضح طور پر کہہ دیا تھا کہ افغان مسئلے کا کوئی فوجی حل موجود نہیں ہے اور طالبان کیساتھ مذاکرات کرنا پڑیں گے۔ ان کی اس بات پر اس اس وقت مغربی میڈیا نے عمران خان کو طالبان خان کا خطاب دیا تھا لیکن تاریخ نے ثابت کیا کہ وہ بالکل درست تھے اور اس کو ہی وژن کہا جاتا ہے جو ان کو دوسرے لیڈروں سے نمایاں کرتا ہے۔ ایک اور بات جو اس خفیہ انخلاء سے واضح ہو جاتی ہے اوپر والے کے پاس دیر ہے مگر اندھیر نہیں اور جب ظلم حد تک بڑھ جاتا ہے تو ظالم کا انجام وہ اس دنیا میں ہی دکھا دیتا ہے۔ اپنے آپ کو زمین کا خدا سمجھنے والوں کا خود زمین پر منہ اوندھا ہوا ہے۔ امریکہ اور امریکی عوام بہت ہی مخلص، معصوم اور سادہ ہیں کاش کہ امریکی ایڈمنسٹریشن کی پالیسیاں بھی انسان پرستانہ ہوتیں تو گزشتہ بیس سالوں میںجو نہ صرف پوری دنیا میں لاکھوں جانیں ضائع ہوئیں بلکہ بے شمار امریکی افواج کے جوان بھی اپنی جانوں سے ہاتھ گنوا بیٹھے نہ ہوتیں! جو بہت افسوسناک ہے۔ ہمارے ان امریکی جوانوں کی اموات کا براہ راست ذمہ دار کون ہے؟