بلتستان میں چند روز!!

240

زندگی میں حسرت تھی کہ کبھی پاکستان کا شمالی علاقے دیکھ سکوں۔رب نے یہ خواہش بھی پوری کر دی۔ سکردو اور شگر کا پورا ضلع کے ۔ پہلے 1848ء میں کشمیر کے ڈوگرہ سکھ راجا نے ان علاقوں پر بزور قبضہ کر لیا اور جب پاکستان آزاد ہوا تو اس وقت یہ علاقہ کشمیر کے زیرِ نگیں تھا۔ 1948ء میں اس علاقے کے لوگوں نے خود لڑ کر آزادی حاصل کی اور اپنی مرضی سے پاکستان میں شمولیت اختیار کی۔ شمالی علاقہ جات کہا جاتا لیکن زرداری کی حکومت نے اس خطے کو نیم صوبائی اختیارات دیے اگرچہ یہاں کے لوگ مکمل صوبائی حیثیت چاہتے ہیں۔ یہ پاکستان کا واحد خطہ ہے جس کی سرحدیں تین ملکوں سے ملتی ہیں نیز پاکستان پڑوسی ملک بھارت سے تین جنگیں 48 کی جنگ ،کارگل جنگ اور سیاچین جنگ اسی خطے میں لڑا ہے جبکہ سن 71 کی جنگ میں اس کے کچھ سرحدی علاقوں میں جھڑپیں ہوئیں جس میں کئی پاکستانی دیہات بھارتی قبضے میں چلے گئے اس وجہ سے یہ علاقہ دفاعی طور پر ایک اہم علاقہ ہے نیز یہیں سے تاریخی شاہراہ ریشم گزرتی ہے۔ 2009ء میں اس علاقے کو آزاد حیثیت دے کر پہلی دفعہ یہاں انتخابات کروائے گئے۔ جس کے نتیجے میں پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے سید مہدی شاہ پہلے وزیر اعلیٰ منتخب ہوئے۔ اس خطے میں سات ہزار میٹر سے بلند 50 چوٹیاں واقع ہیں۔ دنیا کے تین بلند ترین اور دشوار گزار پہاڑی سلسلے قراقرم،ہمالیہ اور ہندوکش یہاں آکر ملتے ہیں۔ دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی کے ٹو بھی اسی خطے میں واقع ہے۔ جب کہ دنیا کے تین سب سے بڑے گلیشئیر بھی اسی خطے میں واقع ہیں۔ چینی سیاح جب اس علاقے میں داخل ہوا تو یہاں پلولا نامی ریاست قائم تھی جو پورے گلگت بلتستان پرپھیلی ہوئی تھی۔مقپون خاندان کے راجاؤں نے بلتستان سمیت لداخ،گلگت اور چترال تک کے علاقوں پر حکومت کی جسے ڈوگرہ افواج نے ایک ناکام بغاوت میں 1840ء میں قتل کر ڈالا پھر 1947ء میں بر صغیر کے دوسرے مسلمانوں کی طرح یہاں بھی آزادی کی شمع جلنے لگی۔ بلتستان کا تقریباً تمام علاقہ پہاڑی ہے جس کی اوسط اونچائی گیارہ ہزار فٹ ہے۔ لداخ بھی قدیم تاریخ سے بلتستان کا حصہ رہا ہے جو آج کل بھارت، چین اور پاکستان میں تقسیم ہو چکا ہے۔ گلگت و ہنزہ بھی تاریخ کے مختلف ادوار میں بلتستان سے ملحق رہے ہیں۔ بلتستان کی غالب اکثریت شیعہ مسلمانوں پر مشتمل ہے جبکہ ایک بڑی تعداد میں نوربخشی مسلمان بھی آباد ہیں۔ سکردو بلتستان کا سب سے بڑا شہر اور دار الخلافہ ہے۔
بلتستان کا صدر مقام اسکردو قراقرم کے فلک شگاف پہاڑوں میں گھری ہوئی وسیع و عریض وادی ہے۔ جون کے آخری ہفتہ لاہور سے ڈیڑھ گھنٹے کی پرواز سے سکردو ائیر پورٹ پہنچے۔یہیں سے دنیا کے بلند ترین پہاڑوں کے ٹو، براڈ پِیک، اور گشابروم کو راستے نکلتے ہیں۔ دنیا بھر سے سیاح ان پہاڑوں کو دیکھنے اور سر کرنے کی کوشش میں مقناطیسی کشش کی طرح کھنچے چلے آتے ہیں اور کئی انہی برفانی تودوں، پہاڑوں سے نبرد آزمائی کرتے زندگی کی بازی ہار جاتے ہیں۔ائیر پورٹ پر مقامی میزبان عبد اللہ ناصر شگری بمع فیملی پھولوں کا گلدستہ لئے ہمارے استقبال کو موجود تھے۔ سکردو ان کے گھر مقامی ناشتہ کیا اور سکردو کا نواحی علاقہ دیکھنے نکل پڑے۔ سکردو کے اطراف کئی بستیاں، پہاڑی نالے اور خوش اخلاق لوگ استقبال کرتے رہے۔ دریائے سندھ کے کنارے ڈرایئو کرتے جھیل اپر کچور پہنچے۔ اپر کچورا گاؤں واقع ہے، جہاں درختوں کے بیچ گھِری کچورا جھیل کا نیلگوں پانی ٹھہرا ہے۔ وادی میں بہتے دریائے سندھ کی شان نرالی ہے۔وادیوں کے بیچ و بیچ تمام چشمے ندیاں نالے دریائے سندھ کا حسن ہے۔
دریائے سندھ کے پانیوں جھیلوں پہاڑوں ریگستانوں کے علاوہ ان علاقوں میں چیری ،خوبانی ،ناشپاتی ،آلو بخارے ،آلوچے ،سیب ، بادام ، اخروٹ کے باغات نے بھی رونق سجا رکھی ہے۔ اپر کچورا جھیل صاف پانی کی جھیل ہے جس کی گہرائی تقریباً 70 میٹر ہے، دریائے سندھ اس کے قریب ہی قدرے گہرائی میں بہتا ہے،اس کے قریب ہی واقع شنگریلا جھیل کو پاکستان کی دوسری خوبصورت ترین جھیل بھی کہا جاتا ہے۔ پاکستانی سیاحوں کا رحجان آجکل شنگریلا جھیل کے لئے توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ لوئر کچورا جھیل یا شنگریلا جھیل اصل میں شنگریلا ریسٹ ہاؤس کا حصّہ ہے، یہ سیاحوں کے لیے ایک مشہور تفریح گاہ ہے۔( جاری ہے )