جو بائیڈن اور اشرف غنی کی ملاقات

290

امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کی اطلاعات کے مطابق اشرف غنی حکومت چھ ماہ سے زیادہ طالبان کا مقابلہ نہ کر سکے گی پینٹاگون کے اندازوں کے مطابق طالبان کو کابل پر قبضہ کرنے میں بارہ ماہ لگیں گے امریکہ بیس برس تک کابل میں اپنی قائم کردہ حکومت کی دل کھول کر اقتصادی اور فوجی امداد کرتا رہا مگر اب وہ اس حکومت کے ڈولتے سنگھاسن کو بچانے کیلئے کسی بھی قسم کی براہ راست فوجی امداد دینے سے گریز کر رہا ہے یہ اعلان بائیڈن انتظامیہ صدر اشرف غنی اور چیف ایگزیکٹیو عبداللہ عبداللہ کے پچیس جون کو ہونیوالے دورئہ واشنگٹن سے پہلے کر چکی تھی امریکہ اگر کابل حکومت کا ان حالات میں دفاع کرنے سے انکاری ہے تو پھر اشرف غنی واشنگٹن کیا لینے آئے ہیں اور جو بائیڈن کے پاس انہیں دینے کیلئے کیا ہے اسکا جواب یہ ہو سکتا ہے کہ واشنگٹن اگر کابل کو کچھ دے نہ سکتا تو افغان صدر کو وائٹ ہائوس میں مدعو کرنے کی ضرورت کیا تھی امریکی صدر کا یہ کہہ دینا کہ افغان حکومت کیلئے امریکہ کی حمایت ہر گز ختم نہیں ہو رہی بلکہ انخلا کے باوجود تعاون جاری رہیگا اشرف غنی کی حوصلہ افزائی کیلئے شائد کافی نہ ہوجو بائیڈن نے اپنے مہمانوں سے یہ بھی کہا کہAfghans are going to have to decide their future , what they want. Senseless violence has to stop بیس سال کی جنگ و جدل کے بعد اب امریکہ افغانستان کو بیچ منجدھار کے چھوڑ کر جا رہا ہے اور بڑی ڈھٹائی سے یہ بھی کہہ رہا ہے کہ اب آپ اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کریںزخموں پر نمک چھڑکنے والی بات یہ ہے کہ وہ تشدد جو امریکہ نے بیس برس تک افغانستان میں جاری رکھا اب وہ دیکھتے ہی دیکھتے senseless ہو گیا ہے اسکا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ امریکہ کا برپا کیا ہوا تشدد sensible تھااشرف غنی امریکی صدر کی اس شان بے نیازی کے جواب میں کہہ بھی کیا سکتے تھے انکے ذہن میں جو کچھ پہلے سے طے تھا انہوں نے وہی کچھ کہا ظاہر ہے کوئی گلہ شکوہ تو ہو نہیں سکتا تھا اس آخری ملاقات میں جو کچھ مل سکتا تھا اسی پر قناعت کرنا دانشمندی کے تقاضوں کے عین مطابق تھا اشرف غنی نے اس مخدوش صورتحال میں خود اعتمادی کا مظاہرہ کرتے ہوے امریکی صدر کو یہ خوشخبری سنائی کہ افغان سیکیورٹی فورسز نے گذشتہ چند دنوں میں چھ اضلاع پردوبارہ قبضہ کر لیا ہے افغان صدر کو یہ معلوم نہ تھا کہ امریکی میڈیا نے انکی آمد سے ایک دن پہلے یہ خبر دی تھی کہ طالبان اتنی تیزی سے پیشقدمی کر رہے ہیں کہ انہیں خود بھی یقین نہیں آرہا انکے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا ہے کہ وہ اگر چاہیں تو کئی صوبائی دارلحکومتوں پر قبضہ کر سکتے ہیں مگر وہ فی الحال شہروں کے مضافات کو فتح کرنے پر اکتفا کر رہے ہیں بائیڈن انتظامیہ افغانستان کی تیزی سے بگڑتی ہوئی صورتحال کا مکمل ادراک رکھتی ہے اسکے باوجود اشرف غنی اگر صدر امریکہ کو چھ اضلاع پر اپنے قبضے کی خبر سنا رہے تھے تو پھر یہی کہا جا سکتا ہے کہ
غالب نہ کر حضور میں تو بار بار عرض
ظاہر ہے تیرا حال سب ان پر کہے بغیر!
سی آئی اے اور پینٹا گون میڈیا کے ذریعے جو سنسنی خیز اطلاعات عوام تک پہنچا رہے ہیں اس سے اندازہ ہوتا ہے امریکی عوام کو کابل پر طالبان کے قبضے کیلئے ذہنی طور پر تیار کیا جا رہا ہے ایسے میں افغان صدر کو دورۂ امریکہ کی دعوت دینے کا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ دنیا بھر کو یہ تاثر دیا جائے کہ امریکہ ہر حال میں افغان حکومت کے ساتھ کھڑا ہے طالبان کی فتوحات کے بارے میں یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ ملک کے شمال میں وہ علاقے جوطالبان کے پانچ سالہ دور اقتدار میں (1996—-2001) انکے زیر تسلط نہ تھے اب انکے قبضے میں آگئے ہیں ان میں تاجکستان کی سرحد پر واقع شمالی اضلاع شامل ہیں واشنگٹن پوسٹ کی ایک خبر کے مطابق اشرف غنی نے دورہ واشنگٹن سے پہلے ملک بھر میں طالبان مخالف گروہوں سے ایک متحدہ محاذ بنانے کا کہا ہے تا کہ وہ افغان سیکیورٹی فورسز کیساتھ ملکر ملک میں امن و امان قائم کر سکیںامریکی اخبار نے نئے وزیر دفاع بسم اللہ خان محمدی کے اس بیان کا بھی ذکر کیا ہے جسمیں انہوں نے کہا ہے کہ تمام محب الوطن افغانوں کو متحد ہو کر حکومت کا دفاع کرنا چاہئے اور اس مقصد کیلئے انہیں اسلحہ بھی مہیا کیا جائیگا اخبار نے لکھا ہے کہ یہ گروہ مختلف وار لارڈز کے وفادار ہیں اور یہ کبھی بھی کابل حکومت کے احکامات پر عمل نہیں کریں گے ان میں سے بعض گروہ ایسے بھی ہیں جنہوں نے نوے کی دہائی میںکابل پر حملہ کرکے ہزاروں افراد کو ہلاک کیا تھا امریکی تجزیہ نگار کہہ رہے ہیں کہ عوام کو براہ راست حکومت کے دفاع پر آمادہ کرنے کی کوشش اشرف غنی حکومت کی بوکھلاہٹ ظاہر کرتی ہے امریکی میڈیا کے مطابق طالبان نے یکم مئی سے اب تک 104 اضلاع پر قبضہ کیا ہے یوں471 میں سے 165 اضلاع انکے کنٹرول میں آگئے ہیںن حالات میں امریکی صدر نے اشرف غنی کی ڈھارس بندھاتے ہوے کہا We are going to do our best to see to it you have the tools you need بعد ازاں اسکی وضاحت کرتے ہوے وائٹ ہائوس کی ترجمان Jen Psaki نے کہا کہ صدر بائیڈن فوجی‘ اقتصادی اور سیاسی تعاون کی بات کر رہے تھے صدر اشرف غنی نے ان امریکی فوجیوں کی تعریف کی جنہوں نے افغانستان کا دفاع کرتے ہوے اپنی جانیں قربان کیں افغان صدر نے یہ بھی کہا کہ امریکہ نے بیس برس تک مسلسل ہر ممکن ہماری مدد کی انخلا کے فیصلے کے بارے میں انہوں ایک سوال کے جواب میں کہا امریکہ کو یہ فیصلہ کرنیکا حق حاصل ہے مگر اس نے ہر کسی کو نئی صورتحال کا از سر نو جائزہ لینے پر مجبور کر دیا ہے صدر اشرف غنی نے اخبار نویسوں سے گفتگو کرتے ہوے کہا کہ ہم امریکہ کے ساتھ تعلقات کے ایک نئے دور میں داخل ہو رہے ہیں اس نئے دور میں افغانستان کو امریکی تعاون کی پہلے سے زیادہ ضرورت ہو گی
صدر بائیڈن نے کہا کہ انہوں نے کانگرس سے اگلے سال افغانستان کی فوجی اور مالی امداد کیلئے 3.3بلین ڈالرکی درخواست کی ہے اس موقع پر صدر بائیڈن نے افغانستان کیلئے تین ملین ویکسین کی خوراکوں کا اعلان بھی کیا اس گفتگو نے اس سوال کو جنم دیا ہے کہ کیا امریکی صدر کو یقین ہے کہ اگلے سال تک اشرف غنی حکومت امریکی امداد وصول کرنے کیلئے کابل میں موجود ہو گی یہ سوال جب اشرف غنی سے پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ انکی حکومت کے اختتام کی پیش گوئیاں پہلے بھی کی جا چکی ہیں مگر یہ پہلے بھی پوری نہیں ہوئیں اور اب بھی نہیں ہوں گی !!