الٹی ہوگئیں سب تدبیریں!!

310

ہر شاطر اور نوسرباز کی طرح زرداری کو بھی اپنے بارے میں یہ خوش فہمی ہے کہ وہ پوری قوم کو ہمیشہ بیوقوف بناسکتے ہیں۔
لیکن پاکستان کے اس نامی چور اور ڈاکو کو شاید یہ کہاوت یاد نہیں رہی، اپنی طاقت اور اثر کے زعم میں، کہ شاطر کچھ لوگوں کو ہمہ وقت اپنے جال میں الجھا سکتا ہے، بہت سارے لوگوں کو کچھ وقت کیلئے جل دے سکتا ہے لیکن تمام لوگوں کو ہمیشہ بیوقوف نہیں بناسکتا۔
مانا کہ پاکستان کے سادہ لوح اور اب یہ کہنا پڑتا ہے کہ جاہل اور برادری نظام کی لعنت کے مارے عوام زرداری جیسے نوسربازوں کے ہاتھوں بہت طویل عرصہ تک الو بنتے رہے ہیں لیکن تا کجا۔ ایک دن تو ایسا ہونا ہی تھا کہ عوام اور ان خواص کی بھی آنکھیں کھل جاتی ہیں اور ان کی سمجھ میں آجاتا ہے کہ انہیں بیوقوف بنایا جارہا تھا اور وہ اب مزید بیوقوف بننے کیلئے تیار نہیں ہیں۔
سو زرداری کے ساتھ بھی یہی ہوا ہے کہ گذشتہ ہفتے وہ بڑی شان کے ساتھ لاہور میں وارد ہوئے تھے اور اپنا ڈیرہ ڈالا تھا لاہور کے اس بلاول ہاؤس میں جو پاکستان کے سب سے بدنام اور شاطر تعمیراتی جادوگر ملک ریاض نے انہیں بناکر تحفہ میں، جو رشوت کا بڑے لوگوں کے حلقہ میں بڑانام ہے، دیا تھا۔
زرداری کی لاہور یاترا کا مشن یہ تھا کہ وہ پنجاب کے ان سیاستدانوں کو اپنی پارٹی میں شامل ہونے کیلئے تیار کریں جو اگلے انتخابات پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر لڑنا پسند کریں۔
انہوں نے یہی سوچا ہوگا کہ ان سے اور ان کی جادوگری سے متاثر ہوکے پنجاب کے امیدوار قطار در قطار، جوق در جوق، ان کے دروازے پہ آکر صدا لگائینگے کہ سرکار ہم آپ کے غلام حاضر ہیں، آپ ان داتا ہیں اور ہم سائل ہیں، ہمیں اپنی سرپرستی سے نواز دیجئے ہم آپ کی نظرِ کرم کے منتظر ہیں اور اس در کے سوا کسی اور در پہ نہیں جائینگے۔لیکن جو ہوا وہ اس کے بالکل برعکس تھا۔
اخباری اطلاعات کے مطابق زرداری صاحب ایک ہفتے تک بقول شخصے اپنی ایڑیاں ٹھنڈی کرتے رہے لیکن کوئی امیدوار، کوئی سائل، ان کے درِ دولت پہ نہیں آیا اور بالآخر ہفتے بھر تک ہر طرح کے داؤ پیچ ڈالنے کے بعد مایوس ہوکر اس رسوائے زمانہ نوسرباز نے لاہور سے اپنا ڈیرہ اٹھایا اور بوریا بستر باندھ کے اسلام آباد کا رخ کیا۔
ہونا تو یہ چاہئے کہ زرداری کے اس مشن کی ناکامی سے پاکستانی سیاست کے دیگر نوسرباز اور پرانے پاپی وہ سبق لیں جو اس میں مضمر ہے لیکن لگتا نہیں کہ پاکستان کے جغادری سیاست داں وہ شعور، وہ ضمیر اپنے اندر رکھتے ہیں جو ایسے واقعات سے سبق لے سکیں۔
سبق لینے کیلئے ذہن کی بیداری ناگزیر ہوتی ہے لیکن پاکستانی سیاست کی بساط پر جو شاہ و فیل براجمان ہیں ان میں ذہن کی بیداری نام کی کوئی شئے ہے ہی نہیں جو سبق لے سکے۔ پاکستان کے سیاسی رجواڑے ان سے بھرے ہوئے ہیں جو اس خیالِ خام میں سدا مبتلا رہتے ہیں کہ ان کی قیادت کا جادو ہمیشہ عوام کے سر چڑھ کے بولتا رہیگا اور وہ جو ان کے سحر میں مبتلا ہیں ہمیشہ کیلئے خوابِ خرگوش میں رہینگے اور قیادت کے نام پر جو افیون انہیں دی جائیگی اسے وہ بے چون و چرا آمنا اور صدقنا کہہ کے پی جائینگے۔
فریب دینے والے یہ کہاں سوچتے ہیں کہ ان کا سحر یا تو اتر چکا ہے یا اتر رہا ہے وہ تو اپنے سحر میں خود ہی ایسے مبتلا رہتے ہیں کہ اللہ دے اور بندہ لے۔
اب زرداری ہی کے قبیلے جیسے رسوائے زمانہ شریف خاندان کے شہباز شریف کی تازہ ترین چال دیکھئے کہ وہ شاید اب اور غلط فہمیوں کے ساتھ ساتھ اس غلط فہمی کے بھی شکار ہیں کہ بیرونِ ملک پاکستانیوں کو بھی اسی طرح بیوقوف بناسکتے ہیں جیسے رائیونڈ یا اندرون لوہاری گیٹ کے باسی ان کے جھانسے میں آجاتے ہیں۔
عمران حکومت نے جو یہ صائب فیصلہ کیا ہے کہ بیرونِ ملک پاکستانیوں کو ووٹ دینے کا حق دینے کے ساتھ ساتھ انہیں یہ سہولت بھی فراہم کی جائے کہ وہ بیرون ملک رہتے ہوئے اپنے گھروں سے آن لائن ووٹ ڈال سکیں۔
عمران کے اس اعلان اور ان کی حکومت کے اس اقدام نے حزبِ اختلاف کو چاروں خانے چت کردیا ہے۔ عمران کے مخالفین کی کوشش تو یہی رہی کہ بیرونِ ملک پاکستانیوں کو یہ حق نہ ملنے پائے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ سمندر پار رہنے والے پاکستانی ان چوروں اور ڈاکوؤں کی حقیقت اور ان کا کچا چٹھا بخوبی جانتے ہیں اور شاید ہی بیرونی دنیا میں آباد پاکستانیوں میں سے کوئی ایسا ہو جو ان نوسربازوں کو ووٹ دے
حزبِ اؒختلاف آن لائن ووٹنگ کے تو بالکل حق میں نہیں کیونکہ اس الیکٹرونک وسیلے میں وہ وہ دھاندلیاں نہیں کرسکیں گے جن کی بدولت یہ چور اور نوسرباز دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونک کے اسمبلیوں میں براجمان رہتے ہیں
سو شہباز شریف نے ایک تازہ بیان داغ دیا ہے جسمیں انہوں نے بادلِ ناخواستہ بیرونِ ملک پاکستانیوں کو ووٹنگ کا حق دینا تو قبول کرلیا ہے لیکن اصرار اب بھی یہی ہے کہ بیرونِ ملک رہنے والے پاکستانی وطن واپس جاکر اپنا یہ حق استعمال کریں تاکہ ان جیسے بے ایمان اور بددیانت سیاسی شعبدہ باز اپنی ابلیسی چالیں چل سکیں۔
لیکن ان کو معلوم ہے کہ وہ اس طرح سمندر پار پاکستانیوں کو اپنا گرویدہ نہیں بناسکیں گے۔ سو انہوں نے ایک اور جال پھینکا ہے اور وہ یہ کہ سمندر پار پاکستانیوں کے کیلئے قومی اسمبلی اور ایوانِ بالا، یعنی سینٹ میں نشستیں مخصوص کی جائیں تاکہ وہ ملک کی سیاست میں اپنا حصہ ڈال سکیں۔
شاید شہباز شریف کو یہ گمان ہو کہ یہ مطالبہ سمندر پار پاکستانیوں کے حق میں کرنے سے بیرونِ ملک ان کا کوئی ووٹ بنک بن جائے گا لیکن وہ صریح خوش فہمی کے شکار ہیں۔ بیرونِ ملک پاکستانی ان کی، ان کے نامی چور بڑے بھائی نواز کی اور ان کے پورے چور کنبہ کی رگ رگ سے واقف ہیں اورخوب جانتے ہیں کہ لاہور کے اس لوہار خاندان نے کس طرح سے دونوں ہاتھوں سے پاکستان کو لوٹا ہے اور کن ہتھکنڈوں سے یہ ڈاکو خاندان ابتک انصاف کے کٹہرے سے بچتا اور نظامِ عدل کو جل دیتا رہا ہے۔ لیکن بکرے کی ماں کب تک خیر منائے گی۔ ایک نہ ایک دن، اور دعا کرنی چاہئے کہ وہ دن جلد آئے گا، یہ چور قانون کی گرفت میں آئینگے اور ان سے عمر بھر کی چوری اور لوٹ مار کا پورا پورا حساب لیا جائے گا۔
غلط فہمی یا خوش فہمی کے شکار تو امریکہ بہادر کے نئے قائدصدر جو بائیڈن بھی دکھائی دیتے ہیں اسلئے کہ انہوں نے افغانستان سے امریکی اور اتحادی افواج کے انخلاء کے پروگرام میں چلتے چلتے بھانجی ماردی ہے یہ کہہ کے کہ گیارہ ستمبر کی جو ڈیڈ لائن انہوں نے خود افغانستان سے مکمل فوجی انخلاء کیلئے دی تھی اب، ان کے ترجمان کے بقول، اس کے بعد بھی امریکہ کے 650 فوجی افغانستان میں موجود رہینگے۔
بہ الفاظ، دیگر، وہ اب اس وعدہ سے مکر رہے ہیں جو انہوں نے خود کیا تھا۔ اس سے پہلے بھی امریکی حکومت اس وعدہ کی خلاف ورزی کی مرتکب رہی ہے جو بائیڈن صاحب کے پیشرو ٹرمپ نے کیا تھا اور جس کے مطابق امریکہ کی تمام افواج اس برس اپریل کے اختتام تک افغانستان سے چلی جانی چاہئے تھیں لیکن ایسا نہیں ہوا۔ امریکہ کا دنیا بھر میں یہ پروپیگنڈا رہتا ہے کہ امریکہ معاہدوں کی پابندی کرتا ہے لیکن افغانستان سے انخلاء کے ضمن میں معاہدوں کی خلاف ورزی معمول بن گئی ہے اور امریکہ کو اس پر کوئی شرمندگی بھی نہیں ہے۔
کیاہورہا ہے یہ فی الحال سمجھ میں نہیں آرہا۔ اس کی صرف اور صرف ایک ہی توجیہ ممکن ہے اور وہ طاقت کا زعم اور تکبر ہے۔ اس کا ایک اور ثبوت یہ ہے کہ جو بائیڈن نے افغانستان کے حل کے ضمن میں آج تک، تا دمِ تحریر، پاکستان کے قائد عمران خان سے بات کرنے کی زحمت گوارا نہیں کی ہے۔ کیوں؟ اس کا جواب سوا اسکے اور کیا ہوسکتا ہے کہ وہ عمران سے براہِ راست بات کرنا اپنے شایانِ شان نہیں سمجھتے۔ یا ان کے خیال میں افغانستان کے حتمی تصفیہ اور حل میں پاکستان کو وہ اپنے تئیں وہ کلیدی مقام اور مرتبہ نہیں دینا چاہتے جس کا پاکستان افغانستان کا سب سے اہم پڑوسی ہونے کی بنیاد پر حقدار ہے اور دنیا، بائیڈن کے سوا، پاکستان کے اس کلیدی کردار کو تسلیم کرتی اور گردانتی ہے۔
اپنے آپ کو طرم خان سمجھنے کا مرض بہت پرانا ہے اور اس کے شکار دنیا میں ہر جگہ ہوتے اور پائے جاتے ہیں، وہ چاہے زرداری نوسرباز کے روپ میں ہوں یا چور شہباز کے یا طاقت کے زعم میں مبتلا بائیڈن ہوں۔ لیکن ایک نہ ایک دن حالات ہر طرم خان کو یہ سبق سکھا دیتی ہے کہ وہ جو اپنے آپ کو شاطر اور شطرنج کے ماہر کھلاڑی سمجھتے ہیں انہیں بھی مات ہوتی ہے اور جب مات ہوتی ہے تو اس بری طرح سے کہ ان کی ہر تدبیر اور چال الٹی پڑجاتی ہے۔