عالمگیر

339

عالمگیر گیارہ اگست 1955 ء کو مشرق پاکستان موجودہ بنگلہ دیش میں پیدا ہوئے، ان کے والد فرموز الحق ایک نامی گرامی سیاست دان تھے اور پہلے آل انڈیا مسلم لیگ سے وابستہ رہے اور پاکستان بننے کے بعد ممبر قومی اسمبلی پاکستان بنے۔ ابتدائی تعلیم عالمگیر نے بنگلہ دیش (اُس وقت مشرقی پاکستان)میں حاصل کی اور پھر پندرہ سال کی عمر میں والدین کے ساتھ پاکستان آگئے۔
شروع ہی سے عالمگیر کو موسیقی سے لگائو تھا اور کم عمری میں ہی انہوں نے ’’Windy side of care‘‘نامی میوزیکل گروپ بنایا تھا جس میں وہ بطور گٹارسٹ شامل ہوئے مگر پھر گلوکاری بھی کرنے لگے۔
کراچی آجانے کے بعد عالمگیر کے والدین نے پی ای سی ایچ ایس میں رہائش اختیار کی، دن میں عالمگیر پڑھائی کرتے اور شام کو طارق روڈ پرواقع گلوبل ہوٹل میں اپنی گائیکی کا مظاہرہ کرتے۔ لوگ ان کے گانے کے انداز کو بہت پسند کرتے اور کسی نے ان کو پاکستان ٹیلی ویژن پر ہونے والے پروگرام ’’فروزاں‘‘ کے متعلق بتایا، فروزاں میں نئے نوجوان لوگوں کو موقع دیا جاتا تھا، عالمگیر پی ٹی وی پہنچے اور خوش قسمتی سے وہاں موسیقار سہیل رانا سے ملاقات ہو گئی، سہیل رانا ایک جوہری تھے اور عالمگیر ہیرا اور ہیرے کی پرکھ تو جوہری ہی جانتا ہے۔ انہوں نے فوراً ہی عالمگیر کو اپنے پی ٹی وی کے میوزک پروگرام ’’ہم ہی ہم‘‘ میں بطور گٹارسٹ آفر دے دی اور اس طرح عالمگیر آفیشلی میوزک ورلڈ میں داخل ہو گئے۔
1970ء میں عالمگیر نے پاکستان ٹیلی ویژن پر گانا شروع کیا اور ایک نئے قسم کا گانا تھا جو اس سے قبل صرف انگریزی زبان میں ہی سنا گیا تھا، عالمگیر نے اردو میںPop Mucisکو نہ صرف متعارف کروایا بلکہ یہ بے حد مقبول ہوا خاص طور سے نوجوانوں میں، نوجوان عالمگیر کو بے حد پسند کرتے اور یہ عالم تھا کہ جب پی ٹی وی کا ایک پروگرام ’’سنڈے کے سنڈے‘‘ جھیل پارک پر ریکارڈ ہوتا تھا تو وہ نوجوان ٹولیوں میں جمع ہوتے اور عالمگیر کی گائیکی اور فن سے لطف اندوز ہوتے۔ کچھ ہی عرصے میں پی ٹی وی پر POP موسیقی کا ایک پورا کلچر شروع ہو گیا۔ پوپ موسیقی کی مقبولیت اور پسندیدگی میں نازیہ حسن اور زوہیب حسن کے ساتھ ساتھ محمد علی شہکی کا بھی بہت بڑا ہاتھ ہے یہ بھی شائقین موسیقی میں بے حد مقبول تھے۔
بہت سے گلوکار ایسے ہوتے ہیں جن کے کچھ نغمے مقبول ہوتے ہیں اورکچھ اتنے نہیں پسند کئے جاتے مگر عالمگیر وہ گلوکار ہیں کہ جنہوں نے جو گایا ہنگامہ مچا دیا ان کا گایا ہر نغمہ بے حد مقبول ہوا چاہے ہو پوپ نغمہ ہو یا قومی گانا۔
عالمگیر کے مقبول ترین نغموں کی فہرست بہت طویل ہے جس میں سے کچھ یہ ہیں جیسے ’’دیکھا نہ تھا کبھی ہم نے یہ سماں، دیکھ تیرا کیا رنگ کر دیا، گوری پنگمنٹ پر تیرے، ہارٹ بیٹ، ہم سب کا پاکستان، کہہ دینا، مائوں کی دعا پوری ہوئی، خیال رکھنا، شام سے پہلے آنا‘‘ اور کئی اور خوبصورت نغمے۔ عالمگیر امریکہ شفٹ ہو گئے مگر پاکستان آنا جانا ہمیشہ رکھا، اپنے مداحوں سے ملتے رہے اور ان کیلئے گاتے رہے۔
عالمگیرکی والدہ کو گردوں کی تکلیف تھی اور یہی بیماری ورثے میںعالمگیر کو بھی منتقل ہو گئی۔ polycystic kidney diseaseجس کی وجہ سے انہیں ہفتے میں تین دفعہ Dialysis کروانی پڑتی، ڈاکٹروں کی تشخیص تھی کہ ان کے گردے ٹرانسپلانٹ ہونے چاہئیں اور گردوں کے حصول کیلئے ایک لمبی ویٹنگ لسٹ تھی۔ عالمگیر کیلئے یہ بہت مشکل وقت تھا، پوری قوم، عالمگیر کے چاہنے والے دعا کررہے تھے کہ ان کو Kidney مل جائے اور بالآخر وہ دن آگیا اکتوبر 2020 ء میں کئی سال کے انتظار کے بعد Matching کڈنی مل گئے اور اللہ تعالیٰ نے انہیں نئی زندگی عطاء کر دی۔ کچھ عرصے پہلے عالمگیر پرفارم کرنے ڈیلس (ٹیکساس) آئے اہل ڈیلس بہت پرجوش تھے ایک تو یہ کہ کورونا کے بعد یہ پہلا بڑا شو ہورہا تھا اور پھر یہ کہ ان کے پسندیدہ گلوکار عالمگیر اس طرح لائیو پرفارم کررہے تھے۔
لوگ فکر مند تھے، چہ میگوئیاں کررہے تھے، کیا عالمگیر اُسی طرح پرفارم کر پائیں گے؟ کہیں وہ اپنا جادو کھو تو نہیں بیٹھے؟؟ لیکن جس پر اللہ کا کرم ہو وہ کسی میدان میں پیچھے نہیں رہ سکتا، عالمگیر سٹیج پر آئے اور ڈھائی گھنٹہ اپنی آواز کا جادو جگایا بالکل اُسی طرح جیسے تیس سال پہلے سحر قائم کر دیتے تھے، نہ صرف اپنے بلکہ استاد نصرت فتح علی خان مرحوم کے ایسے گانے گائے جو کہ اتنے مشکل کہ بڑے بڑے گلوکار انہیں گانے کی ہمت نہیں پکڑپاتے۔
عالمگیر نے ڈیلس والوں کے دل جیت لئے، اللہ تعالیٰ بڑی دعائیں سننے والا ہے، اس کی بہترین مثال عالمگیر ہیں۔نہ صرف عالمگیر کو نئی زندگی دی اللہ تعالیٰ نے بلکہ ان کو وہی طاقت بھی عطا کی پرفارمنس کی جو 1970ء میں تھی۔ ہم عالمگیر کو نئی زندگی پر دلی مبارکباد پیش کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کو طویل صحت مند زندگی عطا کرے(آمین)