مجرموں کو سزائیں کب ملیںگی؟عوام میں مایوسی بڑھ رہی ہے!

275

معزز قارئین! آپ بخوبی جانتے ہونگے کہ جب انسان کا ضمیرمر جاتا ہے تو احساس ندامت، شرافت، مذمت، ہزیمت، شرمندگی ان احساسات سے مکمل چھٹکارا پا لیتا ہے۔ اس کی زندگی میں صرف اپنا مفاد اور اپنے اہل خانہ کا بھلا رہتا ہے۔ دولت لوٹنے کے ہزاروں طریقے اپنا لیتا ہے۔ خود ساختہ اعلیٰ ترین شخصیت بن جاتا ہے۔ غرور اور تکبر میں ڈوبا ہوا اپنے اردگرد سے بالکل بے بہرہ ہو جاتا ہے۔
ایک جوہری کا ہیرا کسی چوہے نے نگل لیا اس کی دکان میں بہت چوہے تھے اس نے چوہے مارنے والے کو بلوایا اور کہا معلوم کر کس چوہے نے میرا ہیرا چرایا ہے چاہے سب کو مارنا ہی کیوں نہ پڑے۔ چوہا مار بڑے غور سے چوہوں کا معائنہ کرتا رہا آخر ایک چوہا ذرا دور الگ چپ چاپ بیٹھا تھا اُسے مار دیا۔ سنار نے پوچھا تو نے اس چوہے کو مارنے کا فیصلہ کیوں کیا؟ تو چوہے مار بولا جوہری!جب کسی کے پاس دولت آجاتی ہے تو وہ اسی طرح سے لاتعلق الگ تھلگ بیٹھ جاتا ہے اس میں غرور اور تکبر آجاتا ہے اور وہ اپنے برابر کسی کو نہیں سمجھتا۔ چوہے مار نے جوہری کا ہیرا اُس چوہے سے برآمد کر لیا۔
اسی طرح یہ لوگ جنہوں نے ملکی دولت لوٹی تھی۔ عوام کو غربت کی چکی میں پیستے ہوئے بہت اونچی کرسی پر جا بیٹھے
ہمیں ہی جرأت اظہارکا سلیقہ ہے
صدا کا قحط پڑ گیا تو ہم ہی بولیں گے!
چیف جسٹس گلزار نے سندھ کے حکمرانوں کی کرپشن کا کچا چٹھہ کھول کر رکھ دیا۔ بلاول کی دم پر پیر رکھ دیا تو وہ خوخیانے لگا اور اس کے غلیظ منہ سے گالیوں کو فوارہ ابل پڑا۔ اس سے بڑا کمینہ پن کیا ہو گا کہ ملک کے سب سے اعلیٰ عدالتی ادارے کے چیف کو گالیاں دی جائیں؟ اسی لئے موصوف کے خلاف بڑی کارروائی کی جائے گی۔ چیف جسٹس صاحب سے التماس ہے کہ ان کے جتنے جرائم کی نقاب کشائی کی گئی ہے اس کے خلاف سخت تادیبی کارروائی کی جائے۔ ان جاہلوں کو جو لوٹی ہوئی دولت پر گھمنڈ اور غرور میں ڈوبے ہوئے ہیں جھنجھوڑ کر جگایا جائے اور بتایا جائے کہ ملکی اداروں کا احترام کس طرح کیا جاتا ہے۔ یہ اپنے خریدے ہوئے پھٹوئوں کے کندھے پر سوار ہر قسم کے جرائم کی ترغیب دیتے ہیں۔ عدالتوں سے من پسند فیصلے کرواتے ہیں۔ ایسا نہیں ہونا چاہیے۔ دوسرے ایک ایڈیشنل آئی جی ہیں جو سندھ میں کافی مشہور ہیں۔ جمیل نام ہے۔ بھتہ خوری، زمین پر قبضوں، محکمے میں ردوبدل پر موصوف 15 سے 20لاکھ تک ہفتوں میں کماتے ہیں۔ کوئی پرسان حال نہیں اب وزیراعظم ان کے خلاف خود کارروائی کریں گے۔ اب جبکہ جرائم کی نشاندہی ہو گئی ہے سزائوں کا اجراء بھی ہونا چاہیے تاکہ عوام کے دکھوں کا ازالہ ہو سکے۔ یہ تو ایسا ہی ہو گا کہ ایک سرجن نے زخم کا پتہ لگایا اُسے سب کے سامنے کر دیا اور چھوڑ دیا کوئی علاج نہ کیا تو نشتر بھی نہ لگانا تھا۔ اس صورت حال سے عوام میں مایوسی پھیل رہی ہے اور جرائم پیشہ کھل کر جرائم میں ملوث ہیں۔ انہیں کوئی خوف نہیں کیونکہ قانون کا شکنجہ مضبوط نہیں۔ رشوت کھانے والے قانون کے رکھوالے مجرمان سے لیا ہوا پیسہ حلال تو کریں گے ناں ورنہ ان کی بھی گردن ناپ لی جائے گی۔
پاکستان کی مغرب زدہ خواتین سے ایک سوال ہے۔ آپ انگریزی بولتی ہیں۔ انگریزی لباس زیب تن کرتی ہیں۔ برسبیل تذکرہ آپ کا مذہب کیا ہے؟ کہتی ہیں ’’ہم مسلمان ہیں‘‘ تو محترمہ اسلام نے کچھ اصول اور سنت کے بارے میں بیان کیا ہے۔ آپ اس کی پیروی کرتی ہیں’’جی ہاں‘‘ تو پھر آپ اپنی ستر پوشی کے بارے میں کیا جواز پیش کریں گی؟ ’’عورت مارچ‘‘ میں ہیت کذائی سب نے دیکھی۔ آپ کے نشیب و فراز کو سب نے سراہا اور آنکھیں سینکیں، چشم مامنور، دل ماشاد والامعاملہ رہا۔ آپ نے اوباش لوگوں کو خوب دعوت نظارہ دیا۔ یہ آپ کا احساس کمتری کا منہ بولتا ثبوت ہے۔آپ نے اس قول کی بھی نفی کر دی کہ ’’جس میں حیاء نہیں، اس میں ایمان نہیں‘‘ ایمان کی ایک شرط شرم و حیا بھی ہے اور آپ نے تو اس قول کے پرخچے اڑا دئیے۔ اسلام نے جنس نحیف اور جنس قوی دونوں کے بارے میں اصول قواعد، زندگی گزارنے کے صحیح طریقے بتا دئیے۔ مرد گھر کا سربراہ ہے گھر والوں کی کفالت اس کا ذمہ ہے عورت گھر کی رکھوالی کرتی ہے۔ مرد کی کمائی کا صحیح استعمال اولاد کی اچھی تربیت اس کا ذمہ ہے اور اگر اخراجات پورے نہ ہو رہے ہوں تو اُسے ملازمت کی بھی اجازت ہے۔ مردوں کے ساتھ کام کرنے بھی ممانعت نہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ ستر پوشی کے بارے میں ہدایات ہیں۔ جسم کے نشیب و فراز کو چھپانا، بالوں کو قاعدے سے حجاب کے اندر رکھنا، گھر میں بھی باپ بھائی کے سامنے قاعدے سے دوپٹہ اوڑھنا وغیرہ۔ آپ اِسے غلط نہیں کہہ سکتے، اس لئے کہ ان مقدس رشتوں نے بھی عصمتوں کو تار تار کیا ہے۔
مغرب کی نقالی میں آپ اپنا وقار، کلچر، روایات کا جنازہ نکال رہی ہیں۔ آپ سے اگر کوئی یہ سوال کرے کہ آپ کا ملک کون ساہے؟، آپ کا نیشنل لباس کیا ہے؟ آپ کی مادری زبان کیا ہے تو آپ بغلیں جھانکنے لگیں گی۔ بڑی مضحکہ خیز صورتحال ہو گی۔
شرم و حیا جز و ایمان اُسے نہیں بھولنا چاہیے۔ اسی چیز کی نشاندہی وزیراعظم نے کی تھی تو خواتین چراغ پا ہو گئیں۔ ایک طرف ہو جائیے آدھا تیتر آدھا بٹیر مت بنیے ورنہ اسلامی معاشرہ آپ کو قبول نہیں کرے گا۔ اللہ کے واسطے تعلیم کی حد تک مغربی زبان سے آشنائی ضرور کروائیے لیکن طور طریقے اور لباس اسلامی ہو۔ اسی میں آپ کی عزت ہے۔ بیٹوں کی پونی سیٹل کیجئے، بیٹیوں کو بکنی مت پہننے دیجئے۔ انہیں مردانہ لباس زیب تن مت کرنے دیجئے۔ لڑکے کانوں میںایئر رنگ اور گلے میں چین اتار دیں۔ بھارت جا کر جو ہماری خواتین نے اپنی تہذیب اور روایات کا جنازہ نکالا ہے وہ چشم کشا ہے۔ !!شراب کباب بھی خوب۔