حیرت ہے پاکستان کی سب سے بڑی یونیورسٹی ،جامعہ کراچی سنگین بحران کا شکار ہے

239

ملک کی سب سے بڑی جامعہ، جامعہ کراچی اس وقت سنگین بحران کا شکار ہے۔ دو سال سے زائد کا عرصہ گزر جانے کے باوجود جامعہ کراچی میں مستقل وائس چانسلر کا تقرر نہ ہوسکا، جس کے باعث غیر یقینی اور بے اطمینانی نظر آتی ہے۔ تعلیم کی وفاق سے صوبوںکو منتقلی کے بعد سے جامعات کے حوالے سے قانون سازی بھی ابہام کا شکار ہے۔ ایک جانب جامعات کا کنٹرول صوبوں کو دے دیا گیا ہے، دوسری جانب جامعات کے مالیاتی معاملات کا زیادہ تر کنٹرول و گرانٹس ابھی تک وفاق کے پاس ہیں، جس کے باعث جامعہ کراچی صوبے کے کنٹرول میں ہونے کے باوجود وفاق کی گرانٹ پر انحصار کرتی ہے۔ چند سال سے جامعہ کراچی کی مالی صورتِ حال انتہائی سنگین ہے، اور گرانٹس میں کٹوتی کے باعث اب صورتِ حال کچھ یوں ہے کہ جامعہ کے بجٹ کا تقریباً 30 فی صد حصہ گرانٹ پر مشتمل ہے جبکہ 70 فی صد وسائل وہ خود پیدا کررہی ہے، جس میں سب سے بڑا ذریعہ فیس ہے۔ سالِ گزشتہ جامعہ کراچی نے اپنے وسائل کو بڑھانے کے لیے فیسوں میں 50 تا 300 فی صد اضافہ کیا جو جامعہ کی تاریخ کا ریکارڈ اضافہ ہے۔ جامعہ کی مالی مشکلات کا براہِ راست اثر اب زیر تعلیم طلبہ اور تدریسی سہولتوں پر بھی پڑ رہا ہے۔ فیسوں میں اضافے اور سیلف فنانس کی بنیاد پر لامحدود داخلوں نے جامعہ کراچی کے تدریسی نظام کو تباہ کرکے رکھ دیا ہے، کہ جہاں پیسے کی بنیاد پر نہ صرف میرٹ کی صریح خلاف ورزی ہورہی ہے بلکہ محدود وسائل میں لاتعداد طلبہ کو داخلے دینے سے تدریسی معیار بھی روبہ زوال ہے۔ دوسری طرف اگر فیس میں اضافہ اسی طرح ہوتا رہا تو کتنے ہی والدین اپنے بچوں کو تعلیم نہیں دلا سکیں گے، کیونکہ پہلے ہی دو وقت کی روٹی ان کے لیے مشکل ہوتی جارہی ہے۔ اسی طرح مالی بدعنوانیوں کی داستان تو رہی ایک طرف… علمی مقام و تاریخ رکھنے والی جامعہ کراچی اب علمی کرپشن کی زد میں بھی ہے۔ پہلے چربہ سازی، جعل سازی سے تحقیقی مقالے پرچے چھپوانے کی خبریں اخبارات کی زینت بن چکی ہیں کہ کیسے پرانی تاریخوں میں مقالہ جات پرچوں کو چھپوایا جاتا ہے۔ اسی طرح ایک طرف نادیہ اشرف نامی طالبہ کو 8 سال بعد پی ایچ ڈی کے داخلے میں توسیع نہیں ملتی اور وہ خودکشی کرلیتی ہے، تو دوسری جانب بااثر شخصیت، وائس چانسلر کی قربت کے باعث 24 سال بعد بھی تمام قواعد وضوابط کو بالائے طاق رکھ کر پی ایچ ڈی کی ڈگری کی اہل قرار پاتی ہے۔ تجربہ گاہوں میں کیمیکل و دیگر سہولتوں کا نہ ہونا، طلبہ کی آمدو رفت کو نجی شعبے کے حوالے کرنا، اور اب جامعہ کراچی کو سہولتوں کی فراہمی کے نام پر نجی شعبے کے حوالے بتدریج کرنا اس وقت سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ نجی تعلیمی ادارے سرکاری جامعات کا نعم البدل ہرگز نہیں ہیں۔ سرکاری جامعات کی حالت اور نظام درست کرنے کی ضرورت ہے۔ جامعات کو کاروبار بنانا اور اس کے لیے سرکاری دبائو نہ صرف جامعہ کراچی کو تباہ کررہا ہے بلکہ معاشرے کے غریب و متوسط طبقے سے تعلیم کا حق چھین کر ان کو مزید اندھیروں میں بھی دھکیل رہا ہے۔ اس ضمن میں یہ بھی عرض ہے کہ یہ صرف ایک جامعہ کا ہی معاملہ نہیں، کمرشلائزیشن کی وبا ہر جگہ تیزی سے پھیل رہی ہے، اور جان بوجھ کر اس پورے تعلیمی نظام کو بتدریج نجی شعبے کے حوالے کیا جارہا ہے، اور وہاں صورتِ حال یہ ہے کہ بڑی تعداد میں یونیورسٹیاں اور کالج پرائیویٹ سیکٹر میں کھل چکے ہیں، لیکن ان میں سے بیش تر کا مقصد لوٹ مار کے سوا کچھ نہیں ہے۔ نجی شعبے میں معدودے چند کے سوا علم و تعلیم کی کوئی اہمیت نہیں ہے، یہ صرف اور صرف پیسہ کمانے اور بنانے کی ’’فیکٹریاں‘‘ ہیں۔ کسی زمانے میں میڈیکل اور انجینئرنگ کالجوں میں داخلہ بہت بڑا اعزاز سمجھا جاتا تھا، لیکن اب تھرڈ ڈویڑن کے ساتھ بھی پرائیویٹ کالج اور چار چھ سو گز پر قائم جامعات میں داخلہ لیا جاسکتا ہے۔ صاف بات ہے کہ پیسے کے بل بوتے پرداخلہ حاصل کرنے والے ملک و قوم کو کیا دیں گے! ہائر ایجوکیشن کمیشن کو بھی اپنے وجود کو ثابت کرنا ہوگا کہ اس پر اعلیٰ تعلیم کے فروغ اور جامعات کے معاملات کو ٹھیک رکھنے کی ذمے داری عائد ہوتی ہے۔ پرائیویٹ سیکٹر کی طرح اب جامعات اور بالخصوص جامعہ کراچی نے متوسط طبقے کے طلبہ پر جو مالی بوجھ ڈالنا شروع کیا ہے وہ قطعی قابل قبول نہیں ہے۔ اس سلسلے میں وفاق اور صوبوں کو بھی ایک دوسرے پر الزام تراشی کے بجائے مسائل حل کرنے میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا، اور جامعات کو وسائل فراہم کرنے کے ساتھ ان میں ہونے والی بدانتظامیوں کو بھی دیکھنا ہوگا۔ جامعات علم پیدا کرنے اور شعور بانٹنے کے ادارے ہیں۔ ایک صحت مند معاشرے کی تشکیل میں جامعات کا کردار کلیدی ہے۔ جس معاشرے میں یہ کردار اپنے تقاضوں کے مطابق پورا ہوتا ہے وہاں علمی، سماجی، سیاسی اور شعوری طور پر ترقی کا سفر تیزی سے طے ہوتا ہے۔ جامعات اعلیٰ تعلیم کے وہ ادارے ہیں جو ریاست کی براہِ راست ذمے داری ہیں، لیکن ہمارے یہاں یہ ادارے جو وطنِ عزیز کی بقا کے ضامن ہیں اب خود ان کی بقا کا سوال پیدا ہوگیا ہے۔ جامعہ کراچی نے معاشرے کو سیاسی،سماجی اور علمی سطح پر بڑے لوگ دیئے ہیں۔ اس کی روز افزوں تنزلی کو روکنے کے لیے حکومت، ارباب ِحل وعقد اور دانشوروں کو سر جوڑ کر بیٹھنے کی ضرورت ہے۔