کل روس آج امریکہ کا انخلا اور افغانستان

284

امریکی فوجیں دوبارہ پھر 1989 کی طرح افغانستان کو چھوڑ کر جارہی ہیں جن کو افغانستان میں بھی ویتنام کی طرح شکست فاش کا سامنا کرنا پڑا۔ ایسے موقع پر اب افغانوں خصوصاً طالبان کو فتح مکہ ، ویت نام اور سائوتھ افریقہ کو یاد رکھنا ہو گا تاکہ انسانیت کا مزید خون نہ بہہ پائے ۔فتح مکہ سے کھلم کھلا سبق ملتا ہے کہ جب مسلمانوں نے بغیر جنگ مکہ کوفتح کر لیا تو حضور پاک ﷺ نے حکم دیا کہ کفار مکہ جو بھی ابوسفیان کے گھر پناہ لے گا اُسے معاف کر دیا جائے یہ جانتے ہوئے کہ ابوسفیان مسلمانوں کا دشمن رہا تھا جس کی بیوی ہندہ نے حضور پاک ﷺ کے سگے چچا اور دوست حضرت امیر حمزہ ؓ کی لاش کی جنگ احد میں بے حرمتی کی تھی جس کے بعد بھی کفار مکہ کو معاف کر دیا گیا۔ پچھلی صدی میں ویتنام میں جب امریکہ کو ویت نام کی شکست فاش کے بعد بھاگنا پڑا تو ویت کانگ حریت پسندوں کے رہنما ہوچی منہ نے ان ویت کانگوں کی عام معافی کا اعلان کر دیا جنہوں نے جنگ آزادی کے دوران امریکی فوج کا ساتھ دیا تھا جس کی بدولت آج ویت نام دنیا کا ایک ترقی یافتہ ملک بننے جارہا ہے۔ اسی طرح سائوتھ افریقہ کے سیاہ فاموں نے اپنی قیادت نیلسن منڈیلا جو 27برس تک سفید فام نو آبادیاتی استعماری طاقتوں کی جیل میں رہے تھے جنہوں نے ایک چار سو سالہ جنگ جیتی تھی انہوں نے فتح کے بعد سائوتھ افریقہ میں سفید فام، سیاہ فام اور دوسری اقلیتوں کے درمیان ایک مصالحتی معاہدے کے تحت سائوتھ افریقہ کو ایک مثالی ریاست بنا کر پیش کیا کہ آج کسی سیاہ فام، سفید فام اور دوسری نسلوں کو ایک دوسرے پر فوقیت حاصل نہیں ہے جس کی وجہ سے سائوتھ افریقہ سابقہ جنگوں کی آماجگاہ آج امن کا گہوارہ بن چکا ہے جس کے بعد افغانوں کے پاس کوئی دوسرا بہانہ نہیں ہے کہ وہ افغانستان کو مزید خون خرابے سے بچا پائے کیونکہ خانہ جنگی میں کسی کی جیت نہیں ہو گی ۔72ء کی دہائی کے آخر میں افغانوں کا نظریات پر مبنی انقلاب افغانستان برپا ہوا جس میں بادشاہت اور آمریت کا خاتمہ ہوا۔ بادشاہ ظاہر شاہ ملک بدر اور آمر دائود مارا گیا ملک پر سیاسی اور معاشی اصلاحات نافذ ہوئیں۔ صدیوں کی محروم افغان خواتین کو حقوق ملے۔ ملک میں عام تعلیم کا دوردورے کا آغاز ہوا۔ افغان حکومت نے روس کی مدد سے ملک بھر میں سڑکوں اور تعمیروں کا جال بچھایا جس کے خلاف بین الاقوامی سامراجی اور استعماری طاقتوں نے اعلان جنگ کیا جس میں پاکستان کو بری طرح استعمال کیا گیا جس کی وجہ سے آج پاکستان روز بروز ڈوبتا جارہا ہے۔ کبھی افغانستان میں امریکی پرائی جنگ کو جہاد یا فساد کا نام دیا گیا کبھی دہشت گردی کی نام نہاد جنگ کے نام پر افغانوں کا قتل عام کیا گیا جو اب تک ڈھائی ملین افغان مارے جا چکے ہیں جبکہ افغانستان وہ ملک ہے جو کل ہندوستان پر حکمران مسلط کرتا چلاآرہا تھا وہ آج دنیا کا کمزور ترین ملک بن چکا ہے۔ چنانچہ آخر کار 1989 میں روس، امریکہ، پاکستان اور افغانستان کے درمیان ایک چار طرفی معاہدہ ہوا کہ افغانستان سے روس کی فوجوں کا انخلاء ہو گا۔ افغانستان میں مشترکہ حکومت بنے گی۔ افغانستان میں امن قائم کیا جائے گا وغیرہ وغیرہ مگر روس کے انخلاء کا سن کر مجاہدین یا فسادین کابل پر چڑھ دوڑے جن کے ٹینک اور بکتر بند گاڑیاں آپس میں ٹکرانے لگیں جس سے کابل میں خون کی ندیاں بہنے لگیں کہ ایک دن پاکستان نے طالبان کو اپنی گاڑیوں پر بٹھا کر کابل پر چھوڑ دیا جنہوں نے جہادیوں کو مار بھگانے کے علاوہ لوگوں کی لاشوں کو سڑکوں پر لٹکا دیا۔ افغانستان کے صدر ڈاکٹر نجیب جنہوں نے افغانستان کو ایک جدید ریاست بنانے کی کوشش کی تھی ان کی لاش کئی دن تک بجلی کے کھمبے کے ساتھ لٹکتی رہی۔ لاشوں کی بے حرمتی جاری رہی کہ ایک دن وہ آگیا کہ جب امریکہ نے حسب منصوبہ بندی نائن الیون حملوں کی آڑ میں افغانستان پر حملہ کر دیا جس میں کارپٹ بمباری کی گئی جس کے خوف سے انسان، حیوان، چرند پرند ملک چھوڑکر بھاگ گئے۔ جس کے بعد کابل پر امریکی نظام سقوں کو اقتدار پر بٹھا دیا گیا جو آج تک قابض ہیں جبکہ افغانستان پر تقریباً 75فیصد علاقوں پر طالبانوں کا قبضہ ہے۔ جو روز بروز کابل کی طرف بڑھ رہے ہیں جو امریکی فوجوں کے انخلاء کے بعد کابل پر قابض ہو جائیں گے جس کے بعد پھر ایک طویل ترین خانہ جنگی چھڑ جائے گی جس میں انسانی خون کی ندیاں بہہ جائیں گی جس کا مذہب اسلام یا دنیا کا کوئی قانون اجازت نہیں دیتا، بشرطیکہ قبضہ کرنے والی طاقتیں مہذب دنیا سے واقف ہوں۔ جس کے آثار افغانوں میں نظر نہیں آتے جو قدیم حملہ آوروں کی اولادیں اور نسلیں ہیں جن کا لوٹ مار قتل و غارت گری پرانا پیشہ ہے۔
بہر کیف افغانستان میں اب تک بے تحاشہ خون بہہ چکا ہے جن کے ڈھائی ملین افراد مارے جا چکے ہیں۔ لاکھوں کی تعداد میں ترک وطن ہو کر دنیا بھر میں پناہ گزین ہو چکے ہیں۔ پورا ملک قاتلوں،دہشت گردوں، لوٹ مار کرنے والوں کی آماجگاہ بن چکا ہے یہاں جنگجوئوں کے علاوہ کچھ نظر نہیں آتا۔ بہرحال اگر افغانوں کو مسلمانوں کی فتح مکہ اور طائف کے لوگوں کی زیادتیوں کا علم ہو تو وہ کفار مکہ اور طائف کے ظالموں کو معاف کرنے کے طریقہ کار اپناتے ہوئے ایک دوسرے کو معاف کر دینا ہو گا۔ اگر افغان آزادی اور حریت پسندی پر یقین رکھتے ہیں تو ویت کانگوں اور سائوتھ افریقن کی طرح بدلے اور انتقام سے اجتناب کریں۔ اگر وہ اسلامی روایات کے قائل ہیں تو وہ بزرگوں، عورتوں اور بچوں کی حفاظت کریں لہٰذا اگر افغان مذہب اسلام کے پیروکار اسلامی روایات اوراحکامات پر عملدرآمد نہیں کریں گے تو ایک ہولناک اور خوفناک خانہ جنگی کے شکار ہو جائیں گے جس میں تمام بڑی طاقتیں شریک ہوں گی جس میں وہ دن دور نہیں ہے کہ جب افغانوں کا بچہ تک نہیں ملے گا کیونکہ خانہ جنگی میں صرف انسانی خون بہتا ہے۔ انسان مرتا ہے ریاست تباہ و برباد ہوتی ہے۔ ملک میں ویرانی اور بیابانی کا سماں پیدا ہوتا ہے مگر کسی بھی گروہ یار پارٹی کو فتح نہیں ملتی ۔جس میں خساروں کے علاوہ کچھ نہیں ملتا ہے۔