افغانستان میں تیز سیاسی پیش رفت سے پاکستان کی کوششوں کو ٹھیس پہنچے گی، رپورٹ

261

واشنگٹن: بین الاقوامی رپورٹ کے مطابق افغانستان سے غیر ملکی افواج کے تیزی سے انخلا، امن مذاکرات میں تعطل اور بڑھتے ہوئے تشدد کی وجہ سے پاکستان کی ان کوششوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے جو اقتدار کی تقسیم کے انتظامات کے ذریعے طالبان کی مبینہ طور پر کابل واپسی سے متعلق ہیں۔

‘انٹرنیشنل کرائسز گروپ’ نامی تھنک ٹینک کی ‘پاکستان: افغان امن عمل کی سپورٹ’ نامی رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ افغان امن عمل تیز تر ہوتا ہے یا پوری طرح سے ناکام ہوجاتا ہے کسی بھی صورت میں اسلام آباد کے کابل اور واشنگٹن کے ساتھ تعلقات خراب ہوجائیں گے۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ افغانستان میں مزید عدم استحکام یا طالبان کی کامیابی سے پاکستانی عسکریت پسندوں کو ان کے افغان ہم منصبوں کے ساتھ جوڑ کر پاکستان میں عدم تحفظ کو مزید تقویت مل سکتی ہے۔

رپورٹ میں اسلام آباد پر زور دیا گیا کہ وہ عدم اعتماد کو کم کرنے کے لیے کابل سے بات کرے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان کو اپنے تعلقات کی بنیاد پر حاصل اثر و رسوخ کو استعمال کرتے ہوئے تشدد کو کم کرنے اور دوسرے افغان اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ اقتدار میں شیئرنگ کے انتظامات پر سمجھوتہ کرنے کے لیے طالبان پر دباؤ ڈالنا چاہیے۔