میانمار: فوجی بغاوت کے خلاف احتجاج کرنے والے ہزاروں مظاہرین رہا

240

میانمار کی انتظامیہ بغاوت کے خلاف احتجاج کرنے والے 2 ہزار سے زائد مظاہرین کو رہا کر دیا جن میں وہ مقامی صحافی بھی شامل ہیں جنہوں نے جنتا کے خونی کریک ڈاون کے خلاف تنقیدی رپورٹنگ کی تھی۔

فروری میں فوجی بغاوت کے نتیجے میں آنگ سان سوچی اور ان کی حکومت کا تختہ الٹائے جانے کے بعد شدید احتجاجی مظاہرے کیے گئے تھے، جس پر فوج نے ظالمانہ ردعمل دیا تھا۔

مقامی مانیٹرنگ گروپ کے مطابق ریاستی منتظم کونسل کی جانب سے کریک ڈاؤن میں 880 سے زائد شہری ہلاک اور لگ بھگ 6 ہزار 500 افراد کو گرفتار کیا گیا تھا۔

ایک رپورٹر کے مطابق انتظامیہ کی جانب سے قیدیوں کو رہا کرنے کے اعلان کے بعد پیاروں کی رہائی کی امید میں تقریباَ 2 سو سے زائد افراد نوآبادیاتی دور کی ینگون جیل کے باہر جمع ہوگئے۔

مقامی میڈیا پر نشر ہونے والی ویڈیو میں دیکھا گیا کہ رکاوٹوں کو پار کرنے آنے والے افراد میں سے کئی نے بارش سے بچنے کے لیے چھتری لے رکھی تھی جبکہ ایک خاتون نے پھول اٹھا رکھے تھے۔