لیڈر فرار ہے،بھائی بھاگنے کو تیارہے،بیٹااشتہاری،بیٹی ذلیل و خوار ہے! بتائیے یہ کونسی پارٹی ہے؟

248

بھارت کہتا ہے ’’ہمیں بھی عمران خان جیسا وزیراعظم مل جاتا‘‘۔ وہ شخص جو دنیا میں ایک دبنگ لیڈر کے طور پر پہچانا جاتا ہے۔ اپنے ملک میں اس کے ساتھ اسمبلی میں کیا سلوک ہوتا ہے، اسے تقریر نہیں کرنے دی جاتی۔ شورشرابا، طوفان بدتمیزی برپا کر دیا جاتا ہے۔ جس میں قوم کی دولت اور وقت ضائع ہوتا ہے۔
آزاد ترجمہ ٹائمز لکھتا ہے ’’سچا فاتح ایک تعاون نہ کرنے والی پارلیمنٹ، مفاد پرست بظاہر وفادار دشمن، اندر اور باہر سے غیر مفاہمت پرست سسٹم، میڈیا کی بے مروتی، کووڈ سے کمزور معیشت، ماضی کے قرضوں کا ڈھیر، ان سب مشکلات کے باوجود وہ پاکستان کے لوگوں کیلئے اکیلا لڑرہا ہے‘‘۔ کیا یہ سب غلط ہے؟ عوام کی سوچ بدلنے میں وقت لگے گا۔ عوام کازبوں، رہزنوں، قزاقوں کے جال میں پھنس گئے ہیں۔ وہی ان کے ان داتا ہیں۔ انہیں خواب غفلت سے جگانا ہے۔ بتانا ہے کہ تم بری طرح لوٹے گئے ہو۔ اگر اب بھی نہ بیدار ہوئے تو تمہارا مقدر سو جائے گا۔
قائداعظم نے یہ ملک مسلمانوں کو تحفظ اور آزادی دینے کے لئے بنایا تھا۔ پاکستان تیر وتفنگ، گولیوں کی جھنکار میں نہیں حاصل کیا گیا بلکہ قلم کی طاقت، تقریر میں وزن سے حاصل ہوا۔ عوام اپنے اوپر ترس کھانے کے بجائے اپنے مسائل کو حل کرنے کی خود بھی کوشش کریں۔ جب یہ چوروں کی پارٹیاں اپنے جلسے جلوس نکالتی ہیں تو جوق در جوق لوگ نکل پڑتے ہیں۔ لیکن جب عدالتیں غلط فیصلے کرتی ہیں سب خاموش رہتے ہیں۔ اگر خاموشی سے حقوق نہ ملیں تو احتجاج کرنا ضروری’’بغیر روئے تو ماں بھی بچے کو دودھ نہیں دیتی‘‘ یہ تمہاری محنت کا جمع جتھا بھی کھا گئے ہیں۔ قومی خزانہ ہڑپ کر گئے ہیں۔ اب کیا تم ہمیشہ بھیک کا کشکول لئے کھڑے رہو گے؟ اقوام عالم میں مضحکے کا نشانہ بنتے رہو گے۔ طارق عزیز اگر زندہ ہوتے تو نیلام گھر میں ایساکچھ سوال ہوتا۔
انعام میں ایک زیرو میٹر گاڑی ہے۔
سوال ہے:ـلیڈر فرار ہے،بھائی بھاگنے کو تیار ہے،بیٹا اشتہاری اور بیٹی ذلیل خوار ہے۔
بتائیے یہ کون سی پارٹی ہے؟ جواب ہے’’ن لیگ‘‘ لیجئے گاڑی آپ کی ہوئی۔ ن لیگیوں میں اگر شرم و حیا ہوتی تو زمینوں پر قبضہ چھوڑ دیتے لوٹی ہوئی دولت واپس کرتے لیکن یہ تو بڑی ڈھٹائی کے ساتھ عوام میں آتے ہیں۔ خوب جلوس نکالتے ہیں۔ مریم اورنگزیب عرف پوپلی ’’ماسی مصیبتاں‘‘ کی ڈیوٹی ہے کہ جب یہ ڈاکوئوں کا ٹولہ عدالت جائے تو یہ دو تین لوگ نعرے بازی کریں۔ پتھر بھرے ٹرک، پھولوں کی پتیاں ان پر نچھاور کی جائیں۔ جیسے کسی مقدس مقام کی زیارت سے واپس آئے ہیں یا کوئی جنگ جیت لی ہے۔ ہاں اس ملک کی دولت بڑی خوبصورتی سے آرپار کی ہے۔ بیٹی بھی آریاپار کرنے چلی تھی کیا ہوا؟ اس کے پاس سوائے عمران خان کو گالیاں دینے کے کچھ نہیں۔ تقریر کرتے وقت اشعار پڑھنے کی کوشش کرتی ہے نہیں آتا تو مجمع کی طرف اپنے حواریوں کی طرف کھسیانی مسکراہٹ سے دیکھتی ہے کہ کوئی تصحیح کر دے مگر اس کے حواری شاید اس سے بھی بڑے جاہل ہیں۔ اپنے مفاد پرستوں کے ٹولے سے عدالتی کارروائی میں روڑے اٹکائے جاتے ہیں۔ نیب پرپتھرائو کرنے کی تیاری کی جاتی ہے اور عوام ان سب بیہودگیوں پر خاموش رہتی ہے۔
جاگو!جاگو ہوا سویرا، تمہیں ایک دبنگ لیڈر مل گیا ہے۔ اس کے ہاتھ مضبوط کرو۔ ’’مشرق سے ابھرتے ہوئے سورج کو ذرا دیکھ‘‘ بھٹو مرحوم کی قسمت پر روناآتا ہے۔ مرتضیٰ بھٹو کا بیٹا کیلیفورنیا میں سڑکوں پر مجمع لگا کر ناچتا ہے۔ لوگ اس کی بھی جنس کے بارے میں سوالات اٹھاتے ہیں۔ اسی طرح بلاول بھٹو یعنی ان کا نواسہ اس کی بھی جنس کا ابھی تک پتہ نہ چل سکا۔ تعین نہ کیا جا سکا یہ ایک ہاتھ کی لکھی پرچی والا چیئرمین جس نے پی پی کی قسمت پھوڑدی ہے۔ زرداری کے اس دنیا سے کوچ کر جانے کے بعد اس کا کیا بنے گا۔ بھٹو کی تو نسل ہی ختم ہو گئی ہے جیسے ملکہ الزبتھ اول کا آج تک پتہ نہیں چلا کہ وہ مرد تھی یا عورت
بلو بھی عمران خان کو کٹھ پتلی کہتے کہتے خود ہی کٹھ پتلی ہو گیا ہے۔
اسکی پارٹی کے کرتا دھرتا جدھر اس کٹھ پتلی کی ڈوری گھماتے ہیں گھوم جاتی ہے۔ ویسے شیخ رشید بڑی ترنگ میں گاتے ہیں ’’بلو رانی، بلورانی کہو تو ابھی جان دے دیں‘‘ اللہ ہی جانے حقیقت کیا ہے۔
رہ گئی فاطمہ بھٹو وہ ایک ذہین لڑکی ہے وہ پی پی کی قیادت کر سکتی تھی لیکن یہ سب کو اچھی طرح معلوم ہے کہ اگر وہ پاکستان آئی تو اُسے بھی بے نظیر بھٹو اور مرتضیٰ بھٹو کی طرح مروادیا جائے گا۔
زرداری صاحب آپ کا وہ بہادر بچہ کہاں روپوش ہے شایدوہ اس حکومت کے جانے کے بعد منظر عام پر آئے۔ وزیراعظم صاحب اتنی نوکریاں دی گئیں لیکن اس میں اس یتیم کراچی کا کوئی آدمی جگہ نہ پا سکا۔ کراچی جو ملک کو کما کر دیتا ہے ہو پیسہ اس پر ہی نہیں لگایا جاتا۔ کراچی کے ساتھ یہ سلوک کیوں؟ اور آخر کب تک؟؟
تقاضا عدل و آئین کی آزادی کا ہے ساحرؔ
سراسر موت کی ان زر پرستوں کو سزا دینا!