ذہنی پسماندگی!!

294

سیموئل فراسٹ نے لکھا کہ سیاست میں جو بیان واپس لیا جائے وہ سیاست دان کی ذہنی پسماندگی کا عکاس ہوتا ہے اور یہ ذہنی انتشار کی نشان دہی کرتا ہے، میں نے اس وقت کہا تھا جب عمران نے تحریک انصاف بنائی تھی کہ عمران کی POLITICAL VOCABLARYنہیں ہے، ان سے کسی سیاسی بصارت کی امید نہ رکھی جائے، پاکستان میں سیاست گری کے لئے کوئی QUALIFICATIONنہیں ہے، سب کو آزادی ہے کہ وہ اپنی جماعت بنائے کچھ لوگوں کو اکٹھا کرے کسی سے منشور لکھوائے اور جلسے شروع کر دے، لوگوں کے پاس وقت بہت ہے، کوئی ایکٹوٹی ہے نہیں، اب جلسوں میں قیمے کے نام اور بریانی بھی ملتی ہے یار دوستوں سے ملاقات ہو جاتی ہے۔ ہلا گلا بھی ہو جاتا ہے اور تھڑے پر بیٹھ کر گپ شپ کے لئے موضوع بھی مل جاتا ہے اس سے زیادہ کچھ نہیں، مہذب دنیا میں سیاست میں آنے والے عوام میں اپنا تعارف کراتے ہیں، بتاتے ہیں کہ وہ کیا ہیں کیا نظریات رکھتے ہیں اور ان کے پاس عوام کے لئے کوئی کام کرنے کے لئے کیا پلان ہے، کسی ملک میں ایسا نہیں ہوتا کہ پیراشوٹر آئیں اور ملک کے سربراہ بن جائیں، ایوب خان کے بی ڈی سسٹم نے ملک کو کئی لیڈر دئے، اس کے بعد سب کے سب نام نہاد لیڈر فوج کی نرسری میں پنپے، یا ان کا تعلق ہی فوج سے تھا، ضیا الحق، نواز شریف، محمد خان جونیجو، مشرف، الطاف اور اب عمران، بھٹو کے بعد آئی ایس آئی سیاست میں ملوث رہی اور اس کے کردار پر عالمی جریدوں نے بھی گفتگو کی اور ملک میں بھی اس پر گفتگو ہو چکی، حمید گل کے بعد ہر آئی ایس آئی کے چیف نے ایسا ہی کیا، اور اس روش میں تبدیلی نہیں آئی، اور اب بھی ایسا ہی ہورہا ہے، کوئی اندھا نہیں اور ہر ایک دیکھ سکتا ہے کہ عمران خالی میز پر بیٹھا ہے اس کی میز پر ایک فائل بھی نہیں ہوتی اور سارے غیر ملکی DEPUTATIONSآرمی چیف سے ہی ملتے ہیں اور سارا حکومتی بیانیہ طالبانی، پردے کے بیان پر امریکی جریدے کو انٹرویو دیتے ہوئے عمران خان نے ملک میں زنا بالجبر کے بڑھتے ہوئے رجحان کے بارے میں ایک سوال پر کہا کہ خواتین کا مختصر لباس مردوں کے جذبات بھڑکاتا ہے اور وہ اپنے آپ پر قابو نہیں رکھ سکتے، یہ کسی وزیراعظم کا انتہائی گھٹیا پن تھا جس نے VICTIMکا ساتھ دینے کی بجائے اس پر ہی الزام دھر دیا کہ غلطی تو تمہاری تھی کہ ہم نے غیر مناسب لباس پہنا اور زنا کا ارتکاب کرنے والا خود پر قابو نہ رکھ سکا کیونکہ وہ مرد تھا کوئی روبوٹ تو نہیں تھا، یہ GUTTER THINKINGکے سوا اور کچھ نہیں۔
سیاسی تربیت نہیں تو سیاسی طرزِ گفتگو سے بھی آشنائی نہیں، پارلیمنٹ میں بھی ایک بار کسی کے انتقال پر عمران خان نے کہا تھا کہ ’’وہ بھی نکل لئے‘‘ یہ زبان کسی بھی معمولی پڑھے لکھے کی بھی نہیں ہوتی، وہ بھی اتنا کہہ سکتا ہے کہ ان کا انتقال ہو گیا یا وہ وفات پا گئے، عمران میں اتنی بھی شائستگی نہیں دکھتی، پارلیمنٹ میں وہ اسامہ بن لادن شہید کو شہید بھی کہہ چکے، باہر کا پریشر آیا تو فواد چودھری نے آ کر وضاحت کی کہ یہ عمران کی SLIP OF TONGUEتھی ان میں یہ اخلاقی جرأت بھی نہیں، جوایک بردبار سنجیدہ لیڈر میں ہونی چاہیے، اپوزیشن کے بارے میں عمران نے جو زبان اختیار کی وہ کسی طور مناسب اور پارلیمانی زبان نہ تھی، جن کے خلاف وہ گندی زبان استعمال ہوئی وہ بھی CONVICTنہیں ہوئے ایسی زبان عزیر بلوچ اور رائو انور کے لئے بھی کبھی استعمال نہ ہوئی۔ سیاست میں یہ پہلی بار نہیں ہوا نصیر اللہ بابر نواز شریف کے لئے، نواز شریف بے نظیر کے لئے گندی زبان استعما ل کرتے رہے، پاکستان میں کوئی سچا بردبار لیڈر پیدا نہیں ہوا، سیاست دان بے تحاشا پیدا ہوتے رہے اور وہ عوام کو رعیت کا درجہ دیتے رہے ہیں وجہ سادہ سی ہے اور وہ یہ کہ وہ سب کے سب فیوڈل لارڈز تھے، ان کو معلوم ہے کہ اللہ کا قہر ان پر نہیں ٹوٹنا، ہاں لوگوں کو اللہ کے عذاب سے ڈرایا جاتا ہے۔
چند دن قبل عمران نے شارٹ فلم فیسٹیول کے مدعوئین سے خطاب کیا اور اپنی معروف دانش کے موتی لٹائے، کہہ رہے تھے کہ پاکستان کا سافٹ امیج یہ نہیں کہ انگریزی بولی جائے، سوٹ پہن لیا جائے، ٹائی لگائی جائے، یہ تو احساس کم تری کی نشانی ہے، خودداری سافٹ امیج ہے، پاکستانیت کو ابھارا جائے، ان کی بات میں وزن اس وقت آئے گا جب پاکستان انگریزی کا سارا علم مغرب کو لوٹا دے، ان کی ساری ایجادات کو استعمال کرنے سے انکار کر دے، خودداری دکھائے، مغرب سے تجارت بند کر دے اور ان کی امداد کو بھی قبول کرنے سے انکار کر دے، ظاہر ہے یہ نہیں ہو سکتا، توخودداری کاہے کی، ساری دنیا میں کشکول لے کر گھومتے ہیں، خیرات کے سکے جمع کرتے ہیں اور اس سے ملک کی روٹی چلتی ہے، سعودی عرب سے فطرانہ لیا جاتا ہے، عمران کو اہل وطن کو یہ ضرور بتانا چاہیے کہ جو لباس وہ زیب تن کرتے ہیں ،جوکھانا کھاتے ہیں جس مکان میں رہتے ہیں، جس آفس کی خالی میزپر بیٹھتے ہیں اور جس کار میں سفر کرتے ہیں ان میں پاکستان کا کیا ہے، مگر شرم ان کو مگر نہیں آتی، شرم تو ان کو اس بات پر بھی نہیں آتی جب واشنگٹن پوسٹ میں وہ مضمون لکھتے ہیں تو کہتے ہیں کہ پاکستان امریکہ سے برابری کی بنیاد پر تعلقات چاہتا ہے، امریکہ جیسے ہو جائیے تو امریکہ سے برابری کی بنیاد پر تعلقات کا تقاضا بھی کریں، چہ پدی چہ پدی کا شوربہ، عمران سے زیادہ عقل سے بیزار شخص سربراہ کے طور پر پاکستان کو کبھی نہیں ملا، بے عقل سیاست دان فوج کو سوٹ کرتے ہیں، ان کو کرسی پر بٹھا کر فوج اپنی من مانی کر سکتی ہے، اور یہی فوج کا اصل منشا ہے اور فوج کی اس خواہش کو عمران بخوبی پورا کررہے ہیں، سارا کاروبار حکومت باجوہ چلاتے ہیں اور ڈھٹائی کے ساتھ کہا جاتا ہے کہ فوج کو سیاست میں نہ گھسیٹاجائے، افغان مسئلے کو فوج ہی ہینڈل کررہی ہے۔ افغانستان میں خانہ جنگی ہو کر رہے گی اور اس کا پاکستان پر فال آئوٹ آ کررہے گا۔ ہزار کہیے کہ ہم سرحدیں سیل کر دیں گے مگر ایسا ہو گا نہیں، پروگرام یہ ہے کہ افغانیوں کو پورے پنجاب میں پھیلا دیا جائے اور پنجاب کی عددی برتری کو تہس نہس کر دیا جائے، یہ کام کرنے کے لئے پی پی پی اور نواز لیگ کو بہت کمزور کر دیا گیا ہے تاکہ کام کرنے میں آسانی ہو، پروگرام یہ بھی ہے کہ آئی پیڈ سے جعلی مشین کے رزلٹ کو کنٹرول کر کے عمران کو برتری دلائی جائے اور ان کو مخصوص نتائج کے حصول کے لئے استعمال کیا جا سکے۔ اس کا مقصد یہ بھی ہے کہ افغانستان میں جب POLITICAL TURMOILہو تو فوج کی ضرورت ثابت کی جا سکے، فوج اور فوج کے حواری ملک کو اس پھندے سے نکلنے نہیں دینگے جو عالمی طاقتوں کی خوشنودی کے لئے رچایا جارہا ہے، عالمی طاقتوں کی خوشنودی کے لئے اسی ذہنی پسماندگی کی ضرورت تھی جو عمران کی پیشانی پر سجی ہے۔