بوجھیں تو جانیں

249

میری سمجھ میں کچھ نہیں آتا۔ کاش مجھے کوئی سمجھائے۔یہ سوال میرے ذہن میں گردش کرتے رہتے ہیں اور ان کا جواب نہیں ملتا۔
احتساب کی عدالت میں پاکستانی سیاستدان جاتے ہیں، کر و فر کے ساتھ، پیشیوں پر پیشیاں بھگتے ہیں، میاں صاحب اور انکی دختر بد اختر، اور داماد نے ایک سو سے زیادہ پیشیاں بھگتیں اور نتیجہ کیا نکلا۔ میاں صاحب کو تھوڑی سی سزا ملی، دس سال قید کسی درجہ اول کے جیل میں، اور دامادتو ویسے ہی چھوٹ گیا، اور بیٹی کو لاہور ہائی کورٹ نے ضمانت پر رہا کر دیا کہ وہ اپنے بیمار باپ کی تیمار داری کر سکے۔ باپ کے پلیٹ لیٹس حد سے زیادہ گرِ رہے تھے۔ڈاکٹروں کی متفقہ رائے تھی کہ موصوف کا علاج صرف لندن میں ممکن ہے۔اس لیے ان کو وہاں جانے دیا جائے۔اس سارے معاملے میں اتنے سوال ابھرتے ہیں کہ کالم انہیں سے بھر جائے گا۔ لیکن خلاصہ یہ کہ کیوں کسی نے ان کی بلڈ رپورٹس کی صحت کی تصدیق نہیں کی اور کیوں ان کی بیٹی اب تک جیل سے باہر دندناتی پھرتی ہے؟سیاسی جلسہ کرتی ہے اور حکومت کے خلاف بیان بازی کرتی ہے۔ سازشیں بھی کرتی ہے اور پارٹی کے وفاداروں سے فوج اور ملک کے خلاف ہزلیات کرواتی ہے۔ اسے کیسے جیل سے اتنی لمبی رہائی دی گئی ہے؟
پاکستان میں بھٹو کے علاوہ بھی کتنے غداری کے واقعات ہوئے۔ اگر لوگ تہمینہ درانی کی کتابMy Feudal Lord کا مطالعہ کریں تو اس نے سابق شوہرمصطفیٰ کھر کی فوج کے خلاف بغاوت کا پورا نقشہ کھینچا ہے اور ہر بات تفصیل سے بتائی۔ لیکن حکومت اور فوج دونوں نے اس کی پردہ پوشی کی۔ کیوں؟ یہ علیحدہ بات ہے کہ پاکستانی حکومتیں باغیوں اور غداروں کے لیے نہایت نرم گوشہ رکھتی ہیں۔ بھٹو کو مشرقی پاکستان علیحدہ کرنے کا انعام دیا گیا، اسے شہید بھٹو کہا جاتا ہے۔ ابھی تھوڑے دن پہلے ایک نون لیگی رہنما نے فوج اور پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کی ، اس پر غداری کا الزام لگایا گیا لیکن کیا ہوا؟ وہ ضمانت پر رہا اور قومی اسمبلی میں بیان بازی کر رہا ہے۔ صرف ایک غدار کو سزا دی گئی ہے، شاید پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ اور وہ ہے ڈاکٹر شکیل آفریدی جس نے اسامہ بن لادن کا پتہ لگایا تھااور امریکنوں کو بتایا تھا۔وہ ابھی تک قید میں ہے۔مصطفیٰ کھر جسے پھانسی پر چڑھانا چاہیے تھا ، ابھی بھی آزاد ہے۔کیوں؟ میری سمجھ سے باہر ہے۔ایک اور سرٹیفیکیٹ یافتہ غدار حسین حقانی امریکہ میں عیش کی زندگی گزار رہا ہے۔حکومت اس کا کچھ نہیں کر سکتی۔کیوں؟
سارا پاکستان جانتا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت بد عنوان ہے۔ مسٹرٹین پرسنٹ کے خلاف آج تک کوئی ثبوت نہیں مل سکا جس سے اس کو سزا دی جا سکے۔ سارا زمانہ جانتا ہے اور میڈیا ڈھول پیٹ پیٹ کر زرداری کی کرپشن کی کہانیاں بتاتا ہے لیکن مجال ہے کہ زرداری کے خلاف ایک بھی الزام ثابت کیا گیا ہو۔ یہ کیسی احتساب عدالتیں ہیں اور انکا کیسا انصاف ہے؟ سندھ کی حکومت سرکاری ٹھیکوں سے کھلم کھلا بڑے بڑے کمیشن کھاتی ہے، لیکن کوئی کرپٹ سیاستدان اور اہلکار سزا نہیں بھگت رہا۔ کیوں؟
کتنے سالوں سے طالبان نے حشر برپا کیا ہوا ہے۔ پاکستان میں ساٹھ ستر ہزار افراد مارے جا چکے ہیں، لیکن آج تک یہ پتہ نہیں چلا کہ ان کو اسلحہ کہاں سے ملتا ہے اور فنڈز کہاں سے آتے ہیں؟ یہ طالبان خواہ پاکستان کے ہیں اور خواہ افغانستان کے۔ یہی سوال اسلامک سٹیٹ کے بارے میں ہے۔ یہ کس کی امداد سے اتنے زبردست فسادی گروہ بنے؟ یہ کوئی معمولی گروہ نہیں۔ یہ تربیت یافتہ، سابقہ فوجی ، اور انتہائی سفاک لوگ ہیں۔ اور بظاہر اسلامک سزائیں دیتے ہیں، یعنی سر دھڑ سے علیحدہ کرنا، وغیرہ۔ اور انہوں نے غیر ملکیوں کو قتل کیا، اور عورتوں کو لونڈیاں بنا کر رکھا۔ان کی حرکتوں سے شبہ پڑتا ہے کہ یہ صرف اسلام اور مسلمانوں کو دنیا میں بد نام کرنا چاہتے ہیں۔سوشل میڈیا پر ایک امریکی تجزیہ کارنے کہا ہے کہ داعش در اصل امریکہ اور اسرائیل کی سازش سے بنایا گیا ۔ ان کی حرکات سے تو یہی ظاہر ہوتا ہے ، کہ یہ مسلمانوں کو برا دکھانے کی سازش ہے۔ لیکن کیوں نہیں ان کا بھانڈا پھوڑا جاتا؟ ان کے پیچھے کونسی طاقتیں کام کر رہی ہیں؟
جب افغانستان کے طالبان نے لڑکیوں کے سکولوں کو گرانا شروع کیا، اور ان کی درس و تدریس کے ذرائع بند کرنے شروع کیے تو وہ کس اسلام پر عمل کر رہے تھے؟ کیا جماعت اسلامی نے انہیں یہی سکھایا تھا؟ یا وہ کسی اور مکتب فکر کے پیرو تھے اور ہیں؟ دنیا کے اسلامی ملکوں میں سوائے افغانستان کے شاید ہی کوئی اور ملک ہو گا جہاں لڑکیوں کی ثانوی اور اعلیٰ تعلیم کی اجازت نہ ہو؟ کیا اس صدی میں مسلمانوں کو اسلام کی ایسی تشریح کا سامنا کرنا ہو گا؟ راقم نے سنا ہے کہ سعودی عرب میں بھی جہاں وہابی مذہب کا نفاذ ہے، وہاں بھی لڑکیاں ثانوی اور اعلیٰ تعلیم حاصل کرتی ہیں۔
طالبان افغانستان میں ایک با قاعدہ قوت ہیں جنہوں نے امریکہ کو بھی ناکوں چنے چبوائے ہیں۔ اور اب کہتے ہیں کہ امریکن اور اتحادیوں کے جانے کے بعد پانچ دن میں وہ افغان حکومت کو گرا دیں گے۔ یہ بغیر کسی بڑی طاقت یا مالدار گروہوں کی اعانت کے کیسے ممکن ہو سکتا ہے؟یہ کہ دینا کافی نہیں کہ اسلحہ آسانی سے مل سکتا ہے اگر پیسہ ہو۔ اور پیسہ کیسے ملتا ہے، اس کا ہمیں پتہ نہیں۔کیوں؟ اگر آئی ایس آئی کو معلوم ہے کہ پاکستانی طالبان کو اسلحہ کہاں سے ملتا ہے اور مالی اعانت کہاں سے ملتی ہے تو وہ عوام کو بتاتے کیوں نہیں؟ بلوچستان میں اچھے بھلے باغی گروہ ہر کچھ دن بعد دہشت گردی کرتے ہیں؟ انہیں کھلم کھلا بھارت سے امدادآتی ہے، مگر پکڑی کیوں نہیں جاتی؟
سپریم کورٹ کے جج قاضی فائز عیسیٰ پر صدر پاکستان نے مقدمہ دائر کیا، کہ ان کی فیملی کی لندن میں قیمتی جائدادیں ہیں، وہ کس نے اور کن پیسوں سے خریدیں؟ ان کا حساب دیں۔ یہ مقدمہ کتنی دیر تو کھٹائی میں پڑا رہا، پھر اس پر دھواں دھار سماعت ہوئی، اور لگتا تھا کہ قاضی صاحب نے سارا ملبہ بیگم اور بچوں پر ڈال دیا۔ بھلا ان کے پاس اتنا زر مبادلہ کہاں سے آیا؟ اور عدالت عالیہ نے سب کچھ کہا سنا معاف کیا اور سنا گیا ہے کہ اس مقدمہ کی وجہ سے آیندہ کسی جج پر ایسا الزام نہیں لگایا جا سکے گا۔دوسرے اور تیسرے لفظوں میں ، جج صاحبان کو کھلی چھٹی مل گئی ہے کہ وہ جتنی مرضی جائدادیں جہاں چاہے بنائیں ، ان سے اس کا حساب نہیں مانگا جا سکے گا؟ کیا میں غلط سمجھ رہا ہوں؟ خدا کرے کہ میری سمجھ کا ہی قصور ہو۔ورنہ پلیز مجھے سمجھائیں، کہ ایسا کیسے ممکن ہے؟
اب ذرا کرپشن کی بات کر لیں۔ عمران خان ایک جہاد کی طرح یہ جنگ لڑ رہے ہیں۔یہ کوئی راکٹ سائنس نہیں کہ حکمران ، ان کے کارندے جنہیں سول سروس کہتے ہیں، اور ان کے ساتھی سیاستدان کیسے کرپشن کرتے ہیں؟ جو نچلے درج کے سرکاری ملازمین ہیں، وہ تو سیدھی سیدھی کام کرنے کی رشوت لیتے ہیں۔ ان میں پولیس، پٹواری، کسٹم، اور ہر محکمے کے کارندے شامل ہیں۔ یہاں نقدی سے لین دین کیا جاتا ہے جس کا کوئی ریکارڈ نہیں ہوتا۔آج کے زمانے میں رشوت کے ریٹ مقرر ہو چکے ہیں۔سرکاری محکمہ میں بھرتی ہو تو عہدہ کی مناسبت سے رشوت کا تعین ہوتا ہے۔ نقدی دے کر کام کروانے کا طریقہ اتنا پرانا ہے کہ کسی زمانے میں محکمہ انسداد رشوت ستانی نے اگر کسی کو رنگے ہاتھوں پکڑنا ہوتا تو اس کو مجسٹریٹ کے دستخط شدہ کرنسی نوٹ دیے جاتے تھے اور پھر ان نوٹوں کو لینے والے کو گرفتا رکر لیا جاتا تھا۔ اب یہ طریقہ بھی متروک ہو چکا ہے کیونکہ انسداد رشوت ستانی والے خود ہی رشوت لے رہے ہوتے ہیں۔مگر کیسے؟
اعلیٰ سطح پر رشوت کا طریقہ طے شدہ ہوتا ہے۔ حکومتی حکام سرکاری منصوبے کو ٹھیکیداروں کو دیتے ہیں۔ کیونکہ حکومت خود ایسے منصوبوں پر عملدرآمد نہیں کرتی، اور نجی کمپنیوں کو بذریعہ ٹینڈر دیتی ہے۔ ٹینڈر بھرنے والوں کے ساتھ در پردہ سودا کر لیا جاتا ہے کہ منصوبہ کی کل لاگت کا کتنے فیصد کمیشن کے طور پر منصوبہ پاس کرنے والوں کو ملے گا۔نجی کمپنی اسی حساب سے ٹینڈر کی مجموعی لاگت کو بڑھا کر بھرواتی ہے۔ حکام جس ٹینڈر کو منظور کرتے ہیں ، اس کو بھرنے والی کمپنی سے یہ بھی طے ہو جاتا ہے کہ کمیشن کا پیسہ کب اور کیسے دیا جائے گا۔ اب آپ سمجھ گئے ہونگے کہ معمولی آمدنی والے اشخاص کے بینک اکائونٹ میں کیسے کڑوڑوں، اربوں روپے جمع ہو جاتے ہیں۔ میرا سوال یہ ہے کہ جب کوئی ایسا اکاونٹ دریافت ہوتا ہے تو یہ نا ممکن ہے کہ بینک کے منیجر کو یہ پتہ نہ ہو کہ کس نے یہ رقم جمع کروائی، اور کس مد میں؟ کیا محکمہ احتساب بینک کے منیجر کو پوچھتا ہے؟ یا یہ قانوناً کیا نہیں جا سکتا؟ ۔ ایک عرصہ سے بینکوں کی کارکردگی پر بہت سے قدغنیں لگ چکی ہیں۔ اس لیے بینک منیجر اتنی بڑی رقوم کو ایک معمولی سے اکاونٹ میں بغیر چھان بین کے نہیں ڈال سکتے۔ان سب رقوم کے ماخذ کا پتہ کرنا کونسا مشکل کام ہے؟ لیکن آج تک یہ تو میڈیا مزے لے لے کر بتاتا ہے کہ دہی بھلے والے کے اکاونٹ میں ایک ارب روپے پائے گئے لیکن اس کی تفتیش پر کوئی خبر نہیں دی جاتی۔کیوں؟ راقم دو تین سال پہلے لاہور کے سٹینڈرڈ چارٹر بینک میں اپنا بند اکائونٹ کھلوا کر بحال کروانا چاہتا تھا، لیکن بینک نے درجنوں بہانے بنائے اور وہ اکاونٹ نہیں کھلنے دیا کیونکہ میرے نادرا کارڈ پر امریکہ کا پتہ بھی لکھا تھا۔ لیکن زرداری صاحب کے اور میاں نواز کے گھریلو ملازموں کے بینک اکاونٹس میں جتنا مرضی پیسہ جمع کروا دیں۔ اگر سٹیٹ بینک چاہے تو پاکستان کے سارے بینکوں میں اس قسم کے سارے اکاونٹس کا کچا چٹھا دنوں میں حاصل کر سکتا ہے ۔ لیکن کیا وہ کرتا ہے؟ کبھی سنا نہیں۔ کیوں؟
کیا پاکستان کے سب ادارے اس کرپشن کے کاروبار میں ملوث ہیں؟ اس میں ایف بی آئی کیا، اور عدالتیں کیا اور سٹیٹ بینک کیا؟
میں نے کبھی نہیں سنا کہ کسی بھی سرکاری ٹھیکیدار سے کبھی پوچھا گیا ہو، کہ اس نے کتنا کمیشن دیا اور کس کو؟ ہمیشہ سیاستدان ، اورسرکاری ملازموں سے سوال کیے جاتے ہیں ۔ اگر ٹھیک سے کمیشن دینے والوں سے پوچھا جائے کہ انہوں نے کس کو کمیشن دیا اور کیسے دیا تو کوئی نہ کوئی تو بول پڑے گا۔ ہماری ایجنسیوں کو بلوانے کے طریقے آتے ہیں۔ یہ سب کو معلوم ہوتا ہے کہ کس کس ٹھیکیدار نے سرکاری منصوبہ پر کام کیا تھا، تو ان کے سیل فون اور دوسرے فون ، اور انکے مالی کتابچے قابو میں کر کے دیکھیں کہ کیا کیا لین دین ہوئے اور کس کے ساتھ؟
یہ اور ایسے بہت سے سوال جواب طلب ہیں۔ لیکن وہ جواب کیوں نہیں ملتے؟ غالباً اس لیے کہ اداروں پر الزام لگانا اچھی بات نہیں۔ ادارے یا نا اہلوں سے بھرے ہوئے ہیں یا جو جانتے ہیں اسے پردہ میں رکھنا ہی سب کی بہتری ہے۔ بڑے کہتے ہیں کہ جس سوال کا جواب ہم سننا نہیں چاہتے وہ سوال کرنا ہی نہیں چاہیے۔ لیکن ایک عام پاکستانی بن کر پوچھنا تو ہمارا حق بنتا ہے کہ نہیں؟