امریکا میں مقیم پاکستانی ’افغانستان صورتحال‘ کے پیش نظر تعلقات مستحکم کرنے کیلئے کوشاں

290

واشنگٹن: افغانستان سے امریکی فوجیوں کے انخلا کے نتیجے میں دوطرفہ تعلقات کو ممکنہ خطرات کے پیش نظر امریکا میں مقیم پاکستانیوں نے اپنے آبائی وطن اور واشنگٹن کے مابین قریبی تعلقات کو برقرار رکھنے کے لیے کوششیں تیز کردی ہیں۔

واشنگٹن کی عوامی تعلقات کی فرم پینٹون / آروک پاکستانی امریکی گروپ کے لیے فارن ایجنٹ کے رجسٹریشن ایکٹ (ایف اے آر اے) کے تحت رجسٹرڈ ہوئی تاکہ ’امریکی اور بین الاقوامی میڈیا کو کونسل آف پاکستان ریلیشنز کے بارے میں آگاہ کیا جائے جو سفارتی اور اقتصادی تعلقات کی خواہش رکھتے ہیں‘۔

ڈونلڈ ٹرمپ کی 2016 کی مہم کے لیے سابق کانگریسی رابطہ کار عدنان جلیل نے کونسل کے لابی کی حیثیت سے اپنی فرم الفا اسٹریٹیجیز کو بھی رجسٹرڈ کروایا ہے، واشنگٹن کے ایک غیر سرکاری گروپ کا آغاز مشی گن میں مقیم پاکستان۔امریکا کے صحت سے متعلق کاروباری شخصیات محمد اشرف قاضی، عادل جمال اختر اور اقبال نے کیا۔

وہ پاکستان اور افغانستان کے قبائلی علاقوں میں ایکسپورٹ پروموشن زون کے قیام کے لیے مجوزہ قانون کی منظوری کے لیے لابنگ کر رہے ہیں۔

پاکستان۔افغانستان اقتصادی ترقی ایکٹ ڈیموکریٹس، ری پبلیکن کا پیش کردہ بل ہے۔