پانی اورمٹی صاف کرنے اور دوا پہنچانے والے نینوتیراک روبوٹ

323

بولڈرسٹی، امریکہ:: نینوٹیکنالوجی کا نام اب اکثرلوگوں کے لیے اجنبی نہیں رہا۔ اس ضمن میں یونیورسٹی آف کولاراڈو کے سائنسدانوں نے بہت ہی چھوٹے، پھرتیلے، خود سے تیرنے والے اور تیزرفتار نینوروبوٹس بنائے ہیں جنہیں صنعت، زراعت اور طب میں استعمال کیا جاسکتا ہے۔

اب تک تیرنے والے جتنے بھی نینوروبوٹس بنائے گئے ہیں ان کے مقابلے میں یہ 20 گنا زائد تیزرفتار ہیں اور کئی رکاوٹوں کو آسانی سے عبور کرسکتے ہیں۔ یہ بہت ہی باریک جوف (کیوی ٹی) سے گزرسکتےہیں خواہ ان کی ساخت بھول بھلیوں جیسی ہی کیوں نہ ہو۔ اس طرح یہ آلودہ مٹی میں سرایت کرکے اس کی صفائی کرسکتےہیں، جسم کے اندر گوشت بھرے حصے میں پہنچ کر دوا ڈال سکتے ہین یا پھر نہایت مؤثر واٹر فلٹر بناسکتے ہیں۔

کولاراڈو یونیورسٹی کے سائنسداں ڈاکٹر ڈینیئل شوارٹز نے اسے بنایا ہے۔ گزشتہ 20 برس سے نظری طبیعیات داں ایسے ہی نینو تیراک روبوٹ کے خواب دیکھ رہے ہیں۔ لیکن اس وقت ٹٰیکنالوجی اتنی ترقی یافتہ نہیں ہوئی تھی۔ تاہم اب یہ تیار کئے گئے ہیں اور انہیں جینس ذرات کا نام بھی دیا گیا ہے۔ پالیمر اور سلیکا سے تیار روبوٹ کا سرا دو حصوں پرمشتمل ہے۔ اس کا ایک حصہ کیمیائی عمل انجام دیتا ہے اور دوسرا غیرسرگرم رہتا ہے۔ اس سے ایک طرح کا کیمیائی فیلڈ بنتا ہے اور یوں روبوٹ کسی سانپ کی طرح تیرتے ہوئے آگے بڑھتا رہتا ہے۔