جموں میں ڈرونز کا حملہ، بھارت کی فوجی اور ایئر فورس کی صلاحیت کا پول کھل گیا

322

اتوار ایک بجکر 37منٹ جموں کا فوجی ہیڈ کوارٹر ڈرونکے حملے سے گونج اٹھا، ڈرون کنکریٹ کی چھت چیرتا ہوا چلا گیا۔ دوبارہ ایک بجکر 42منٹ پر وہی ہیڈ کوارٹر دوسرے دھماکے سے لرز اٹھا یہ دوسرے ڈرون کا حملہ تھا۔ کہا جاتا ہے کہ یہ 6پروں والا بڑے سائز کا HEKZAڈرون تھا۔ ڈرونز کا سائز اور نام بھارتی دفاعی ادارے چھپا گئے۔ ان دو ڈرونز حملے کے نتیجے میں بے شمار فوجی زخمی ہوئے۔ ہوائی جہازوں یا ہتھیاروں کا کتنا نقصان ہوا، بھارتی حکومت خاموش ہو گئی ہے۔ کچھ بتا نہیں رہی ہے۔ اگر آپ دنیا کے کسی بھی دو دشمن ملکوں کی تاریخ دیکھیں تو ایک دوسرے ملک کی فضائیہ ہر وقت ہائی الرٹ پر رہی ہے جیسے آرمینیا، آذربائیجان، بھارت پاکستان یا ماضی میں ایران اور عراق کی فضائیہ ہمیشہ ہائی الرٹ رہتی تھیں۔ سائرن بجتے ہی پائلٹ کے پاس صرف ایک منٹ کا ٹائم ہوتا ہے۔ فائٹر جہازوں تک پہنچنے اور اڑانے کے لئے ورنہ دشمن کے جہاز آپ کو تباہ کر کے اپنے ملک واپس چلے جاتے ہیں۔ اگر آپ غور سے میڈیا رپورٹ دیکھیں تو دوسرا ڈرون 5منٹ بعد آیا لیکن بھارت کا دفاعی نظام اس کو روک نہیں سکا۔ وہ دوبارہ اپنے نشانے پر گرا اور مزید جانی اور مالی نقصان کر گیا۔ اس کے بھارتی ایئر چیف کو جموں دورے پر جانا پڑا لیکن انہوں نے بھی تفصیلات بتانے سے گریز کیا۔ اگر آپ جموں اور سری نگر کے حالات دیکھیں تو وہ جیل سے بھی بدتر ہیں وہاں کے لوگ ظلم و بربریت کا سامنا کررہے ہیں۔ لوگوں کو اغواء کیا جارہا ہے جان سے مارا جارہا ہے لیکن دنیا خاموش ہے۔ عمران خان پوری دنیا کی توجہ کشمیر کی طرف دلارہے ہیں لیکن دنیا کی بے حسی اور خاص طور سے مسلمان ملکوں کی بے حسی پر انسانیت شرمندہ ہے۔ تازہ ترین امریکی میڈیا کو انٹرویو میں جب اینکر نے عمران خان سے چائنہ میں مسلمانوں پر ظلم کی طرف توجہ دلائی تو عمران خان نے فوری طور پر کشمیر میں ظلم پر سوال اٹھایا ان مجبور اور بے بس کشمیریوں پر ظلم کے پہاڑ توڑے جارہے ہیں دنیا کے بڑے بڑے ملک اس مسئلے پر خاموش ہیں۔ اقوام متحدہ اپنی ہی قراردادوں پر عمل کرانے کیلئے خاموش ہے۔ بھارت نے فوری طور پر اس حملے کا الزام پاکستان پر لگایا، خاص طور سے جیش محمد پر لیکن پاکستان نے اس الزام کو مسترد کر دیا، بھارتی حکومت اپنی دفاعی ایجنسی NIAسے اس کی تحقیقات کروا رہی ہے بھارتی حکومت کے مطابق یہ ڈرونز پاکستان سے فائر ہوئے لیکن وہ اس کو نہ روک سکے اس سے بھارتی فضائیہ کی صلاحیتوں کا پول کھل گیا ہے بھارتی ایئر فورس میں تیز رسپانس نہ دے سکی وہ پانچ منٹ تک غیر موثر رہی اور دوسرا ڈرونز بھی حملہ آور ہو گیا۔ بھارت جس کے پاس عددی اعتبار سے پاکستان سے بہت بڑی فضائیہ ہے زیادہ جدید دفاعی نظام ہے روس سے بھی وہ موثر ترین دفاعی نظام اپنی فضائیہ کے لئے خرید رہا ہے۔ پانچ منٹ بعد دوسرا ڈروانز حملہ ظاہر کرتا ہے کہ بھارت کو دس مرتبہ اپنے ایئر دفاعی نظام کی صلاحیت کو سوچنا پڑے گا کہ وہ کیوں فیل ہوا اور دوسرا ڈرونز کیسے ٹارگٹ پر گرا۔
بھارت فروری 2019ء میں بھی ایک ڈرامہ کر چکا ہے جب اس کے جہاز پاکستانی سرحد میں گھس آئے تھے تب اس نے اپنے دو جہاز گروالئے۔ ایک پاکستانی سرحد کے اندر گرا اور ابھی نندن گرفتار ہوا دوسرا جہاز ہٹ ہو کر بھارتی سرزمین پر گرا جو ریکارڈ پر موجود ہے لیکن بھارتی فضائیہ کوئی بھی پاکستانی جہاز نہ گرا سکی۔ اس سے بھی بھارتی فضائیہ کی کمزوری کا پتہ چلتا ہے۔ بھارتی وزیر دفاع فرانس کے جہازرافیل پر بڑی بڑک ماررہا تھا رافیل کے ملتے ہی خطے میں طاقت کا توازن بگڑ جائے گا۔ پاکستان گھٹنوں پر آجائے گا۔ چائینز جہاز تھنڈر رافیل کا مقابلہ نہیں کرسکے گا لیکن بھارت کو پتہ نہیں چائنہ پاکستان کو تنہا نہیں چھورے گا۔ چینی فضائیہ رافیل سے بہتر جہاز بنا چکی ہے۔ یہ خبریں دنیا میں چائنہ سے آرہی ہیں لیکن وہ خاموشی اختیار کرتے ہیں اور دنیا کو اپنا جدید اسلحہ کم بیچتے ہیں۔ چند ماہ پہلے ہی چینی سربراہ مملکت شی نے اپنے دفاعی اداروں کو جنگ کے لئے تیار رہنے کا حکم دے رکھا ہے چین کو اپنے سی پیک کو محفوظ رکھنا ہے امریکہ کا خطے میں مقابلہ کرناہے اور آئندہ دس سالوں میں دنیا کی نمبرون سپرپاور بننا ہے اور بھارت اس کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے چائنہ اپنی فوجوں کو بھارتی سرزمین کے لئے اندر لے آیا ہے۔ میلوں بھارتی سرزمین پر قبضہ کر لیا ہے وہ بھارت کی چکن نیک توڑنے کیلئے تیار ہے وہ بھارت کی سات ریاستیں الگ کر دے گا اس سے مقبوضہ کشمیر کی آزادی کی راہ بھی ہموار ہو جائے گی۔
بھارت اس وقت حالت جنگ میں ہے چاروں طرف سے حالات اس کے خلاف ہوتے جارہے ہیں ۔افغانستان میں طالبانی حکومت کی آمد آمد ہے ۔ایران نے چین کے ساتھ ہاتھ ملا لیا ہے اور بھارتی ریل کا ٹھیکہ منسوخ کر دیا ہے۔ پاکستان بھارت سے کئی جنگیں لڑ چکا ہے اور مقبوضہ کشمیر کو آزاد کرانا چاہتا ہے چین بھارت کو کمزور اور ٹکڑے ٹکڑے کر کے یورپ کیلئے اپنا راستہ ہموار کرنا چاہتا ہے۔ سی پیک اس کیلئے ایک بہت بڑا منصوبہ اور راستہ ہے اب دیکھیں آئندہ دس سالوں میں بھارت کا کیا نقشہ ہوتا ہے؟