اقوام متحدہ کے ماہرین کی مغربی کنارے کے انضمام کے اسرائیلی منصوبے کی مذمت

255

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے کم از کم 50 ماہرین نے اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ مغربی کنارے کے انضمام کے منصوبے کو ‘اکیسویں صدی کی عصبیت کا وژن’ قرار دیتے ہوئے مذمت کردی۔

واضح رہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے کہا تھا کہ جولائی میں انضمام کا عمل شروع ہوسکتا ہے تاکہ یہودی آبادکاری سے اسرائیل کی خود مختاری قائم کی جائے۔

دوسری جانب فلسطینیوں نے اس منصوبے کو مسترد کرتے ہوئے یکطرفہ اور حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا۔

اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کی جانب سے منتخب کیے گئے 47 ماہرین نے کہا کہ ‘مقبوضہ خطے کا انضمام اقوام متحدہ کے منشور، جنیوا کنونشن کی کھلی خلاف ورزی اور سلامتی کونسل اور جنرل اسمبلی کے توثیق شدہ بنیادی قوانین کے برعکس ہوگا’۔

انہوں نے کہا کہ ‘اسرائیل کا قبضہ پہلے ہی فلسطینیوں کے حقوق کی خلاف ورزی ہے اور انضمام کے بعد اس کی مزید توثیق ہوگی’۔

اقوام متحدہ کے ماہرین کا کہنا تھا کہ ‘اسرائیل نے حال ہی میں وعدہ کیا تھا کہ بحیرہ روم اور دریائے اردن کے درمیان مستقل بنیادوں پر سلامتی کو برقرار رکھے گا’۔